اُمت ڈیسک رپورٹ
جموں و کشمیر میں ریاستی درجےکی بحالی کے مطالبے پر سیاسی کشمکش مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ نئی دہلی میں نیشنل کانفرنس کے احتجاجی مظاہرے میں دیگر بڑی کشمیری جماعتوں کی عدم شرکت کے بعد وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے سیاسی حریفوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے ریاستی مفاد کے ایک اہم معاملے پر اتحاد کا مظاہرہ کرنے کے بجائے تحریک کو ناکام بنانے کی کوشش کی۔
سرینگر میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتوں نے نہ صرف احتجاج سے خود کو الگ رکھا بلکہ سوشل میڈیا اور عوامی بیانات کے ذریعے اس کی اہمیت کو کم کرنے کی بھی کوشش کی۔ انہوں نے اردو کا ایک شعر پڑھتے ہوئے کہا کہ’’ میدان میں اُترنے والے ہی کامیابی یا ناکامی کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ کنارے بیٹھ کر تنقید کرنا آسان ہوتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ مرکزی حکومت ان کے احتجاج پر کیا ردعمل ظاہر کرے گی، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جو جماعتیں خود کو جموں و کشمیر کی خیر خواہ قرار دیتی ہیں، وہ ایسے نازک مرحلے پر متحد ہونے کے بجائے سیاسی اختلافات کو ہوا دے رہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے یاد دلایا کہ سنہ 2000 میں جب نیشنل کانفرنس کی حکومت نے جموں و کشمیر اسمبلی میں داخلی خودمختاری کی قرارداد منظور کی تھی، تب بھی پارٹی کو شدید سیاسی مخالفت اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، مگر وقت نے ثابت کیا کہ وہ ریاست کے آئینی حقوق کے لیے اپنی جدوجہد پر قائم رہی۔
دہلی احتجاج کیوں اہم تھا؟
نیشنل کانفرنس نے نئی دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے پر اپنی پہلی بڑی احتجاجی ریلی منعقد کی ۔ پارٹی کا مقصد پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران مرکزی حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانا اور قومی سطح پر اس مطالبے کو اُجاگر کرنا تھا۔ تاہم احتجاج میں کانگریس کے چند رہنماؤں کے علاوہ نہ وادی کی کسی بڑی سیاسی جماعت نے شرکت کی اور نہ ہی ملک کی بڑی اپوزیشن جماعتوں کی نمایاں قیادت موجود تھی، جس کے باعث احتجاج کی سیاسی اہمیت توقعات سے کم دکھائی دی۔
اپوزیشن جماعتوں کی غیر حاضری
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، پیپلز کانفرنس، اپنی پارٹی اور دیگر علاقائی جماعتوں نے اس احتجاج سے فاصلہ اختیار کیا۔ ان جماعتوں کا مؤقف ہے کہ ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ ضرور اہم ہے، لیکن اسے محض ایک جماعت کے سیاسی پروگرام کے بجائے مشترکہ عوامی تحریک کی شکل دی جانی چاہیے۔
بعض اپوزیشن رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ نیشنل کانفرنس خود گزشتہ دو برس سے اقتدار میں ہونے کے باوجود مرکز پر مطلوبہ دباؤ ڈالنے میں ناکام رہی ہے، اس لیے اب احتجاجی سیاست اختیار کرنا عوام کی توجہ اصل کارکردگی سے ہٹانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ دوسری جانب نیشنل کانفرنس کا کہنا ہے کہ اختلافات کے باوجود تمام جماعتوں کو ریاستی مفاد کے اس بنیادی مسئلے پر متحد ہونا چاہیے تھا۔
سیاسی مبصرین کی رائے
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی دہلی میں احتجاج سے قبل اگر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ تمام علاقائی اور قومی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر مقامی سطح پر ایک آل پارٹی مشاورت یا اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی سنجیدہ کوشش کرتے تو ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ زیادہ مضبوط اور مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکتا تھا۔ ان کے مطابق اس معاملے پر وادی کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں اصولی طور پر متفق ہیں، اس لیے پہلے ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دینا زیادہ سودمند ثابت ہو سکتا تھا۔
مبصرین کے مطابق وزیر اعلیٰ نے اس سمت میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی اور براہِ راست دہلی میں احتجاج کا راستہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ ریاستی درجے جیسے مشترکہ عوامی مطالبے کو سیاسی برتری حاصل کرنے یعنی پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول اس حکمت عملی نے ایک ایسی جامع اور متفقہ مانگ کو، جس پر تقریباً تمام سیاسی قوتیں ایک صفحے پر ہیں، مختلف جماعتوں کے درمیان سیاسی رسہ کشی کا موضوع بنا دیا۔
تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اگر ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کو حقیقی معنوں میں عوامی اور مشترکہ تحریک کی شکل دینی ہے تو اس کے لیے سیاسی جماعتوں کو الزام تراشی سے گریز کرتے ہوئے باہمی اعتماد، مشاورت اور مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر یہ خدشہ برقرار رہے گا کہ اس بنیادی آئینی مطالبے کی سیاسی قوت کمزور پڑ جائے اور مرکز پر مطلوبہ دباؤ پیدا نہ ہو سکے۔









