امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں آج 75ویں یوم آزادی کے موقع پر ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہڑتال اور پتھر بازی اب کشمیر کی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں اور گزشتہ تین برسوں کے دوران اس قسم کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ کشمیر میں علیحدگی پسند رہنما یوم آزادی اور یوم جمہوریہ پر ہڑتال کی کال دیتے تھے جس سے وادی میں دکانیں و کاروباری مراکز بند رہتے تھے جبکہ ٹریفک کی آمد و رفت بھی بری طرح متاثر ہوتی تھی۔ تاہم دفعہ 370 کی منسوخی سے قبل ہی حکومت نے علیحدگی پسند رہنماؤں اور ان کے حامیوں کو جیل میں بند کردیا ہے جس کی وجہ سے ہڑتال و پتھر بازی یا مزاحمتی احتجاج بھی بند ہوگئے ہیں۔
سرینگر کے شیر کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم میں یوم آزادی کی تقریب کے دوران منوج سنہا نے کہا کہ پانچ اگست کے بعد جموں و کشمیر ایک نئی تبدیلی کا حصہ ہے جہاں تعمیر و ترقی اور بہتر سیکورٹی حالات ہے۔ منوج سنہا نے مارچ پاس و پریڈ میں سلامی لی جو جموں و کشمیر پولیس اور دیگر نیم فوجی دستوں کی جانب سے پیش کئے گئے تھے۔ تقریب میں تہذیبی پروگرام بھی پیش کئے گئے۔ اسٹیڈیم کے گرد و نواح میں سکیورٹی فورسز کا محاصرہ رہا اور کسی بھی عام شہری کو اس کے نزدیک یا آس پاس کی سڑکوں سے گزرنے کی اجازت نہیں تھی۔ وہیں وادی میں آج معمول کے مطابق انٹرنیٹ و فون خدمات بحال ہیں جبکہ ماضی میں یہ خدمات یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کی تقریبات پر معطل کر دی جاتی تھیں۔
آج 15 اگست 2022 کو بھارت کی آزادی کی 75 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، یوم آزادی پرملک کے مختلف حصوں میں ترنگا لہرایا جا رہا ہے۔ آزادی کی تقریبات منانے کے سلسلے میں آج جموں و کشمیر کے مختلف مقامات پر قومی پرچم لہرایا گیا.









