(سری نگر)پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ستیہ پال ملک، جو اس وقت میگھالیہ کے گورنر ہے، نے محبوبہ مفتی پر روشنی ایکٹ کے تحت سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کا الزام لگا دیا ہے۔ محبوبہ مفتی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری قانونی ٹیم اس بیان پر ستیہ پال ملک کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موصوف گورنر کو اختیار ہے کہ وہ اپنے بیان کو واپس لے سکتے ہیں، بصورت دیگر میں ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کروں گی۔ یہ باتیں انہوں نے بدھ کے روز اپنے ایک ٹوئٹ میں کہیں۔ ان کا ٹویٹ میں کہنا تھا: "میرے روشنی ایکٹ کا بنفیشری ہونے کے متعلق ستیہ پال ملک کی باتیں سراسر غلط ہیں، میری قانونی ٹیم ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ ان (ستیہ پال ملک) کو اختیار ہے کہ وہ اپنے تبصرے کو واپس لیں بصورت دیگر میں ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کروں گی۔”
False & unsavoury utterances of Satya Pal Malik about me being a beneficiary of Roshni Act is highly mischievous.
My legal team is preparing to sue him.
He has the option to withdraw his comments failing which I will pursue legal recourse. pic.twitter.com/QVSOEFLGYp— Mehbooba Mufti (@MehboobaMufti) October 20, 2021
محبوبہ مفتی نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر ستیہ پال ملک کے بیان کے اس حصے کا ویڈیو بھی اپ لوڈ کیا ہے، جس میں وہ ان (محبوبہ مفتی) پر روشنی ایکٹ کے تحت زمین پر قبضہ کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ اس ویڈیو میں ستیہ پال ملک کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: "ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے روشنی ایکٹ لایا اور کہا کہ اس کے تحت سرکاری زمین کو فرخت کریں گے اور جو آمدنی ہوگی اس سے بجلی کا نظام سدھاریں گے۔ بجلی کا نظام تو نہیں سدھارا، لیکن ڈاکٹر فاروق عبداللہ، ان کے بیٹے اور محبوبہ مفتی کو پلاٹ مل گئے۔” ستیہ پال ملک ویڈیو میں مزید کہتے ہیں: "میں نے جموں کے کمشنر سے کہا کہ جموں میں سرکاری زمین کی سروے کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کافی زمین خالی پڑی ہے، لیکن آپ کے چلے جانے کے بعد یہ لوگ اس پر قبضہ کریں گے، محبوبہ مفتی کے آدمی کو تو دیر ہی نہیں لگتی ہے، قبضہ کرنے میں وہ تو بھینس باندھ کے کہتا ہے کہ یہ میری زمین ہے۔”









