(کپوارہ) سرکردہ عالم دین اور شمالی ضلع کپوارہ کے تبلیغی جماعت کے امیرمولاناپیر شمس الدین کا جمعہ(12 نومبر) دوپہر کومختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ 90برس کے پیر شمس الدین مرحوم کا تعلق وادی لولاب کے سونہ نار گائوں سے تھا اورآپ ایک علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ پیر شمس الدین کے والد کا نام پیر عبد اللہ شاہ تھا اور وہ بھی اپنے وقت کے دیندار شخص تھے۔ آپ کے دوسرے برادربھی علم و تقوی سے آراستہ تھے ،جن میں پیر عبد العزیز شاہ جو عالم با العمل اور زہد و تقوی سے مزین ایک سادہ مزاج لیکن با اثر اور علمی شخصیت کے مالک تھے اور ان کے برادر اصغر غلام احمد شاہ جو پیشے سے ایک استاد تھے لیکن پوری زندگی دعوتِ تبلیغ میں گزارتے ہوئے فی الوقت لولاب وادی میں امارت کے منصب پرفائز ہیں لیکن کئی ماہ قبل وہ حادثہ کا شکار ہوئے جب سے وہ بستر علالت پر صاحبِ فراش ہیں۔ پیر شمس الدین صاحب بچپن سے ہی ایک زبردست عابد زاہد تھے اور منفرد وجاہت کے مالک پیر صاحب ملنسار، خوش گفتار، باکردار اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ فارسی کی اہم کتابوں کا مطالعہ اپنے بردار مرحوم عبد العزیز شاہ سے کیا تھا اور فارسی کے اشعار ہمیشہ ازبر رہتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب منشی اللہ دتا صاحب نظر بزرگ کشمیر تشریف لائے ،پیر شمس الدین شاہ ان دنوں سوگام جامع مسجد میں امامت و خطابت کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ اس دوران بارہمولہ سے جب حضرت منشی اللہ دتا صاحب سوگام لولاب تشریف لے گئے تو پیر شمس الدین صاحب کو اپنی نظر شفقت و عنایت سے نوازا اور ان کی شرافت، متانت، سنجیدگی ،بردباری، مستقل مزاجی سادگی اور دین داری کو دیکھ کر فرمایا کہ مجھے میرا مطلوب مل گیا۔ پیر صاحب بھی اپنے مربی کو پہچان گئے اور انہیں دیکھ کر بہت متاثر ہو ئے اور حضرت منشی صاحب کے ہاتھ پر بیعت ہوئے اور تاحیات ان کے شریک سفر بنے۔ چنانچہ پیر شمس الدین کوپہلے ہی سے اپنے علاقے میں ایک خاص خاندانی اثر موجود تھا، اس وجہ سے جلد ہی عوام میں کافی مقبولیت حاصل کی۔ اس اثر اور مقبولیت نے دعوت و تبلیغ کے کام کو عوام میں متعارف کرنے میں کافی مدد دی، جو منشی جی کے ہاں پیر صاحب کے زیادہ منظور نظر بننے میں ممد و معاون ثابت ہوئے۔ پیر صاحب نے بڑی استقامت کے ساتھ اپنے آپ کو حضرت منشی جی کے ساتھ مربوط رکھا جس کی وجہ سے یہ دونوں حضرات ایک جان دو قالب ہوگئے اورجب منشی جی نے دہلی واپس جانے سے قبل بارہمولہ کے اس زمانہ کے تاشقند اڈہ کے اجتماع میں اعلان فرمایا کہ میں نے اپنے دو مریدوں یعنی پیر شمس الدین صاحب لولابی اور ولی محمد شاہ صاحب سوپوری کو خلافت دی ہے۔ لہذا میرے واپس جانے کے بعد اگر کوئی طالب ہمارے ساتھ تعلق جوڑنا چاہتا ہے تو وہ ان دو خلیفوں کی وساطت سے مجھ سے بیعت ہو سکتے ہیں۔ مرحوم پیر شمس الدین گزشتہ کئی دہائیو ں سے کپوارہ میں واقع مسجد المرشدین میں قیام پذیر تھے اور وہا ں ہر ہفتہ دینی اجتما ع منعقد کرتے تھے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو دین اسلام کے بارے میں جانکاری دیں ۔انہو ں نے ہی مسجد المرشدین کی دا غ بیل ڈالی ۔مولانا کا تعلق ضلع کی حسین وادی لولاب سے تھا لیکن اپنے گھر بار کو چھو ڑ کر مولانا پیر شمس الدین نے بحثیت مسلمان دین اسلام کی خدمت کی اور آج بھی اسی کام کے لئے لوگو ں کی رہنمائی کرتے تھے۔ انہو ں نے اپنے آخری خطاب میں کہا تھا کہ تبلیغی جماعت کا مقصد اپنے اندر اخلاق حسنہ اور دین داری کو پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرو ں کو بھی دین کی تلقین و فہمائش کرنا ہے جبکہ ایک مسلمان کی نجات کے لئے صرف اپنے عمل پر اکتفا کرنا کافی نہیں ہے بلکہ دوسرو ں کی فکر بھی ضروری ہے۔ مرحوم کا نما ز جنازہ بعد نمازمغرب کپوارہ میں ہی اداکیا گیا۔ اُن کے نمازجنازہ کی پیشوائی تبلیغی جماعت کے امیرجموں کشمیرمولانا پرویزاحمد صاحب نے کی۔ مرحوم کے نمازجنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شمولیت کی جن میں علماء ،سیاسی رہنمااورسماجی شخصیات بھی شامل تھیں۔مرحوم کو مسجدالمرشدین کے صحن میں ہی سپردخاک کیاگیا۔









