امت نیوز ڈیسک // دہلی کی ایک عدالت کی جانب سے علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک کو ٹیرر فنڈنگ کیس میں آج سزا سُنائی جائے گی جس کے پیش نظر سرینگر کے مختلف علاقوں بشمول یاسین ملِک کے رہائشی علاقے میسُما میں ہڑتال جیسی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ سرینگر کے کئی علاقوں میں دکانیں بند ہیں، عوام کی آمد و رفت اور سڑکوں پر نقل و حرکت بہت کم دکھائی دے رہی ہے تاہم تعلیمی اور دیگر سرکاری دفاتر کُھلے ہوئے ہیں۔ خصوصی جج پروین سنگھ نے 19 مئی کو ملک کو مجرم قرار دیا تھا اور این آئی اے کو ہدایت کی تھی کہ وہ یاسین ملِک کی مالی صورتحال کا جائزہ لیں تاکہ جرمانے کی رقم کے حوالے سے فیصلہ کیا جا سکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس معاملے میں یاسین ملِک کو عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ 10 مئی کو یاسین ملِک نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد نہیں کر رہے ہیں جن میں یو اے پی اے کی دفعہ 16 (عسکریت پسند ایکٹ)، دفعہ 17 (عسکریت پسندی کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا)، دفعہ 18 (عسکریت پسندانہ کارروائی کی سازش) اور دفعہ 20 (عسکریت پسند ہونا) شامل ہیں۔ اس میں مزید آئی پی سی کی دفعہ 120-B (مجرمانہ سازش) اور 124-A (ملک مخالف سرگرمی) بھی یاسین ملِک پر عائد ہیں۔











