نام کتاب :۔ مائی لائف ود ِطالبان
مصنف :۔ مُلا عبدالسلام ضعیف
مترجم :۔الیکس اسٹریک وآن لنسچوٹن اور فلیکس کوہن
صفحات :۔330
قیمت :۔495 روپے
مائی لائف ود طالبان(My life with Taliban) عبد السلام ضعیف کی خود نوشت سوانح حیات ہے ۔آٹو بیو گرافیز کی اپنی ایک دنیا ہے ،کوئی بھی انسان اپنی زندگی کے بیتے لمحات کو جمع کر کے ایک کتاب کی صورت میں شائع کر سکتا ہے ۔عبد السلام ضعیف کی زندگی میں بھی خاصے اُتار چڑھائو آئے ہیں ۔یہ کتاب 2009میں شائع ہوئی ہے، اصل میں یہ کتاب پشتو زبان میں لکھی گئی ہے جس کو دو غیر افغان صحافیوںAlex Strick Van Linschoten and Felix kuehn جو اٰفغانستان میں خاصے عرصے سے صحافتی فرائض انجام دیتے تھے‘ نے ترجمہ کر کے شائع کیا ۔ترجمہ بھی ایک فن ہے اور ایک کامیاب ترجمہ نگار وہی ہو سکتا ہے جو کسی بھی کتاب یا تحریر کی اپنی اصل روح کو برقرار رکھے ۔ان دونوں ترجمہ نگاروں نے بھی اپنے فن کا بہترین مظاہرہ کیا ہے انسان کو پڑھنے کے دوران کہیں بھی یہ محسوس نہیں ہوتا کہ یہ کتاب ترجمہ شدہ ہے ۔ کتاب کے ابتدائیہ ،پیش لفظ وغیرہ کے بعد واقعات کو تاریخی اور زمانی اعتبار سے ذیلی عناوین کی صورت میں پیش کیا گیا ہے ۔ اس کتاب کے مصنف موصوف کی پیدائش 1968میں افغانستان کے ایک گائوں’’زنگیا آباد‘‘ میں ہوئی ہے۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب افغانستان پر ’’ظاہر شاہ‘‘ کی حکومت تھی ۔مُلا عبدالسلام ضعیف جن کی زندگی انتہائی عُسرت میں گُزری ہے ،ان کا کہنا تھا کہ اُس دور میں کھانے کے لالے پڑتے تھے ،زندگی گزارنا خاصا دشوار تھا لیکن اس تنگی کے باوجود اُن کے والد نے اُن کو دین کی بُنیادی تعلیم سے نوازا ،تاہم والد کا سایہ بھی سر سے جلد ہی اُٹھ گیا۔جیسے ہی موصوف کی عمر دس کی سال ہوئی تو 1978میں سویت یونین روس نے افغانسان پر چڑھائی کر دی۔ اس کے بعد افغانستان پر کیا اور کتنے مظالم ڈھائے گئے، ہزاروں لوگوں کا قتل عام کیا گیا، اس سُرخ ریچھ نے کس بے دردی سے افغانستان کے منبرو محراب کو تاخت و تاراج کیا وہ سب کہانیاں اس کتاب میں درج ہیں۔
روس کے حملے کے بعد ہی افغانستان کے لوگوں نے پاکستان ہجرت کرنا شروع کر دی اور ان میں ملا سلام ضعیف کا گھرانا بھی تھا۔یہ سب مہاجرین ’’کوئٹہ پاکستان‘‘ کے مختلف علاقوں میں مہاجروں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ۔پاکستان نے بھی انصار مدینہ کا کردار ادا کرتے ہوئے ہزاروں اور لاکھوں افغان پنان گزینوں کو اپنی زمین میں پناہ دی بلکہ اُن پنان گزینوں کی تعلیم، کھانے پینے اور صحت کے حوالے سے بھی اقدامات کیے ۔پھر انہوں نے وہاں مہاجرکیمپوں کو اپنا بیس کیمپ بنا کے روس کے خلاف زور دار طریقے سے ’’جہاد‘‘ شروع کر دیا ۔اللہ تعالی کی مدد و نصرت کی وجہ سے کس طرح سے نہتے افغانوں نے روس کو شکست دی ان سارے دلچسپ واقعات سے اس کتاب کے صفحات سیاہ کیے گئے ہیں ۔اس طرح سے 1988ñ میں سویت یونین کو شکست ہو گئی اور یہ دیو ہیکل مملکت ٹکڑوں میں تقسیم ہوگی۔
اس فتح کے حوالے سے ملا عبدالسلام ضعیف کتاب کے صفحہ 49پر لکھتے ہیں کہ ’’ترجمہ :۔بہر حال جیسے ہی اگست 1988میں سویت افواج نے افغانستان کو چھوڑ دیا ہم نے دنیا میں بغیر کسی کے خوف کے جشن منایا۔مُلا مجران گاتے ہوئے ڈرم ڈھول کے بدلے ایک پُرانے اسٹو کے اوپری حصے کو ڈھول کے بدلے بجانا شروع کیا اور ہم باقی ناچ رہے تھے ۔‘‘روس کے جانے کے بعد افغان مجاہدین کو وہاں ڈاکوئوں اور دیگر مسلحہ گروہوں کے ساتھ بھی لڑنا پڑا اور حکومت بھی مستحکم انداز میں نہیں چل پائی ۔اس بیچ مُلا سلام ضعیف اکثر و بیشتر پاکستان ہجرت کیا کرتے تھے تاہم ان سب ڈاکوئوں اور دیگر مسلحہ گروہوں سے افغانستان کو پاک کر کے1994میں طالبان نام کی ایک جہادی و سیاسی تنظیم وجود میں آئی جس کے پہلے امیر’’ مُلا محمد عمرؒ کو چُنا گیا۔ تاہم اس کے باوجود بھی ان کے پاس وسائل ،پیسہ اور ہتھیاروں کی کمی تھی ۔
طالبان کے وجود میں آنے کے شروعاتی دنوں میں کن مصائب اور مشکلات سے اس تنظیم کو دو چار ہونا پڑاوہ بھی اس کتاب میں درج ہے ۔اسی سلسلے میں کتاب کے صفحہ 67میں ایک جگہ مصنف موصوف لکھتے ہیں کہ ’’ ترجمہ :۔تحریک کے ابتدائی دنوں میں ہمیں ہر طرح کی ضرورت تھی ،ہمارے پاس چند ہتھیار تو تھے تاہم نہ ہی کوئی گاڑی اور نہ پیسے تھے ۔میرے اور مُلا عبدالستار کے پاس ایک ایک موٹر سا ئیکل تھی ،گھر میں میرے پاس دس ہزار افغانی روپے تھے جنہیں میں نے اپنے گروپ فنڈ کو عطیہ کر دیے تھے ،ہم نے اپنی موٹر سائیکلیں تحریک کے نام وقف کر رکھی تھیں، اس بیچ میری موٹر سائیکل کو پہلے ہی دن انجن میں کچھ خرابی ہوئی جس کے بعد مُلا عبد الستار کی واحد روسی موٹر سائیکل طالبان کی آمد رفت کا ذریعہ بنی۔لیکن اس بائک کی دھوئیں کی پایپ (Exhaust)نہیں تھی، جب ہم کچی اور پکی سڑکوں پر اس بائیک پر چلتے تھے تو اس کی آواز میلوں دور سُنائی دیتی تھی جس کے سبب ہم نے اس بائیک کا نامTANK OF ISLAMاسلام کی ٹینکá کانام رکھا۔‘‘رفتہ رفتہ افغانستان میں حالات سازگار ہوتے گئے اور وہاںکے ڈاکو اور دیگر اسلحہ بردار گروہوں کے خلاف طالبان نے سخت کارروائیاں انجام میں دی وہیں شرعی عدالتوں کا قیام بھی عمل میں لایا گیا جہاں معاملات کو مختصر وقت میں انصاف کے تقاضوں کے مطابق نپٹایا جاتا تھا،وہیں ملا سلام ضعیف کو مختلف عہدوں پر تعینات کیا گیا اور آخر کار سن 2000 میں طالبان کی طرف سے ملا موصوف کو پاکستان میںافغانستان کا سفیرمقرر کیا گیا۔اسی بیچ 9ستمبر2001 کو امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ ہوا جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد امیریکہ نے طالبان اور القاعدہ کے خلاف جنگ شروع کر دی ۔اس کے چند ماہ بعد ہی امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر کے وہاں ’’حامد کرزائی‘‘ کی کٹھ پتلی حکومت کا قیام عمل میں لایا۔
اس حملے کے بعد افغانستان کی عوام کو ایک بار پھر پاکستان میں مہاجرت کی زندگی گزارنی پڑی ۔اور امریکہ نے مسلسل طالبان سے مطالبہ دوہرایا کہ ’’اسامہ بن لادن‘‘ کو ہمارے حوالے کرو ۔اس بیچ پرویز مشرف کا بھی تذکرہ آیا ہے جس میں یہ لکھا ہے کہ مشرف نے بھی طالبان سے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے کے لئے اپروچ کیا تھا تاہم طالبان نے امریکہ اور پاکستان کے سارے مطالبات کو ٹھکرا دیا۔
شمالی اتحاد اور رشید دوستم کے طالبان کے خلاف سازشیں اور طالبان قیدیوں پر اُن کے مظالم کو بھی دلچسپ انداز میں بیان کیا گیاہے ۔ اُس دور کی پاکستانی حکومت اور جنرل مشرف اور آئی ایس آئی پر بھی خاصی تنقید کی گئی ہے بلکہ چند جگہوں پر ان کے خلاف سنگین الزامات کی بوچھاڑ بھی کی گئی ہے ۔ملا عبدالسلام نے اپنی گرفتاری کو بھی کتاب میں شامل کیا ہے کہ کس طرح سے پاکستانی حکومت نے انہیں امریکہ کے حوالے کیا اورتین سال تک اُن پر کیوبیا کے بدنام زمانہ جیل ’’گوانتا موبے‘‘ میں کس طرح کے مظالم ڈھائے گئے اور دیگر ساتھیو ںکے رونگٹھے کھڑے کر دینے والے دردناک مظالم کو کتاب میں بیان کیا گیاہے ۔کتاب میں ایک جگہ پاکستان کو’’ مجبورستان‘‘ کہہ کر پکارا گیاہے اور مصنف لکھتے ہیں کہ ’’ ترجمہ :۔قیدیو ں کے درمیان پاکستان کو مجبورستان کے نام سے پکارا جاتا تھاایک ایسی سرزمین جو امریکہ کے ہر مطالبے کو پورا کرنے کی پابند ہے ۔‘‘صفحہ 202 گوانتا ناموبے میں قیدیوں کو ذہنی امراض میں مبتلا ہونے کے حوالے سے بھی شواہد پیش کیے ہیں وہیں ایسے بہت قیدی ہیں جو دوران قید ہی اللہ کو پیارے ہو گئے ۔
کتاب کے دوران مطالعہ انسان کی آنکھوں کے سامنے وہ سارے مناظر گردش کرنے لگتے ہیں جن کو واقعات کی صورت میں کتاب میں پیش کیا گیا ہے ۔کبھی کبھی کتاب کو پڑھنے کے دوران محسوس ہوتا ہے کہ جیسے قاری پر بھی وہی کچھ گُزر رہا ہوتا ہے جس کرب و درد کو صاحب کتاب نے جھیلا ہے ۔
کتاب جو کہ خوبصوت انداز میں تیار کی گئی ہے افغانستان کی تاریخ کو سمجھنے کے لئے ایک تاریخی دستاویز کی صورت اختیار کر گئی ہے۔اس میں سویت یونین اور امریکہ کے آٹھ سالہ ظلم و جبر کی عبرتناک کہانیاں پیش کی گئی ہیں ۔تاہم کتاب میں چند چیزوں کی کمی محسوس ہوئی وہ یوں کہ جہاں مصنف موصوف نے پاکستان اور آئی ایس آئی کے خلاف بے باکانہ طریقے سے گفتگو کی وہیں پاکستان کا لاکھوں افغانیوں کو پناہ دینا، سویت یونین اور امریکہ کے خلاف طالبان کو تربیت دینا ،ہتھیار فراہم کرنا ،پیسے دینا،اُن کے بچوں کو تعلیم اور خوراک بہم پہنچانا ‘کو سرے سے ہی کتاب میں غائب پایا گیا ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے تاریخی واقعات کو جانبداری سے پیش کیا گیا ہے ۔ کتاب میں پاکستان کا کردار، روس اور امریکہ کے خلاف طالبان کی مدد :سیاسی ،عسکری اور مالی اعتبار سے جو ہوئی ہے اُس کا سرے سے کہیں پر تذکرہ پڑھنے کو نہیں ملے گا ۔کہیں کہیں محسوس ہوتا ہے کہ مصنف موصوف نے جان بوجھ کر پاکستان کے اُس کردار کو پیش نہیں کیا ہے۔اس سب کے باوصف کتاب ہارڈ باونڈ میں مجلد ہے وہیں کتاب کے کورپیج پر ملا عبد السلام ضعیف کی تصویر قاری کو اپنی اور کھنچتی ہے۔کتاب غلطیوں سے پاک ہے اور قیمت بھی مناسب ہی معلوم ہوتی ہے ۔تاریخ سے وابستہ طالب علموں کو یہ کتاب ایک بار ضرور پڑھنی چاہیے۔









