جموں و کشمیر میںمسلمانوں کی ملّی جائیداد اور اثاثوں کا تحفظ کرنے اور ان بیش بہا اثاثوں کو مسلمانوں کی فلاح و بہبود کی خاطر فعال بنانے کے لئے ادارۂ اوقاف اسلامیہ کے نام سے ایک عظیم ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ اگرچہ یہ ادارہ دہائیوں تک قائم و دائم رہالیکن امر واقع یہ ہے کہ طویل زمانے تک اپنا وجود برقرار رکھنے کے باوجود یہ عظیم ملّی ادارہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں نہ صرف ناکام و نامراد رہا بلکہ یہ لوٹ کھسوٹ اور دیگر طرح طرح کی علتوں کی ا ٓماجگاہ ثابت ہوا؛اس سبب وسائل سے مالا مال اس عظیم ملّی ادارے کو استحصالی عناصر کے چنگل سے آزاد کرانا وقت کا اہم تقاضا تھا! اس اہم اور عظیم ملّی ادارے کو استحصال سے پاک و صاف کرانا اور اسے فعال بنانے کے لئے متبادل اقدامات اُٹھانا وقت کا اہم تقاضا تھا۔ اس ضمن میں یہ بھی ضروری تھا کہ اس ادارے کو چلانے کے لئے عوام کے ہی منتخب نمائندوں کوا ٓگے لایا جاتا۔لیکن ایسا کرنے کے بجائے اس ملّی ادارے کو سرکاری تحویل میں دیا گیاجبکہ انڈسٹریل سیکٹر اور دیگر شعبوں میں سرکارکی ناکامی پہلے سے ہی واضح تھی۔ اور اب ایل جی انتظامیہ نے دو قدم آگے نکل کر وقف کو چلانے کے لئے ایک بورڈ کا قیام عمل میں لایا جس نے قلمدان سنبھالتے ہی ایسے اقدامات کرنے شروع کئے جن سے وقف بورڈ اور سرکار کی نیت پر سوالات اُٹھ رہے ہیں۔ سرینگر میں تاریخی عیدگاہ کے مقام پر کینسر اسپتال کے مجوزہ منصوبے کے اعلان کو بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے۔ مانا کہ کینسر اسپتال کی تعمیر کا منصوبہ ایک مستحسن اقدام ہے اور یہ وقت کی اہم ضرورت بھی لیکن عوامی حلقوں کی یہ رائے بھی درست ہے کہ یہ مجوزہ اسپتال تاریخی عیدگاہ کے بجائے کسی دوسری جگہ بھی تعمیر کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ وقف کے پاس وادی کے طول و عرض میں ہزاروں کنال اراضی موجود ہے اور کسی بھی موزوں جگہ پر مجوزہ اسپتال تعمیر کیا جاسکتا ہے۔ وادی کے طول و عرض میں زمین دستیاب ہونے کے باوجود محض تاریخی عیدگاہ کو نشانہ بنا کر وقف بورڈ عوام تک جو پیغام پہنچارہا ہے اُسے ہر لحاظ سے منفی ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ عوام کی طرف سے اس مجوزہ اقدام کے خلاف جس طرح کا شدید ردعمل سامنے آرہا ہے وہ ہر لحاظ سے بجا ہے۔ شہر خاص کی شانِ رفتہ کی بحالی کے لئے سرگرم حلقے بھی وقف بورڈ کے اس متوقع مجوزہ منصوبے کے خلاف سراپا احتجاج نظر آرہے ہیں۔ وقف بورڈ کو عوام کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے اس مجوزہ اسپتال کو تاریخی عیدگاہ کی بجائے کسی دوسری موزوں جگہ پر تعمیر کرنا چاہیے۔










