امت نیوز ڈیسک //
ملک کی سب سے قدیم سیاسی جماعت کانگریس کو آج اپنا نیا صدر مل جائے گا۔ 24 سال کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کانگریس پارٹی کو گاندھی خاندان کے باہر سے صدر ملے گا۔ اس سے پہلے سیتارام کیسری غیر گاندھی صدر تھے۔ اس عہدے کے لیے سینئر رہنما ملکارجن کھرگے اور ششی تھرور کے درمیان مقابلہ ہے۔ پیر کو 9,915 میں سے 9,500 سے زیادہ الیکٹورل کالج ممبران نے ووٹ ڈالا۔ ان ووٹوں کی گنتی آج صبح 10 بجے اے آئی سی سی ہیڈکوارٹر میں شروع ہوگی جس کے بعد نئے صدر کے نام کا اعلان کیا جائے گا۔ کانگریس کی 137 سالہ تاریخ میں اس بار صدر کے عہدے کا انتخاب چھٹی بار ہو رہا ہے۔
ملک بھر میں قائم 68 پولنگ اسٹیشنوں کے تمام سیل شدہ بیلٹ بکس پارٹی ہیڈ کوارٹر کے اسٹرانگ روم میں منتقل کردیے گئے ہیں۔ سیل بند بیلٹ بکس امیدواروں کے ایجنٹس کے سامنے کھولے جائیں گے اور بیلٹ پیپرز کو ملایا جائے گا۔ کانگریس کی سنٹرل الیکشن اتھارٹی کے چیئرمین مدھوسودن مستری نے کہا کہ تقریباً 96 فیصد ووٹنگ ہوئی، حالانکہ مکمل اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد کچھ تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ ووٹنگ کے بعد مستری نے کہا کہ کہیں سے کوئی شکایت نہیں آئی اور پورا عمل آزادانہ، منصفانہ اور شفاف رہا ہے۔ ووٹنگ خفیہ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ کس نے کس کو ووٹ دیا اور کس امیدوار کو کس ریاست سے کتنے ووٹ ملے۔
کانگریس صدر کے انتخاب میں 96 فیصد ووٹنگکانگریس ہیڈکوارٹر میں ووٹ ڈالنے کے بعد جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے میڈیا سے کہا کہ ‘یہ ایک تاریخی موقع ہے۔ کانگریس واحد سیاسی جماعت ہے جہاں صدر کے عہدے کے لیے انتخابات ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس ٹی این شیشن کی طرح مرکزی الیکشن اتھارٹی کے سربراہ کے طور پر مدھوسودن مستری ہیں۔ کسی اور پارٹی میں الیکشن نہیں ہوتے۔








