علیحدگی پسند تنظیم کل جماعتی حریت کانفرنس نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں حریت کانفرنس چیئرمین اور علیحدگی پسند رہنما میرواعظ محمد عمر فاروق کی سابق ڈپٹی میئر کے ساتھ ملاقات اور مین اسٹریم سیاست میں شامل ہونے کی افواہ پھیلائی جا رہی ہے۔
جمعرات کو جاری کردہ بیان میں حریت کانفرنس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ” بعض شرپسند عناصر اپنے مفادات کی خاطر جموں کے کچھ اخباروں میں نظر بند رکھے گئے حریت چیئرمین فاروق کی سرینگر کے ایک سابق ڈپٹی ملاقات اور نام نہاد ‘ مین اسٹریم سیاست شامل ہونے کے بارے فرضی خبریں مشتہر کر رہے ہیں جو حد درجہ افسوسناک ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’ حریت کانفرنس اس طرح کی دانستہ اور بدنیتی پر مبنی جھوٹی خبروں کی سختی کے ساتھ تردید اور مذمت کرتی ہے۔ حریت عوام پر زور دیتی ہے کہ وہ اس طرح کے پروپیگنڈہ کرنے والوں سے ہوشیار رہیں، ان عناصر کی طرف سے پھیلائے جارہے جھوٹ کا شکار نہ ہوں۔
بیان میں مزید کیا گیاکہ میرواعظ گزشتہ تین زیادہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر نظر بند رکھے گئے ہیں کیونکہ موصوف اپنے اصولی موقف پر نہ صرف قائم ہیں بلکہ اپنے اکابرین کی طرح کشمیر تنازع کا عوامی خواہشات اور امنگوں کے مطابق پر امن اور منصفانہ حل چاہتے ہیں سے جڑے جملہ متعلقین کے درمیان بات چیت کے ذریعے اس کے حل کی وکالت کرتے ہیں اور اسی سیاسی نظر کی بنیاد پر میرواعظ نظر بندی صعوبتیں برداشت اور مسئلہ کی 66 ہیں۔









