امت نیوز ڈیسک //
سرینگر /// سرکاری اعداد و شمار میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جموں کشمیر میں امسال عسکری صفوں میں بھرتی عمل میں کمی آئی ہے جبکہ مقامی سرگرم جنگجوﺅں کے مقابلے میں غیر ملکی جنگجوﺅں کی تعداد زیادہ ہے ۔ سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے جاری کر دہ اعداد و شمار مطابق جموں کشمیر میں عسکری صفوں میں مقامی نوجوانوں کی جانب سے شرکت میں کافی کمی آئی ہے اور امسال کم نوجوانوں نے ملی ٹنٹوں کے صفوں میں شمولیت کی ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق امسال ایک اہم کامیابی کے تحت جموں و کشمیر میں سرگرم ملی ٹنٹ تنظیموں میں بھرتی ہونے والوں کی تعداد میں اس سال کمی آئی ہے جس میں پہلی مرتبہ حیران کن اعداد و شمار ظاہر کیے گئے ہیں کہ پاکستان سے دراندازی کرنے والوں کے مقابلے مقامی ملی ٹنٹوں کی تعداد کم ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں اس سال 31 اکتوبر تک سرگرم ملی ٹنٹوں کی تعداد تقریباً 134 بتائی گئی ہے۔جموں و کشمیر میں 134 سرگرم ملی ٹنتوں میں سے 51 مقامی اور 83 غیر ملکی ملی ٹنٹ شامل ہے ۔ ایک سنیئر افسر نے خبر رساں ایجنسی کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ جموں کشمیر میں مقامی نوجوانوں کی جانب سے عسکری صفوں میں شمولیت کے واقعات میںکافی کمی درج ہوئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ پہلی بار یہ ہوا ہے کہ جموں کشمیر میں سرگرم جنگجوﺅں میں سے زیادہ تعداد غیر ملکی ملی ٹنٹوں کی ہے اور زیادہ تر ملی ٹنٹ عسکری تنظیم لشکر طیبہ، اس کی شاخ مزاحمتی محاذ، جیش محمد اور حزب المجاہدین جیسی تنظیموں سے ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے کے اعداد و شمار واضح کمی کو ظاہر کرتا ہے۔مختلف ملی ٹنٹ گروپوں نے گزشتہ چار سالوں میں جموں و کشمیر میں تقریباً 700 مقامی نوجوانوں کو بھرتی کیا ہے ۔ 2018 میں 187، 2019 میں 121 ، سال 2020 میں 181 جبکہ سال2021 میں 142 نوجوان عسکری صفوں میں شامل ہو گئے اس سال 31 اکتوبر تک کے اعداد و شمار کے مطابق سیکورٹی فورسز نے مختلف مقابلوں میں 176 دہشت ملی ٹنتوں کو ہلاک کیا ہے۔ ان میں سے 126 مقامی اور 50 غیر ملکی تھے۔









