امت نیوز ڈیسک //
دہلی:دہلی کے شردھا قتل کیس میں پولیس کو ابھی تک شردھا کا سر نہیں ملا ہے۔ پولیس شردھا کے قاتل بوائے فرینڈ کے دوستوں کو بھی تلاش کر رہی ہے اور اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ گرل فرینڈ شردھا کا قتل کرکے اس کی لاش کے ٹکڑے کرنے والے ملزم کے بارے میں دہلی میں چونکا دینے والے انکشافات ہو رہے ہیں، گرفتار ملزم سے پولیس پوچھ گچھ کر رہی ہے جس میں وہ بار بار بیان بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق پولیس کو ابھی تک شردھا کا سر نہیں ملا ہے۔ اس کی تلاش جاری ہے۔ پولیس ملزم کے ساتھ مہرولی جنگل میں ہے جہاں ملزم نے شردھا کے جسمانی اعضاء کے ٹکڑے کرکے پھینکے تھے۔
قومی دارالحکومت میں ایک دل دہلا دینے والے واقعہ میں ایک عاشق نے اپنی معشوقہ کا گلا گھونٹ کر قتل کرنے کے بعداس کے 35 ٹکڑے کر دیے اور لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے انہیں قریبی علاقوں میں پھینکتا رہا۔ دہلی پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے اور جسم کے اعضاء تلاش کرنے کے لیے ملزم کو چھترپور کے جنگلاتی علاقوں میں لے گئی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ شردھا ممبئی میں ایک کال سینٹر میں کام کرتی تھی، جہاں اس کی ملاقات آفتاب پونا والا سے ہوئی اور دونوں میں محبت ہوگئی۔ شردھا کے اہل خانہ نے اس رشتے کو قبول نہیں کیا جس کے بعد یہ جوڑا دہلی آگیا اور مہرولی میں ایک فلیٹ میں کرائے پر رہنے لگا۔ دونوں کے درمیان کچھ وقت تک معاملات ٹھیک رہے لیکن پھر شادی کو لے کر جھگڑا شروع ہوگیا۔
پولیس نے بتایا کہ شردھا آفتاب سے شادی پر اصرار کر رہی تھی جس کی وجہ سے 18 مئی کو ان میں لڑائی ہوئی اور آفتاب نے شردھا کا گلا دبا کر قتل کر دیا۔ اس نے لاش کے 35 ٹکڑے کیے اور انہیں رکھنے کے لیے ایک بڑا فریج خریدا۔ اگلے 18 دنوں تک آفتاب آدھی رات کے بعد گھر سے نکلتا اور شردھا کے جسم کے اعضاء دہلی کے مختلف مقامات پر پھینکتا۔ وہ تقریباً دو کلومیٹر دور جا کرجنگل میں لاش کے ٹکڑے پھینکتا تھا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب شردھا نے گھر والوں کی کالیں اٹھانا بند کر دیں۔ اس کے والد 8 نومبر کو اپنی بیٹی سے ملنے دہلی پہنچے جہاں فلیٹ کا دروازہ بند تھا۔ والد نے مہرولی پولیس سے رابطہ کیا۔ شکایت کی بنیاد پر پولیس نے ہفتہ کے روز آفتاب کو گرفتار کیا۔ پولیس قتل کا مقدمہ درج کر کے شردھا کی لاش کے ٹکڑوں کی تلاش کر رہی ہے










