امت نیوز ڈیسک //
سرینگر:اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ اور ضلع بانڈی پورہ میں دو ڈی ڈی سی انتخابی حلقوں کے لیے پانچ دسمبر کو ضمنی انتخابات منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مذکورہ حلقوں میں بانڈی پورہ کی ہاجن اے اور کپوارہ میں درگمولہ نشست شامل ہیں۔ ان دونوں نشستوں پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی خواتین، جو اس وقت کشمیر میں مقیم ہیں، نے انتخابات میں شمولیت اختیار کرکے کامیابی حاصل کی تھی۔
سٹیٹ الیکشن کمیشنر کے کے شرما نے 10 اکتوبر کو اس ضمن میں صوبائی کمشنر پی کے پولے کے علاوہ ان دو اضلاع کے ایس ایس پیز، ضلع ترقیاتی کمشنرز اور دیگر متعلقہ افسران کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کی تھی جس میں انتخابات کے انتظامات اور سیکورٹی کی تیاریوں کے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ سنہ 2020 دسمبر میں ان دو ڈی ڈی سی انتخابی حلقوں میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی خواتین نے بطور امیدوار حصہ لے کر انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ یہ خواتین کشمیر کے سابق عسکریت پسندوں کے عقد میں ہیں۔ اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی ’’بازآبادکاری پالیسی‘‘ کے تحت اپنے کشمیری شوہروں کے ہمراہ یہاں آئیں تھی۔
ہاجن اے سے صومیہ صدف جبکہ درگمولہ سے شاذیہ اسلم نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ کامیابی حاصل کرنے کے بعد ان کی امیدواری کو اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے نا اہل قرار دیے کر انتخابات کو ہی منسوخ کیا تھا۔اسٹیٹ الیکشن کمیشنر کے کے شرما نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ ’’ان حلقوں میں پانچ دسمبر کو ضمنی انتخاب منعقد کئے جائیں گے۔‘‘ انکا کہنا ہے کہ پولنگ کا دورانیہ صبح سات بجے سے دوپہر دو بجے تک رہے گا جبکہ 8 دسمبر کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان حلقوں میں ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کل سے نافذ العمل ہے۔
اکتوبر میں منعقد ہونے والی میٹنگ میں کمیشن نے ہدایت دی ہے کہ مذکورہ پاکستان نژاد خواتین کی امیدواری کو قابل قبول نہیں کیا جائے گا۔ کمیشن نے متعلقہ ریٹرنگ افسران کو واضح ہدایت دی ہے کہ ان ہی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی قبول کئے جائیں جو ان انتخابی حلقوں کے باشندے یا ووٹر ہوں۔








