پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر میں عوامی رابطے کے ایک نئے طرز کے پروگرام کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت وہ خود مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، بالخصوص طلبہ اور نوجوانوں سے براہِ راست مکالمہ کر رہی ہیں۔ سرینگر میں منعقدہ اس پروگرام کو ’’کتھ باتھ‘‘ جبکہ ایک ہفتے بعد جموں میں ہونے والے پروگرام کو ’’گل بات‘‘ کا نام دیا گیا۔
ان پروگراموں کے تحت پی ڈی پی نے سماج کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں اور مقامی سول سوسائٹی کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت دی۔ جہاں نوجوانوں، سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی کو موجودہ سماجی، سیاسی، معاشی اور انتظامی مسائل پر اپنی رائے اور تجاویز پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔
سرینگر میں طلبہ اور سول سوسائٹی سے وابستہ افراد نے اپنی درپیش مشکلات اور چیلنجز پر بات کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ نوجوانوں کے مسائل، دباؤ اور چیلنجز کو سمجھنے کے لیے اس طرح کے مکالماتی پروگرام باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ان نشستوں میں نہ صرف پارٹی سے وابستہ بلکہ غیر سیاسی نوجوانوں کو بھی مدعو کیا گیا، جنہوں نے کھل کر اپنے خدشات، پریشانیاں اور تجاویز پیش کیں۔ محبوبہ مفتی کے مطابق جموں و کشمیر کے نوجوانوں نے خاص طور پر ریاست سے باہر اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر تشویش کا اظہار کیا، اور ان مسائل کو نظرانداز کرنے کے بجائے انہیں تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔پی ڈی پی صدر نے کہا کہ جموں و کشمیر علیحدگی نہیں بلکہ عزت، امن اور باوقار مکالمہ چاہتا ہے تاکہ لوگ ملک کے اندر احترام کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے درمیان روڈ میپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر سخت قوانین جیسے یو اے پی اے اور پی ایس اے سے پیدا ہونے والے دباؤ سے نجات چاہتا ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کے ساتھ مفاہمت ناگزیر ہے کیونکہ بڑی تعداد میں نوجوان خود کو مجروح اور الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ پی ڈی پی جموں و کشمیر کے عوام اور باقی ہندوستان کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نوجوانوں کے اٹھائے گئے سوالات پہلے ہی دہلی تک پہنچ چکے ہیں اور حکومت کو 2019 کے بعد کی پالیسیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔
بعد ازاں جموں میں منعقدہ ’’گل بات‘‘ پروگرام میں بھی طلباء اور سیول سوسائٹی کے افراد نے شرکت کر کے اپنی بات رکھی۔ اس موقع پر محبوبہ مفتی نے 2015ء میں بی جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد نے یہ فیصلہ جموں و کشمیر کے وسیع تر مفاد اور جموں کے عوام کے مینڈیٹ کے احترام میں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایجنڈا آف الائنس ریاست کے تحفظ اور استحکام کے لیے تشکیل دیا گیا تھا اور اس وقت بی جے پی نے دفعہ 370 کو تسلیم کیا تھا۔ پروگرام کے حاشیے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2019 کے بعد جموں میں باہر سے لوگوں کی آمد میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث جرائم اور مقامی کاروباروں پر دباؤ بڑھا ہے…
پی ڈی پی کی طرف سے شروع کیے گیے اس پروگرام کو راہل گاندھی کی جانب سے اس رابطہ کاری کیساتھ بھی جوڑا جا سکتا ہے جہاں وہ مختلف طبقے کے کاری گروں سے ملاقات کر کے انہیں سنتے ہیں۔وہیں پی ڈی پی کی قیادت کی طرف سے ہدایت دی گئی ہے کہ ہر شہر اور گاؤں میں مباحثے اور مکالمے کے پروگرام منعقد کیے جائیں۔ ان نشستوں میں پارٹی کے سینئر رہنما شرکت کریں گے جبکہ مقامی نوجوانوں کو مرکزی کردار دیا جائے گا۔ پارٹی رہنماؤں کی تقاریر کم سے کم ہوں گی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پی ڈی پی نے اپنی سیاسی بنیاد دوبارہ مضبوط کرنے اور نوجوانوں سے دوبارہ رابطہ قائم کرنے کے لیے کتھ باتھ اور گل بات کے طریقۂ کار کو اختیار کیا ہے۔ ان پروگرامز کچھ اہم چیزیں جو دیکھنے میں آئی کہ پی ڈی پی لیڈران کی طرف سے پوچھا جا رہا ہے کہ حکومت سے کیا چاہتے ہیں اور پی ڈی پی سے ان کی کیا توقعات ہیں۔ پی ڈی پی انہیں اپنا سیاسی اور سماجی ایجنڈا بھی آگاہ کرتی ہے۔ اور یہ مہم مکمل طور پر نوجوانوں پر مرکوز ہے ۔ وہیں ان ملاقاتوں میں نہ صرف 2014ء میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا جواز پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ بھاجپا کے ساتھ اتحاد کی سزا دس سال گزر جانے کے باوجود بھی پی ڈی پی کو لوگوں کی طرف سے مل رہی ہے اور اسکی تازہ مثال گزشتہ سال کے اسمبلی انتخابات ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق جہان ایک طرف لیڈران پارٹی چھوڑ گئے وہیں زمینی سطح پر بھی پارٹی کھوکھلی ہوگئی۔ تاہم تجزیہ نگار مانتے ہیں اس وقت بھی جموں کشمیر میں این سی کے بعد اگر کسی پارٹی کو لوگ متبادل مانتے ہیں تو وہ پی ڈی پی ہی ہو سکتی ہے۔
وہیں نوجوانوں پر فوکس کرنے کی وجہ یہ بھی مانی جا رہی ہے کہ آگے پارٹی کو چلانے میں وحید الرحمن پرہ اور التجا مفتی کا اہم کردار ہوگا۔
این سی کا ردعمل
این سی ترجمان عمران نبی ڈار نے پروگرام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ پی ڈی پی خود کو نوجوان دوست جماعت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
عمران نبی ڈار نے کہا کہ یہی وہ جماعت ہے جس نے اپنے دورِ اقتدار میں ہزاروں نوجوانوں پر پبلک سیفٹی ایکٹ نافذ کیا، جس کے ذریعے نوجوانوں کی آواز اور ان کے خوابوں کو جرم بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ پارٹی تھی جس کے دور میں نہتے مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنز کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں نوجوان زخمی ہوئے اور کئی افراد مستقل معذوری کا شکار ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی آج نوجوانوں سے ہمدردی کا ڈھونگ رچا رہی ہے، مگر اس کا ماضی اس کے دعوؤں کی نفی کرتا ہے۔ ان کے مطابق کشمیری نوجوان آج بھی اس دور کے زخموں کے ساتھ جی رہے ہیں، جن کا سبب پی ڈی پی کی پالیسیاں تھیں۔










