• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعرات, جنوری ۲۲, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
کتھ باتھ سے  گل بات تک: کیا نوجوانوں کے مسائل کے زریعے ساکھ بحال کرنے کی کوشش؟؟

کتھ باتھ سے گل بات تک: کیا نوجوانوں کے مسائل کے زریعے ساکھ بحال کرنے کی کوشش؟؟

رضوان سلطان

by امت ڈیسک
26/12/2025
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر میں عوامی رابطے کے ایک نئے طرز کے پروگرام کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت وہ خود مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، بالخصوص طلبہ اور نوجوانوں سے براہِ راست مکالمہ کر رہی ہیں۔ سرینگر میں منعقدہ اس پروگرام کو ’’کتھ باتھ‘‘ جبکہ ایک ہفتے بعد جموں میں ہونے والے پروگرام کو ’’گل بات‘‘ کا نام دیا گیا۔

ان پروگراموں کے تحت پی ڈی پی نے سماج کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں اور مقامی سول سوسائٹی کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت دی۔ جہاں نوجوانوں، سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی کو موجودہ سماجی، سیاسی، معاشی اور انتظامی مسائل پر اپنی رائے اور تجاویز پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔

سرینگر میں طلبہ اور سول سوسائٹی سے وابستہ افراد نے اپنی درپیش مشکلات اور چیلنجز پر بات کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ نوجوانوں کے مسائل، دباؤ اور چیلنجز کو سمجھنے کے لیے اس طرح کے مکالماتی پروگرام باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ان نشستوں میں نہ صرف پارٹی سے وابستہ بلکہ غیر سیاسی نوجوانوں کو بھی مدعو کیا گیا، جنہوں نے کھل کر اپنے خدشات، پریشانیاں اور تجاویز پیش کیں۔ محبوبہ مفتی کے مطابق جموں و کشمیر کے نوجوانوں نے خاص طور پر ریاست سے باہر اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر تشویش کا اظہار کیا، اور ان مسائل کو نظرانداز کرنے کے بجائے انہیں تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔پی ڈی پی صدر نے کہا کہ جموں و کشمیر علیحدگی نہیں بلکہ عزت، امن اور باوقار مکالمہ چاہتا ہے تاکہ لوگ ملک کے اندر احترام کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے درمیان روڈ میپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر سخت قوانین جیسے یو اے پی اے اور پی ایس اے سے پیدا ہونے والے دباؤ سے نجات چاہتا ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کے ساتھ مفاہمت ناگزیر ہے کیونکہ بڑی تعداد میں نوجوان خود کو مجروح اور الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ پی ڈی پی جموں و کشمیر کے عوام اور باقی ہندوستان کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نوجوانوں کے اٹھائے گئے سوالات پہلے ہی دہلی تک پہنچ چکے ہیں اور حکومت کو 2019 کے بعد کی پالیسیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔

بعد ازاں جموں میں منعقدہ ’’گل بات‘‘ پروگرام میں بھی طلباء اور سیول سوسائٹی کے افراد نے شرکت کر کے اپنی بات رکھی۔ اس موقع پر محبوبہ مفتی نے 2015ء میں بی جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد نے یہ فیصلہ جموں و کشمیر کے وسیع تر مفاد اور جموں کے عوام کے مینڈیٹ کے احترام میں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایجنڈا آف الائنس ریاست کے تحفظ اور استحکام کے لیے تشکیل دیا گیا تھا اور اس وقت بی جے پی نے دفعہ 370 کو تسلیم کیا تھا۔ پروگرام کے حاشیے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2019 کے بعد جموں میں باہر سے لوگوں کی آمد میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث جرائم اور مقامی کاروباروں پر دباؤ بڑھا ہے…

پی ڈی پی کی طرف سے شروع کیے گیے اس پروگرام کو راہل گاندھی کی جانب سے اس رابطہ کاری کیساتھ بھی جوڑا جا سکتا ہے جہاں وہ مختلف طبقے کے کاری گروں سے ملاقات کر کے انہیں سنتے ہیں۔وہیں پی ڈی پی کی قیادت کی طرف سے ہدایت دی گئی ہے کہ ہر شہر اور گاؤں میں مباحثے اور مکالمے کے پروگرام منعقد کیے جائیں۔ ان نشستوں میں پارٹی کے سینئر رہنما شرکت کریں گے جبکہ مقامی نوجوانوں کو مرکزی کردار دیا جائے گا۔ پارٹی رہنماؤں کی تقاریر کم سے کم ہوں گی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پی ڈی پی نے اپنی سیاسی بنیاد دوبارہ مضبوط کرنے اور نوجوانوں سے دوبارہ رابطہ قائم کرنے کے لیے کتھ باتھ اور گل بات کے طریقۂ کار کو اختیار کیا ہے۔ ان پروگرامز کچھ اہم چیزیں جو دیکھنے میں آئی کہ پی ڈی پی لیڈران کی طرف سے پوچھا جا رہا ہے کہ حکومت سے کیا چاہتے ہیں اور پی ڈی پی سے ان کی کیا توقعات ہیں۔ پی ڈی پی انہیں اپنا سیاسی اور سماجی ایجنڈا بھی آگاہ کرتی ہے۔ اور یہ مہم مکمل طور پر نوجوانوں پر مرکوز ہے ۔ وہیں ان ملاقاتوں میں نہ صرف 2014ء میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا جواز پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ بھاجپا کے ساتھ اتحاد کی سزا دس سال گزر جانے کے باوجود بھی پی ڈی پی کو لوگوں کی طرف سے مل رہی ہے اور اسکی تازہ مثال گزشتہ سال کے اسمبلی انتخابات ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق جہان ایک طرف لیڈران پارٹی چھوڑ گئے وہیں زمینی سطح پر بھی پارٹی کھوکھلی ہوگئی۔ تاہم تجزیہ نگار مانتے ہیں اس وقت بھی جموں کشمیر میں این سی کے بعد اگر کسی پارٹی کو لوگ متبادل مانتے ہیں تو وہ پی ڈی پی ہی ہو سکتی ہے۔
وہیں نوجوانوں پر فوکس کرنے کی وجہ یہ بھی مانی جا رہی ہے کہ آگے پارٹی کو چلانے میں وحید الرحمن پرہ اور التجا مفتی کا اہم کردار ہوگا۔

این سی کا ردعمل

این سی ترجمان عمران نبی ڈار نے پروگرام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ پی ڈی پی خود کو نوجوان دوست جماعت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

عمران نبی ڈار نے کہا کہ یہی وہ جماعت ہے جس نے اپنے دورِ اقتدار میں ہزاروں نوجوانوں پر پبلک سیفٹی ایکٹ نافذ کیا، جس کے ذریعے نوجوانوں کی آواز اور ان کے خوابوں کو جرم بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ پارٹی تھی جس کے دور میں نہتے مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنز کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں نوجوان زخمی ہوئے اور کئی افراد مستقل معذوری کا شکار ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی آج نوجوانوں سے ہمدردی کا ڈھونگ رچا رہی ہے، مگر اس کا ماضی اس کے دعوؤں کی نفی کرتا ہے۔ ان کے مطابق کشمیری نوجوان آج بھی اس دور کے زخموں کے ساتھ جی رہے ہیں، جن کا سبب پی ڈی پی کی پالیسیاں تھیں۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

بھارت نے بنگلہ دیش میں ہندو شخص کے قتل کی مذمت کی، ‘اقلیتوں کے خلاف جاری مخاصمت انتہائی تشویشناک’

Next Post

منشیات کے بُرے اثرات

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

جموں وکشمیر میں ایل جی سے 5 سال کے بعد محبوبہ مفتی نے کی ملاقات، کشمیری پنڈتوں کے لئے کیا یہ بڑا مطالبہ

’’تجربات کو جھٹلانے سے حقیقت نہیں بدلتی…‘‘، اے آر رحمان تنازع پر محبوبہ مفتی کا بیان

18/01/2026
جموں کی علیحدگی کا مطالبہ: جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے موڈ پر

جموں کی علیحدگی کا مطالبہ: جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے موڈ پر

16/01/2026
این ایم سی نے شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی منظوری منسوخ کر دی، طلباء کو دوسرے اداروں میں شفٹ کیا جائے گا

شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل داخلہ معاملہ: "سانپ بھی مرا اور لاٹھی بھی ٹوٹی”

09/01/2026
گلفام بارجی!  اداکاری سے شاعری تک

گلفام بارجی! اداکاری سے شاعری تک

02/01/2026
قومی شاہراہ، جس نے میوہ صنعت کی کمر توڑ دی!

سال 2025: کشمیر کی میوہ صنعت کے لیے بدترین سال

02/01/2026
ملاوٹ کے سائے میں اب انڈا!

ملاوٹ کے سائے میں اب انڈا!

19/12/2025
Next Post

منشیات کے بُرے اثرات

بیٹیوں کے لیے ہم سفر نہیں، ہم خیال ڈھونڈیے

بیٹیوں کے لیے ہم سفر نہیں، ہم خیال ڈھونڈیے

جلد ہی لوگوں کے لیے انگریزی بولنا ہوگا باعثِ شرم: امیت شاہ

پہلگام حملے کی تحقیقات پاکستان کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرے گی : امیت شاہ

ریزرویشن پالیسی پر احتجاج کی تیاری: نیشنل کانفرنس نے آغا روح اللہ مہدی سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا

ریزرویشن پالیسی پر احتجاج کی تیاری: نیشنل کانفرنس نے آغا روح اللہ مہدی سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا

مادری زبان کی مٹھاس مریض کی روح کو تراوت بخشتی ہے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »