ضلع ریاسی کے شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس میں گزشتہ برس تفصیلی معائنے کے بعد نیشنل میڈیکل کمیشن نے 50 نشستوں کے ساتھ ایم بی بی ایس کورس چلانے کی اجازت دی تھی۔ لیکن اب اس ادارے میں ایم بی بی ایس کورس کی اجازت منسوخ کر دی گئی ہے۔یہ سوال اہم ہے کہ اس فیصلے پر بھاجپا اور دیگر دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں خوش کیوں ہیں، جبکہ بظاہر ان کا نقصان ہونا چاہیے تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ برس جب 50 سیٹیں ادارے کو الاٹ کی گئیں، تو میرٹ کی بنیاد پر وادی سے تعلق رکھنے والے 42 مسلم طلبہ اور جموں سے تعلق رکھنے والے 8 طلبہ کو داخلہ ملا۔یہ خبر سامنے آتے ہی جموں میں بھاجپا، بجرنگ دل، شیو سینا، ویشو ہندو پریشد اور دیگر دائیں بازو کی جماعتوں نے شدید مخالفت شروع کر دی اور احتجاجی مظاہرے کیے، جس میں یہ مانگ رکھی گئی کہ ادارے میں صرف سناتن دھرم کے ماننے والوں کو داخلہ دیا جائے۔ ان جماعتوں نے کہا کہ شری ماتا ویشنو دیوی شرائن میں چندہ ہندووں کی طرف سے دیا جاتا ہے، اس لیے داخلہ بھی ہندو طلبہ کو ملنا چاہیے۔یہ تحریک شری ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی کی قیادت میں چلائی جا رہی تھی، جو مختلف ہندو تنظیموں کا اتحاد ہے۔ دسمبر میں بھاجپا کے رہنماؤں نے مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا سے بھی ملاقات کی۔ جموں میں قریب ڈیڑھ ماہ تک احتجاجی مظاہرے جاری تھے۔
حکم نامہ کیا کہتا ہے؟
نیشنل میڈیکل کمیشن کے میڈیکل اسسمنٹ اینڈ ریٹنگ بورڈ نے شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس کی منظوری کم از کم معیاری تقاضے پورا نہ کرنے کی وجہ سے واپس لے لی۔حکم نامے کے مطابق رواں تعلیمی سال کے دوران کالج میں داخلہ لینے والے تمام طلبہ کو جموں و کشمیر کے دیگر تسلیم شدہ میڈیکل اداروں میں منتقل کیا جائے گا تاکہ کسی طالب علم کا تعلیمی نقصان نہ ہو۔ منتقلی کا عمل مرکز کے زیر انتظام علاقے کی نامزد صحت اور کونسلنگ اتھارٹی انجام دے گی۔کالج کو ابتدائی طور پر 50 ایم بی بی ایس نشستوں کے ساتھ نئے میڈیکل کالج کے قیام کی اجازت دی گئی تھی، لیکن اجازت متعدد شرائط سے مشروط تھی، جن میں بنیادی ڈھانچہ، فیکلٹی، مریضوں کی تعداد اور تدریسی سہولیات شامل تھیں۔اجازت کے بعد کمیشن کو کالج کے خلاف متعدد شکایات موصول ہوئیں، جن میں ناکافی انفراسٹرکچر، طبی سہولیات کی کمی، اہل تدریسی عملے اور ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کی قلت، مریضوں کی کم تعداد اور بستر پر کم قبضے جیسے مسائل شامل تھے۔
سیاسی جماعتوں کا ردعمل
اس فیصلے پر جموں میں دائیں بازو کی جماعتوں نے جشن منایا، جبکہ این سی، پی ڈی پی اور کانگریس نے مایوسی کا اظہار کیا۔
جموں میں پریس کانفرنس میں بھاجپا یو ٹی صدر ست شرمانے نے کہا کہ این ایم سی کا فیصلہ قابل ستائش ہے اور یہ جموں میں کشیدہ صورتحال کو پُرامن بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔دوسری طرف وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایس ایم وی ڈی میڈیکل کالج ریاسی میں داخلے منسوخ ہونے پر سنگھرش سمیتی کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔ عمر نے کہا کہ اس بار، 50 میں سے 40 سیٹیں کشمیری طلباء کے لیے مختص کی گئی تھیں، لیکن ایک یا دو سال بعد یہ سیٹیں تقریباً 400 تک پہنچ جاتیں، اور ممکن ہے کہ 200-250 طلباء جموں سے ہوتے انہوں نے متاثرہ طلبہ کو ان کے گھروں کے قریب میڈیکل کالجوں میں منتقل کرنے کی ہدایت دی تاکہ انہیں کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو۔پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان رویندر شرما نے سوال اٹھایا کہ "ماتا ویشنو دیوی کے نام سے منسوب ایک اہم طبی ادارے کو بند کرنے سے جموں کو کیا حاصل ہوا؟” انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے خطہ جموں نقصان میں رہا اور بی جے پی کو وضاحت دینی ہوگی۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن اسمبلی وحید الرحمن پرہ نے کہا کہ میڈیکل کالج کی منسوخی انتہائی افسوسناک ہے اور یہ فیصلہ صرف اس وجہ سے کیا گیا کہ وہاں اقلیتوں کو مکمل داخلہ مل رہا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی قیادت والی حکومت آئینی اقدار کے تحفظ میں ناکام رہی اور سماجی تقسیم کو ہوا دی۔ پرّہ کے مطابق ایسے فیصلے میرٹ پر مبنی اداروں کو کمزور کرتے ہیں اور برابری کے مواقع کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس سے معاشرے میں خوف، تقسیم اور عدم تحفظ بڑھتا ہے۔
تجزیہ نگار سوال کر رہے ہیں کہ اگر پہلے یونیورسٹی کو 50 سیٹیں دی گئی تھیں تو اچانک یہ کیسے غیر معیاری ہو گئی؟ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ مخصوص برادری کے طلبہ کو کالج سے ہٹانے کے لیے کیا گیا، تاکہ اگلے سال صرف ہندو طلبہ کو داخلہ دیا جائے۔
دوسری جانب تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جموں میں سیاسی جماعتوں کے ایسے اقدامات جو دو برادریوں میں دراڑ پیدا کرتے ہیں، سے جموں اور کشمیر کے درمیان فاصلہ بڑھے گا نہ کہ کم ہوگا ۔









