ادبی دنیا میں کئی ایسی ممتاز شخصیات کا بھی عمل دخل ہے جو اپنے پیشے کے ساتھ ساتھ ادب و زبان کی خدمت کرتے ہیں اور آج تک ادبی دنیا میں کئی ایسی نامور شخصیات گزری ہیں جو سرکاری عہدوں پر فائز رہنے کے ساتھ ساتھ اپنی ادبی صلاحیتوں سے ادبی دنیا کو بھی سیراب کرتے رہے ہیں بلکہ آج بھی اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز کئی شخصیات ادب و زبان کی خدمت کرتے ہیں ۔ادبی دنیا ایک وسیع دنیا ہے جس میں کوئی بھی باصلاحیت شخص کسی بھی بندش کے بغیر اپنے قلم اور صلاحیت سے اس سے آباد کرسکتا ہے۔ آج جس شخصیت کا میں تزکرہ کرنے جارہا ہوں وہ شخصیت ہے گلفام بارجی۔
سرینگر کے مضافات میں ہارون علاقہ کے بارجی محلہ میں سال 1972 کو ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے گلفام بارجی،والدین نے نام رکھا غلام حسین اور مڈل اسکول نیو تھید سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔آٹھویں جماعت پاس کرکے بعد میں گورنمنٹ ہائی اسکول ہارون میں داخلہ لیا اور دسویں جماعت کی تعلیم ہارون سے حاصل کرکے مزید تعلیم حاصل کرنے کےلئے شالیمار ہائر سکینڈری میں داخلہ لیا بارھویں جماعت پاس کرنے کے بعد گلفام بارجی کو تعلیم کی طرف دلچسپی کم ہوگئی اور اس دوران ایک سرکاری محکمہ میں ملازمت اختیار کر لی، جو تاحال جاری ہے۔چونکہ گلفام بارجی کے خاندان میں ڈرامہ یا شاعری کا رجحان کسی بھی فرد کو نہیں تھا اور نا ہی گلفام بارجی کے گھر میں اس قسم کا کوئی ماحول تھا۔ جب گلفام بارجی مڈل کی تعلیم حاصل کر رہا تھا تو اس وقت لوگوں میں ریڈیو سننے کا بول بالا تھا گلفام بارجی بھی ریڈیو سننے کا بے حد شوقین تھا کم عمری میں ریڈیو ڈرامہ اور بچوں کا پروگرام "پھولہ ؤین ٹوئر "نام سے منسوب ریڈیو پروگرام گلفام بارجی کبھی سننا نہیں بھولتے جس کی وجہ سے گلفام بارجی نے خود بھی ریڈیو کشمیر سے نشر ہونے والے بچوں کے پپروگرام”پھولہ ؤین ٹوئر ” میں حصہ لینا شروع کیا اور آہستہ آہستہ گلفام بارجی ریڈیو کشمیر آج کے "آل انڈیا ریڈیو سرینگر”کے ہر ایک شعبہ سے باخبر ہوگیے جس دوران انہوں نے سال-1991 میں ریڈیو سے باظابطہ ڈرامہ آڈیشن پاس کیا اور تب سے متواتر کئی مقبول عام ریڈیو ڈراموں میں بحیثیت اداکار کام کیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ گلفام بارجی نے اپنے سفر کو آگے بڑھاتے ہوئے اس دوران دوردرشن کیندر سرینگر "کأشرچینل” سے بھی ڈرامہ آڈیشن پاس کیا اور کأشر چینل سے بھی کئی سیریلوں میں بحیثیت اداکار کام کیا حالانکہ ملازمت کی وجہ سے گلفام بارجی کا کچھہ عرصہ تک ریڈیو اور دوردرشن سے رابطہ منقطع ہوگیا لیکن جوں ہی انہیں فرصت کے لمحات مئیسر ہوتے تو اپنی ادکاری کی پیاس بجھانے میں دیر نہیں کرتے۔حالانکہ گلفام بارجی سے اسٹیج اداکاری میں بھی نام کمایا ہے اور کئی مقبول عام اسٹیج ڈراموں میں اپنی بہترین اداکاری کے جوہر دکھائے اور ڈرامہ شائقین کے دل جیت لئے۔سال 1997 میں گلفام بارجی نے ایک کشمیری ریڈیو ڈرامہ "لوکٹ نوش” بھی تحریر کیا جو اس وقت کی یووانی سروس سے نثار نسیم کی ہدایت میں نشر ہوا۔ سال 2001 میں گلفام بارجی نے *زندگی ہئند رنگ* کے نام سے چھ قصطوں پر مشتمل ایک مزاحیہ ٹیلی سیریز بھی تحریر کی جس کی لوگوں نے خوب سراہنا کی۔ابھی چند سال پہلے جب انٹرنیٹ نہیں تھا تو وادی میں CD ڈرامہ کا چلن چلا گلفام بارجی نے بھی کئی CD ڈراموں میں کام کیا اور کئی مزاحیہ CD ڈراموں کو تحریر بھی کیا ہے جو عوام میں کافی مقبول ہوگئے۔مرحوم بشیر کوتر اور گلزار فائٹر کے ساتھ کی گئی اداکاری سے گلفام بارجی کو مزاحیہ اداکار کی حیثیت سے ایک نئی پہچان ملی۔ گلفام بارجی نے کئی بالی وڈ فلموں میں بھی مختصر ہی سہی لیکن اداکاری کی ان فلموں میں حامد، رومیو اکبر والٹر، کشمیر ڈائری، کشمیر سے، فٹ پرنٹس جس کی کینیڈا میں نمائش کی گئی وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ گلفام بارجی نے ایک پہاڑی فلم "مٹی نصیب دی” میں بھی کام کیا اور یہ فلم پنجابی اور اردو میں بھی تیار کی گئی ہے۔ گلفام بارجی نے کئی ویب سیریز میں بھی بحیثیت اداکار کام کیا ہے۔ دوسری طرف گلفام بارجی صحافتی میدان میں بھی اپنے قلم کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور کئی روزناموں کے لئے کبھی کبھی ادبی مضامین کے علاوہ سماج میں پائی جانے والی برائیوں کی عکاسی بھی کرتے ہیں اور اچھائیوں کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔اگرچہ بارجی نثر نگار کی حیثیت سے ادبی میدان میں قدم رکھا تھا لیکن دوسروں کی شاعری کی طرف گلفام بارجی کا رجہان روز بروز بڑتا جارہا تھا جس کے پسمنظر میں بارجی نے اردو شاعری میں قلم آزمانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ اردو میں ان کا ایک شعر جو آج بھی گلفام بارجی کسی بھی ثقافتی پروگرام میں پہلے گنگناتے ہیں اور وہ شعر یوں ہے۔ ؎
ان سے وفا کی امید کیا رکھیں گلفام
جو خود کسی کی وفا کے انتظار میں ہوں
یہ گلفام بارجی کے قلم سے نکلا پہلا اردو شعر ہے اس کے بعد بارجی نے کشمیری شاعری کی طرف رخ کیا اور کشمیری شاعری میں قلم آزمائی کی جو کافی حد تک کامیاب رہی۔ کشمیری شاعری کے میدان میں قدم رکھتے ہی گلفام بارجی نے معروف شاعر سلیم یوسف کی رہنمائی میں کئی غزلیں اور نظمیں لکھی جن میں نعت شریف،مداح اور نوحہ بھی شامل ہیں اور یہ سلسلہ بھی تاحال جاری ہے حالانکہ گلفام بارجی نثر لکھنے میں بھی کسی حد تک ماہر ہے،یہاں پر گلفام بارجی کی لکھی ہوئی کشمیری غزل کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔ ؎
خابن خیالن اندر مے سجووم
غم چانہ ہجروک مے ما کانسہ بووم
بہتھ داربرتروپرتھ چھس کٹھس منز
چانین خطن پھیور دوان بے بسی منز
ژلتھ دور کوتاہ أچھو اوش میہ ہورم
غم چانہ ہجرک میہ ما کأنسہ بووم
سفر زندگی ہند ژے روس طے کران چھس
کس ونہ بو کوتاہ عذابس اندر چھس
وچھ باغ حسنا مے کتھ کیتھ سجووم
غم چانہ ہجرک میہ ما کأنسہ بووم
اس طرح گلفام بارجی اداکاری، نثر نگاری اور شاعری کے میدان میں آگے بڑھ رہے ہیں اور اداکاری اور شاعری کو اپنا مشغلہ بنا چکے ہیں۔گلفام کو ادب کے تئیں ان کی بے لوث خدمات کے عوض آج تک کئی سرکاری،غیر سرکاری،سماجی اور ثقافتی اداروں کی جانب سے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔گلفام بارجی عنقریب ادبی دنیا میں اپنی پہلی تصنیف منظر عام پر لانے کی تیاری کررہا ہے یہ تصنیف شاعری اور نثری مواد پر مشتمل ہوگی۔ ہماری دعا ہے کہ گلفام بارجی کو خداوند کریم اور زور قلم عطا کرے اور صحت کاملہ سے نوازے۔ آمین۔










