گزشتہ برس کے آخری دنوں اور رواں ماہ کے دوران جموں و کشمیر کی سیاست میں جس معاملے نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی، وہ جموں کو کشمیر سے الگ کر کے اسے الگ ریاستی درجہ دینے کا مطالبہ ہے۔ یہ بحث دسمبر کے وسط میں اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب فٹ بال کے سنتوش ٹرافی ٹورنامنٹ کے لیے جموں و کشمیر سے منتخب کیے گئے 20 کھلاڑیوں میں سے صرف ایک کھلاڑی کا تعلق جموں خطے سے نکلا۔اس سلیکشن پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے علاقائی اور مذہبی امتیاز کا الزام عائد کیا۔ اسی دوران کانگریس کے سابق لیڈر اور موجودہ بی جے پی رکن اسمبلی شام لال شرما کے بیان نے ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دے دیا۔ سنتوش ٹرافی کی سلیکشن سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا:”میں یہ بات بہت پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور آج بھی کہتا ہوں کہ جموں والے کشمیر کے ساتھ آخر کب تک چل سکتے ہیں؟“ بتادیں کہ شام لال شرما نے 2010 میں، کانگریس میں رہتے ہوئے بھی اسی نوعیت کا بیان دیا تھا۔ان کے اس بیان کے بعد جموں کی دائیں بازو کی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے الگ ریاستی درجہ دینے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ اسی تناظر میں رواں ماہ کے پہلے ہفتے جموں میں سول سوسائٹی کی جانب سے ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں جموں کو الگ کرنے کے مطالبے کے حق میں ایک قرارداد بھی منظور کی گئی۔اسی دوران شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج سے متعلق نیشنل میڈیکل کمیشن کے ایک فیصلے نے معاملے کو مزید ہوا دی، جس پر وادی کی سیاسی جماعتوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ اسی کے ساتھ بی جے پی کے سابق وزیرِ مملکت اور ریاسی سے سابق رکن اسمبلی اجے آنند نے شام لال شرما کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا:”کب تک ہم ناانصافی برداشت کریں گے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم الگ ریاست کا مطالبہ کریں۔“ان کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے کئی یوتھ لیڈران بھی اسی مطالبے کو زور و شور سے اٹھا رہے ہیں۔
تاہم اس پورے معاملے پر جموں و کشمیر بھاجپا یونٹ لیڈران ایک بیچ پر نہیں۔اور ایسا کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ بھاجپا لیڈران ایک بیچ پر نہ ہوں۔ بی جے پی جموں و کشمیر کے جنرل سیکریٹری اشوک کول نے واضح کیا کہ اگرچہ بعض اوقات انفرادی سطح پر ایسی آراء سامنے آتی رہتی ہیں، مگر یہ پارٹی کے مؤقف کی عکاسی نہیں کرتیں۔ انہوں نے کہا:”بی جے پی اتحاد پر یقین رکھتی ہے۔ جموں و کشمیر کو ایک ہی اکائی کے طور پر متحد اور سالم رہنا چاہیے۔“
تاہم معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب کشمیر صوبے سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر سیاسی لیڈر نے بھی جموں اور کشمیر کی علیحدگی کی حمایت میں بات کی۔ پیپلز کانفرنس کے چیئرمین اور رکن اسمبلی ہندواڑہ، سجاد غنی لون نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں خطوں کے درمیان “خوش اسلوبی سے طلاق“ پر غور کیا جائے۔
ایکس پر اپنے بیان میں سجاد لون نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف ترقیاتی امور تک محدود نہیں بلکہ جموں کو ایک ایسے “ڈنڈے” کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جس سے کشمیریوں کو دبایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا:”میرا خیال ہے کہ کشمیر کے عوام اب مزید یہ سب برداشت نہیں کر سکتے۔ کشمیر میں علیحدگی کی خواہش پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ کوئی قیادت سچ کو سچ کہے۔“انہوں نے جموں کی قیادت پر “سلیکٹیو جرأت” دکھانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب مرکز نے سب کچھ چھین لیا، کاروبار منتقل کر دیے اور دربار موو ختم کر دیا گیا تو وہ خاموش رہے، مگر اب وہ اپنے ہی کشمیر خطے کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ سجاد لون نے کہا کہ کشمیر کو دہشت گرد خطہ قرار دے کر باقی ملک کے سامنے پیش کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے کہا:”ہم چاہتے ہیں کہ جموں ترقی کرے، لیکن یہ ضد کہ جو کچھ کشمیر کو ملے وہ سب کچھ جموں کو بھی ملنا چاہیے، ناقابلِ فہم ہے۔ جموں میں پہلے ہی آئی آئی ایم موجود ہے، تو اگر کشمیر میں لا یونیورسٹی بن جائے تو اس میں کیا برائی ہے؟“
وادی کے دیگر سیاسی رہنماؤں کا ردِعمل
جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں کے لیے الگ ریاست کے تصور کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا مقصد جموں و کشمیر کو ”توڑنا اور کمزور کرنا“ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی نے پہلے لداخ کو الگ یونین ٹیریٹری بنا کر نقصان پہنچایا اور اب وہی عمل جموں کے ساتھ دہرانا چاہتی ہے۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کی سرگرمیوں نے جموں و کشمیر کے عوام کے اس تاریخی فیصلے کو کمزور کر دیا ہے، جس کے تحت انہوں نے دو قومی نظریے کو مسترد کر کے سیکولر ہندوستان کا انتخاب کیا تھا۔
محبوبہ مفتی نے کہا : ”ہماری قیادت نے دو قومی نظریے کو مسترد کیا تھا، کیونکہ وہ اس ملک کو گاندھی کا ہندوستان سمجھتی تھی۔ اگر آج ہم ریاستوں کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے لگیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جناح کا نظریہ درست تھا۔“وہیں کابینہ وزیر جاوید احمد رانا نے طنزیہ انداز میں کہا:”جن لوگوں نے جموں و کشمیر کے ٹکڑے کیے، وہ کنک منڈی کو بھی اگر ریاست بنانا چاہتے ہیں تو بنا لیں۔“ دوسری طرف کشمیر سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے سینئر لیڈر صوفی یوسف نے خبردار کیا کہ اگر جموں کو کشمیر سے الگ کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تو وہ تقریباً ایک لاکھ کارکنوں کے ساتھ بی جے پی چھوڑ دیں گے۔
جموں میں پہلے بھی ایسی مانگ اٹھی
یہ پہلا موقع نہیں جب جموں کو الگ کرنے کی مانگ اس سے پہلے بھی اٹھتی رہی ہے لیکن اتنی توجہ اس مسئلے پر نہیں دی گئی۔دراصل دفعہ 370ء کی منسوخی کے بعد انکور شرما نامی وکیل نے ”اک جٹ جموں“ نامی پارٹی کی بنیاد رکھی جس کا مقصد جموں کے لیے الگ ریاستی درجہ اور کشمیر کو دو یوٹیز میں تقسیم کرنا جس میں سے ایک ”پنن کشمیر“ کے نام سے کشمیری پنڈتوں کے لیے ہو۔ تاہم سال 2024ء میں یہ پارٹی بھاجپا میں ضم ہو گئی اور آج انکور شرما بھاجپا کے ترجمان ہیں۔اگر مزید پیچھے جائیں تو جموں کے متنازعہ سیاست داں اور موجودہ کانگریس لیڈر جو بھاجپا کے کبھی وزیر ہوا کرتے تھے نے سال 2004ء میں بطور کانگریس لیڈر الگ جموں کرنے کی بات پارلیمنٹ میں کہی تھی اور وہ آج بھی اس کی حمایت کرتے ہیں۔
کیا جموں کے لیے الگ ریاستی درجہ ممکن ہے؟
جموں کشمیر میں الگ جموں کرنے کی مانگ سے قبل ریاستی درجے کی مانگ زوروں پر تھی تاہم اب جموں کو الگ ریاستی درجہ دینے کی مانگ کے بعد ریاستی درجہ کی مانگ کا رخ بھی اُس طرف مڑ گیا ہے۔ وہیں موجودہ مرکزی سرکار سے ریاستی درجے کی بحالی کی جتنی کم رکھی جایے اتنا اچھا ہوگا کیوں کہ ریاستی درجے کی بحالی کا مطلب جموں کشمیر سرکار کو بااختیار بنانا۔ اور اس وقت جموں کشمیر میں این سی سرکار ہے اور اب کشمیر مرکز والے سیاسی لیڈران بھاجپا کو ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ اگر سب کچھ اس وقت جموں کشمیرمیں سرکار ہونے کے باوجود بھی مرکز کے کنٹرول میں ہے تو نئی دلی اس کنٹرول کو ختم کیوں کرےگی۔ اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی اور ریاست کو دو یونین ٹیریٹریز—جموں و کشمیر اور لداخ—میں تقسیم کیے جانے کے بعداب ایک الگ صوبہ کرنے کی بات کی جائے تو بھارتی آئین کا آرٹیکل 3 پارلیمنٹ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی ریاست یا علاقے کی سرحدوں میں تبدیلی کرے، نئی ریاست قائم کرے یا موجودہ ریاست کو تقسیم کرے۔ جبکہ الگ ریاست بنانے کے لیے مرکزی سرکار کو سادہ اکثریت کی ضرورت ہے اور بھاجپا سربراہی والی این ڈی اے کے پاس اتنے نمبرز بھی ہیں۔ لیکن اگر سیاسی طور پر دیکھا جائے تو کشمیر صوبہ آبادی کے لحاظ سے دیکھا مسلم اکثریتی علاقہ ہے اور اس سے یہ تاثر پیدا ہو گا کہ مذہب کے نام پر دو خطوں کو تقسیم کیا گیاجو آئین کی بنیاد ”سیکولر “ لفظ کے منافی تصور کیا جا سکتا ہے۔تاہم وزیر اعظم کی کرسی پر پچھلے 12 سال سے براجمان نریندر مودی کی سربراہی والی سرکار کب کیا فیصلہ لے کوئی نہیں جانتا۔









