کچھ رور قبل ضلع ادھم پور کے چنینی شاہراہ پر ایک ہی کنبے کے چار افراد ایک دلخراش سڑک حادثے میں لقمہ اجل بن گئے ۔ جن میں ایک عالم دین بھی شامل تھے ۔ جبکہ اس سے قبل کشتواڑ میں ایک کار سڑک حادثے کا شکار بنی جس میں سوار5 میں سے چار پی ڈبیلو ڈی محکمہ کے عہدیداران مارے گئے ۔اس سے قبل پچھلے چند ماہ میں درجنوں افراد سڑک حادثات میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ خطہ چناب میں ہی نہیں بلکہ سرینگر شہر اور دیگر وادی کے اضلاع میں بھی آئے روز سڑک حادثات کی خبریں اب معمول کی بات ہے۔اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہر روز یہاں سڑکوں پر موت کا رقص ہوتا ہے۔یہ جان کر شائد آپ حیران ہونگے کہ جموں وکشمیر میں تشدد کے واقعات سے زیادہ سڑک حادثات میں قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔آخر ان سڑک حادثات کی وجوہات کیا ہے اور ان حادثات کو کم کرنے کےلئے کیا اقدامات کئے جانے چاہیے ،ان معاملات پر نظر ڈالنے کی کوشش کریں گا۔
اعدادوشمار پر نظر ڈالیں توگزشتہ سال جموں و کشمیر میں 5463سڑک حادثات درج کیے گئے تھے جن میں 713 افراد نے اپنی قیمتی جانیں گنوائی جبکہ 6447 افراد زخمی ہوئے۔تاہم اس میں خاص بات یہ کہ 65 فیصد یعنی 3585 سڑک حادثات صوبہ جموں سے درج ہوئے۔1876 حادثات کشمیر صوبے میں درج ہوئے۔ سب سے زیادہ سڑک حادثات صوبے کشمیر کے سرینگر ضلع میں331 سڑک حادثات ہوئے وہیں صوبہ جموں میں سب سے زیادہ ضلع جموں میں 1038 درج ہوئے۔
جموںو کشمیر میں ان سڑک حادثات کی کئی وجوہات مانی جاتی ہیں۔ جن میں تیز رفتاری، ڈرائیوروں کی ناتجربہ کاری، خستہ حال سڑکیں، پرانی گاڑیاں، تنگ سڑکیں شامل ہیں۔ تاہم این سی آربی یعنی نیشنل کرائمز ریکارڈز بیورو کی ایک رپورٹ کے مطابق مرکزی زیر انتظام والے علاقہ جموں وکشمیر میں حادثات کی سب سے بڑی وجہ’ ’ہائی ایکسیڈینٹل پروون ائریا‘ ‘یعنی پُر خطر سڑکیں ہیں جو کہ سب سے زیادہ رام بن ، کشتواڑ اور ڈوڈہ جیسے اضلاع میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اور دوسری طر ف سے مسافر گاڑیوں میں گنجائش سے زیادہ سواریاں بھرنے سے حادثے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ وہیں گاڑیاں کا خستہ ہونا بھی پیر پنجال اور وادی چناب میں بڑھتے سڑک حادثات کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ ہے۔
رواں سال 14 ستمبر کو پونچھ ضلع پیش آئے المناک سڑک حادثہ میں چار خواتین سمیت 11افراد مارے گئے، جبکہ 26 دیگر زخمی ہوگئے۔لیکن اسکے بعد یہ بات سامنے آئی کہ منی بس 16 سال پرانی تھی جس کے بعد اسکی معیاد میں مزید پانچ سال بڑھائے گئے۔ اور 28 سیٹوں والی گاڑی میں چالیس افراد سوار تھے۔ اسکے اگلے روز ہی 15 ستمبر کو سرنکوٹ سے جموں کی جانب سے ایک بس حادثے کا شکار ہو کر گہری کھائی میں جا گری جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے۔حادثے میں بچ جانے والے ایک مسافر نے کہا کہ انہیں لگ رہا تھا کہ’جیسے بس اُڑ رہی تھی‘۔وہیں دوسری طرف سے وادی کشمیرمیں ایسے کئی واقعات دیکھنے کو ملے جہاں والدین نے اپنے نابالغ بیٹوں کو چابیاں تھمائی اور اس کا نتیجہ کئی قیمتی جانوں کے زیاں کی صورت میں نکلا۔ اسی طرح کا واقعہ گزشتہ ماہ ضلع بڈگام میں پیش آیا جہاں ایک لوڈ کرئر نے 15 سالہ لڑکی کو ٹکر مار کر اسے موت کی ابدی نیند سلا دیا۔ پولیس کی جانب سے تفتیش کے بعد ڈرائیور نابالغ نکلا جس کے بعد پولیس نے ان کے والد کو گرفتار کر دیا۔ اسی طرح سے ماہِ جون میں سرینگر کے راجباغ علاقے میں ایک نابالغ ڈرائیور نے کپواڑہ کے ایک شخص کو کچل ڈالا جس کے بعد پولیس نے دو نابالغوں اور انکے والدین کو بھی گرفتار کیا۔جبکہ دوسری طرف سے تنگ سڑکیں بھی ٹریفک حدثات کی بہت بڑی وجہ ہیں۔ جہاں پچھلی کئی دہائیوں سے سڑکیں ویسی کی ویسی ہیں تاہم دوسری طرف سے سڑکوں پر گاڑیوں کا بے تحاشہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔جموں وکشمیر پچھلے چودہ سا لوں میں گاڑیوں کی تعداد دوگنی ہوگئی ہے ۔ محکمہ ٹریفک کے اعدادوشمار کے مطابق
008ءمیں 668445(چھ لاکھ ارسٹھ ہزار چارسوپنتالیس )رجسٹرڈ گاڑیاں تھیں جن کی تعداد اب چودہ لاکھ ہوگئی ہے ۔ اگر تنگ سڑکیں ہوں اور گاڑیاں زیادہ ہوں سڑک حادثات اور ٹریفک جام تو لازمی بات ہے ۔اب اگر سڑک حادثات پر نظر ڈالیں تو اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کے پہلے سات ماہ میں 3617سڑک حادثات درج ہوئے جن میں 477 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ4953 زخمی ہوگئے۔
2020ءمیں کوویڈ کی وجہ سے سڑک حادثات میں کمی درج ہوئی اور827افراد مارے گئے،2021ءمیں477،2019ءمیں699 او2018ءمیں 489 افراد نے ان سڑک حادثات میں اپنی جانیں گنوابیٹھے ۔تاہم دوسری طرف سے حیران کن طور پر وادی کشمیر میں جہاں جموں صوبے کے مقابلے میں کم سڑک حادثات درج ہوتے ہیں لیکن یہاں چالان زیادہ رجسٹر ہوئے ہیں ۔رواں سال کے سات ماہ میں جموںو کشمیر میں کل 303345چالان درج کئے گئے ان میں وادی کے دس اضلاع میں 387423چالان رجسٹر ہیں،جو ساٹھ فیصد کے قریب بنتا ہے تاہم دوسری طرف سے رواں سال جموںو کشمیر میں کل سڑک حادثات میں سے 63 فیصد صوبے کشمیر میں ہوئے جب کل ہلاکتوں میں سے وادی میں33 فیصد ہوئی ہیں اور باقی صوبے جموں کے دس اضلاع میں ہوئی ہیں ۔









