• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
ہفتہ, جنوری ۲۴, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
پی ڈی پی یوتھ کنونشن ….محبوبہ مفتی اور وحید پرہ کے گلے شکوے

پی ڈی پی یوتھ کنونشن ….محبوبہ مفتی اور وحید پرہ کے گلے شکوے

شاہد لطیف....

by امت ڈیسک
02/12/2022
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

جموں و کشمیر کی سیاست میں رواں سال اس لحاظ سے کچھ الگ ہے کہ کئی برسوں کے انتظار کے بعد یہاں بالآخر کچھ نہ کچھ سیاسی سرگرمیاں زمین پر ہوتی نظر آنا شروع ہوگئی ہیں۔ آیا یہ بدلاﺅ عارضی ہے کہ مستقل ،اس کا تعین اور فیصلہ آنے والا وقت کرے گا لیکن حال ہی میں پہلے الطاف بخاری کی اپنی پارٹی اور اب محبوبہ مفتی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے یوتھ کنونشن کے لئے اجازت فراہم کرنے کے عمل نے جمی ہوئی برف کو یقیناکچھ نہ کچھ پگھلا دیا ہے۔ خاص طور پر پی ڈی پی کو جلسے کی اجازت ملنا کسی مثبت پیش رفت سے کم نہیں کیونکہ ماضی قریب تک اس جماعت کو ایسی اجازت مل بھی جاتی لیکن اس کی قائد محبوبہ مفتی کو گھر سے نکلنے کی اجازت بہت کم ملتی رہی ہے۔

یہ بات جان لینی اہم ہے کہ مرکز میں حکمران جماعت بی جے پی کےلئے آجکل کی پی ڈی پی جو ماضی قریب میں اس کی حلیف رہی ہے،اگرچہ بالکل اچھوت نہیں بھی ہے تو بھی کسی علیحدگی پسند جماعت ہی کی مانندمعتوب ضرور ہے۔ویسے کچھ سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ ماضی میں جب اٹل بہاری واجپائی اور پھر موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کشمیر آکرعوامی جلسوں سے خطاب کیا تو انہیں محبوبہ مفتی صاحبہ کی اسٹیج پر موجودگی بادل ناخواستہ ہی قبول ہوا کرتی تھی کیونکہ بی جے پی کی قیادت روز اول سے ہی محبوبہ سے کچھ ناراض رہی ہے۔ ان حالات میں سرینگر میں اس جماعت کو جلسہ منعقد کرنے کی اجازت دینا بھی کسی فراغ دلی سے کم نہیں جس کے پیچھے کے محرکات کا ہمیں کچھ علم نہیں۔ بہرحال اس جلسے سے جہاں محبوبہ جی نے دھواں دار خطاب کیا وہیں پر کچھ عرصہ تک جیل میں رہنے والے پی ڈی پی یوتھ لیڈروحید الرحمان پرہ نے بھی کچھ اس طرح کی باتیں کیں جن پر سیاسی ،سماجی اور عوامی حلقوں کے اندر ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

بی جے پی کو جموں و کشمیر میں1947ءکے پاکستانی حملہ آوروں کی طرح کام نہیں کرنا چاہئے: محبوبہ مفتی

محبوبہ مفتی نے پُرجوش جلسے سے خطاب میں بی جے پی کا موازنہ1947ءمیں ’کشمیر پر حملہ آور ہونے والے قبائیلوں‘ سے کرتے ہوئے کہا کہ وہ جموں وکشمیر پر چھاپہ ماروں کی طرح حملہ آور ہونے کارویہ ترک کردیں کیونکہ کشمیریوں نے 1947ءمیں حملہ آوروں کو بھاگنے پر مجبور کیا تھا تو وہ انہیں بھی شکست دینے کاہنر رکھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ1947ءمیںکشمیری نہتے تھے اور انہوں نے بندوق ہاتھ میں لئے حملہ آوروں کو وادی بدر کردیا تھا اسلئے بی جے انہی حملہ اوروں کی طرح عمل کرنے سے باز رہے کیونکہ کشمیری لوگ جانتے ہیں کہ حملہ اوروں سے کیسے لڑنا ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر کا کہنا تھا کہ بی جے پی کے وزراءبڑی تعداد میں کشمیر کا دورہ کرتے ہیں اور حالات معمول کے مطابق ہیں ظاہر کرنے کے لئے گلی کوچوں میںتصاویر کھینچواتے ہیں۔انہیں اس بے سود اور جھوٹے عمل کے بجائے گجرات اور دوسرے مقامات جہاں الیکشن ہورہی ہیں‘پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔2019ءمیں جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی پوزیشن کو ختم کرنے کے مرکز کے اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے، محبوبہ مفتی نے کہا کہ، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ بی جے پی نے15گست کو ہم سے جو کچھ بھی چھینا ہے، اسے سود کے ساتھ واپس لایا جائے گا! انہوں نے مزید کیا کہ پی ڈی پی مرحوم مفتی محمد سعید کے روڈ میپ پر آگے بڑھ رہی ہے اور ان کے مشن کو اس کے منطقی انجام تک لے جائے گی۔لوگوں پراپنی جدوجہد میں ثابت قدم رہنے کے لئے زور دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر نے1947ءمیں ہندوستان سے الحاق کیا تھا جواس ملک کے سیکولرآئین اور اقدار کے ساتھ محبت کا رشتہ تھا۔ اس رشتے کو بی جے پی نے مکمل طور پر تباہ کر دیاہے۔برصغیر میں 1947ءمیں ہونے والے خون خرابے کا حوالہ دیتے ہوئے محترمہ کا کہنا تھا کہ اسوقت بھی مسلم اکثریتی ریاست، کشمیر میں خون خرابہ نہیں ہوا اور یہاں اقلیتوں کے تحفظ کے لئے اکثریتی فرقے نے کامیاب جدوجہد کی یہاں تک کہ گاندھی کو اسی سرزمین سے روشنی کی کرن اور اُمید نظر آئی۔محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نے گاندھی کے ہندوستان سے الحاق کرنے کا فیصلہ کیا تھا جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مذہبی یکجہتی کا رودارتھا۔محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نے جس ہندوستان کے ساتھ الحاق کیا تھا اس ہندوستان کو آج خودماہتما گاندھی کے پڑپوتے تشار گاندھی اورجواہر لال نہرو کے پڑپوتے راہول گاندھی گلی گلی تلاش کرتے پھر رہے ہیں۔ محبوبہ نے کہا کہ بی جے پی نے جموں و کشمیر کے لوگوں کے وقار،عزت اور شناخت کے ساتھ کھلواڑ کیاہے۔ان کا یہ عمل قابل قبول نہیں ہے اور کشمیری ہار نہیں مانیں گے۔مرکزی حکومت کے اس موقف کہ اس نے جموں وکشمیر میں پنچایت اور میونسپل الیکشن کراکے جمہوریت کو زمینی سطح پر لایا ہے ،کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے محترمہ مفتی نے کہاجموں وکشمیر کی اسمبلی ایک طاقتور اسمبلی تھی۔ آج مرکزی حکومت دنیا بھر میںپنچایتوں کو اس طرح کے اہم اداروں کے متبادل بلکہ ان سے بھی اہم اور برتر قرار دیتے پھرتے ہیں۔ خود بی جے پی والے پارلیمان اور ریاستی اسمبلیوں پر قبضہ جمانے کے لئے کچھ بھی کرگزرتے ہیں لیکن کشمیر میں ریاستی اسمبلی کو ہٹا کر میونسپل اور پنچایت کو جمہوریت قرار دیتے پھر تے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر یہ پنچایت اور میونسپل کمیٹیاں اتنی اہم ہیں تو بی جے پی لیڈران خود کیوں یہی الیکشن نہیں لڑتے۔محترمہ مفتی نے کشمیر میں تفتیشی ایجنسیوں کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں لوگوں کی زبان بندی کےلئے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی ،نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ،اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ،وغیرہ سرگرم ہے۔ جو بھی بات کرتا ہے یا سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کچھ لکھنے کی جسارت کرتا ہے اس پرچھاپے مارے جاتے ہیں تاکہ کسی بھی مزاحمت یا اختلاف رائے کو اٹھنے سے قبل ہی کچلا جاسکے۔وادی میں جاری قتل و غارت اور مبینہ جعلی پولیس مقابلوں کی مذمت کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ایک طرف عسکریت پسند مقامی لوگوں کو مخبر، پولیس اہلکار، پنڈت اور غیر مقامی کارکن ہونے کی وجہ سے قتل کرتے ہیں لیکن دوسری طرف ہماری اپنی بندوقیں (سیکورٹی فورسز) نوجوانوں کو ’ہائبرڈ‘ اور ’وائٹ کالر‘ عسکریت پسندی کے نام پر قتل کرتی ہیں۔ نوجوانوں کو خفیہ ٹھکانے کی نشاندہی کرنے کے لیے لے جایا جاتا ہے اورفرضی انکاو¿نٹر میں مارا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میںاس میں تیزی آئی ہے۔بیروزگاری اور جبر و استبداد کو ناسور قرار دیتے ہوئے پی ڈی پی صدرنے کہا کہ اس صورت حال کو ختم کرنے کی ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔

ہم نے بھارت کی قیادت کو حریت کے دروازے تک پہنچایا لیکن انہوں نے دروازہ بند کردیا: وحید پرہ

محبوبہ مفتی سے قبل بھی اگرچہ کئی مقررین نے اس جلسے سے خطاب کیا لیکن ان میںکئی ماہ تک این آئی اے کی حراست میں رہنے والےپی ڈی پی یوتھ صدر وحید الرحمان پرہ کی تقریر خاصی دلچسپ تھی۔ مسٹر پرہ جنہیں این آئی اے نے ملی ٹنسی کی معاونت کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا اور آجکل ضمانت پر رہا ہیں نے اپنی تقریر میں حریت کانفرنس خاص طور پر مرحوم سید علی گیلانی پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ محبوبہ جی نے بھارتی قیادت کو حریت کے دروازے پر پہنچایا تھا لیکن انہوں نے اپنے دروازے بند کرکے اس موقعے کو ضائع کردیا۔ جو کچھ محبوبہ جی پیار سے منوانا چاہتی تھیں آج مرکزی حکومت ڈنڈے سے منوارہی ہے اور حریت والے چھپ گئے ہیں۔بی جے پی اور پی ڈی پی کے درمیان الائنس کا دفاع کرتے ہوئے وحید پرہ نے کہا کہ وہ ایجنڈآف الائنس جس کے تحت پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی آج بھی ایک بہترین دستاویز ہے اور جب بھی ہندوستان کے ساتھ بات ہوگی تو اسی دستاویز کی بنیاد پر ہوگی۔ پی ڈی پی کے یوتھ صدر نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ نئے کشمیر کی بات کر رہے ہیں جس میں بہت کچھ چھین لیا گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کشمیری نوجوان5اگست سے پہلے بھی مارا جارہا تھا اور اب بھی مارا جا رہا ہے۔پرہ کا کہنا تھا کہ ، کشمیریوں کو اجتماعی فیصلہ لینے کی ضرورت ہے کہ وہ بندوق نہیں اٹھائیں گے تاکہ ان کے خلاف تشدد نہ ہو اور اس کا جواز بھی نہ رہے۔ انہوں نے کہا،”میں نوجوانوں پر زور دیتا ہوں کہ بندوق کا راستہ ترک کریں اور سیاسی، آئینی اور قانونی طور پر اپنے حقوق کے لیے لڑیں۔“انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو قومی سلامتی کے نام پر قتل کیا جا رہا ہے۔ میں اپنے نوجوانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ بندوق کے راستے سے گریز کریں جو آپ کے قتل کو جائز قرار دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی ایک سیاسی جماعت نہیں ہے بلکہ نوجوانوں کو باوقار طریقے سے منسلک کرنے اور انہیں رہنے کے لیے قابل عمل ماحول فراہم کرنے کا ایک عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ 5اگست سے پہلے کی حیثیت کی بحالی کے لیے سیاسی، قانونی اور آئینی طور پر جدوجہد کریں گے۔

کنونشین کے دوران پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہاکہ پی ڈی پی کا سر چشمہ وحید الرحمن پرہ جیسے لوگ ہیں۔محترمہ کی تقریر میں جابجا وحید پرہ کی تقریر کے حوالے بھی اس بات کا عندیہ ہے کہ وہ ان سے مکمل طور پر متفق ہیں۔ محبوبہ مفتی اور وحید پرہ کی تقاریر سے متعلق ہم نے کئی سیاسی مبصرین سے بات کی اور اس پر ان کی آرا جاننے کی کوشش کی۔ ایک مبصر نے ان تقاریر کو تضادات کا مجمومہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تقاریر میں دونوں قائدین نے ماضی میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا دفاع کیا اور تاثر دیا کہ بڑے مفتی صاحب سے لیکر وحید پرہ صاحب تک کو یہ بات معلوم پڑچکی تھی کہ بی جے پی جموں وکشمیر کے ساتھ کیا کرنا چاہتی ہے اسی لئے ان کے ہاتھ باندھ دینے کی نیت سے ان کے ساتھ الائینس کرنا ناگزیر ہوچکا تھا۔ یہ مضحکہ خیز باتیں کرتے ہوئے ان دونوں لیڈران کو یادکرنا چاہئے تھا کہ جموںوکشمیرکی آخری اسمبلی تک یہ اتحاد قائم ہی تھا اور اسے ہی توڑا کر یہاں دہلی کے براہ راست حکمرانی کا آغاز کیا گیا تھا۔اور اگر ان لیڈران کا خیال یہ ہے کہ ریاستی اسمبلی میں اتحاد کا ڈرامہ رچاکر وہ بی جے پی کی مرکزی حکومت کے ہاتھ روک سکتے تھے تو این خیال است تو جنون است کے مصداق جو ہوا ہے وہ ان کے سامنے ہی ہے۔مبصر کا کہنا ہے کہ ایجنڈاآف الائنس کی تعریف اور اسے آج تک قابل عمل قرار دینے کا جو معاملہ ہے وہ بھی کسی مذاق سے کم نہیں۔ پرہ صاحب ذرا یاد کریں کہ سدبھاﺅنا کے نام پر کھیل کود کو فروغ دینے کا سارا کام تو انہیں سے لیا جارہا تھا پھر وہ جیل کیسے اور کیونکر پہنچ گئے! حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی حکومت اس ایجنڈا آف الائینس کو کسی ردی کے کاغذ جتنی اوقات کے لائق نہیں سمجھتی تھی اور آج تو معاملہ ردی کے ٹکڑے سے بھی فروتر ہے۔ محبوبہ جی اور پرہ صاحب جیسے لیڈران کو دوسروں پر تنقید کے نشتر چلانے سے قبل اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اکثر کشمیری انہیں ہی موجودہ تنگ و تاریک حالات کا ذمہ دار مانتے ہیں۔ ایک دوسرے مبصر کا اس ضمن میں کہنا تھا کہ پی ڈی پی آج کل کشمیری عوام کی نظروں میں ایک مظلوم جماعت ہے اور جس طرح سے اس کی لیڈر محبوبہ مفتی، ان کی بیٹی اور کچھ دوسرے قائدین کشمیریوں کے حقوق کی باتیں کرتے رہے ہیں اس نے اس جماعت کی بگڑی ہوئی شبیہ کو کچھ بہتر کیا ہے۔ یہی حال نیشنل کانفرنس کا ہے اور ان دونوں جماعتوں کے اتحاد پی اے جی ڈی سے لوگوں نے بڑی توقعات وابستہ کردی ہیں۔ اس لئے ان دونوں ریاستی جماعتوں پر لازم ہے کہ ایک تو اپنے اتحاد کو قائم رکھتے ہوئے آنے والے انتخابات میں مشترکہ طور پر حصہ لیں نیز متضاد، متنازعہ اور لایعنی قسم کے بیانات اور دعوے کرنے سے گریز کریں کیونکہ اس قسم کے بیانات اور دعوے عوامی زخموں کو کرید کر ان کی نمک پاشی کا باعث بنتے ہیں۔ سیاسی مبصرین اور دانشوروں کی باتیں اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں،عوامی مفاد کے بجائے اپنے ذاتی اور جماعتی مفادات اور اہداف کو ہی مدنظر رکھا کرتی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا پی ڈی پی اس حقیقت کو بدل دینے کی ہمت کرتی ہے یا روایت کو ہی قائم رکھنے میں لگ جائے گی۔

نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے اتحاد پی اے جی ڈی سے لوگوں نے بڑی توقعات وابستہ کردی ہیں۔ اس لئے ان دونوں ریاستی جماعتوں پر لازم ہے کہ ایک تو اپنے اتحاد کو قائم رکھتے ہوئے آنے والے انتخابات میں مشترکہ طور پر حصہ لیں نیز متضاد، متنازعہ اور لایعنی قسم کے بیانات اور دعوے کرنے سے گریز کریں کیونکہ اس قسم کے بیانات اور دعوے عوامی زخموں کو کرید کر ان کی نمک پاشی کا باعث بنتے ہیں

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

جموں وکشمیر کی سڑکوں پر موت کا رقص!

Next Post

پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے ہائی کورٹ سے بریت کی پٹیشن واپس لے لی

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

کٹھوعہ انکاؤنٹر اپڈیٹ: غیر ملکی ملیٹنٹ ہلاک، سرچ آپریشن جاری: فوج

کٹھوعہ انکاؤنٹر اپڈیٹ: غیر ملکی ملیٹنٹ ہلاک، سرچ آپریشن جاری: فوج

23/01/2026
سرینگر: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی بجٹ 2026-27 سے قبل اسٹیک ہولڈرز سے مشاورتی نشست

سرینگر: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی بجٹ 2026-27 سے قبل اسٹیک ہولڈرز سے مشاورتی نشست

23/01/2026
برفباری سے راحت بھی، مشکلات بھی: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

برفباری سے راحت بھی، مشکلات بھی: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

23/01/2026
امریکہ نے عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی اختیار کر لی، ہیڈ کوارٹر سے اپنا جھنڈا بھی ہٹا دیا

امریکہ نے عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی اختیار کر لی، ہیڈ کوارٹر سے اپنا جھنڈا بھی ہٹا دیا

23/01/2026
وادی میں بجلی کا لوڈ 100 میگاواٹ سے بھی کم، آندھی کے باعث 33 کے وی فیڈرز شدید متاثر

وادی میں بجلی کا لوڈ 100 میگاواٹ سے بھی کم، آندھی کے باعث 33 کے وی فیڈرز شدید متاثر

23/01/2026
خراب موسم کے باعث پیر پنجال کے دونوں اضلاع میں اسکول بند

خراب موسم کے باعث پیر پنجال کے دونوں اضلاع میں اسکول بند

23/01/2026
Next Post
پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے ہائی کورٹ سے بریت کی پٹیشن واپس لے لی

پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے ہائی کورٹ سے بریت کی پٹیشن واپس لے لی

اوڑی میں ایل او سی پر اسلحہ و گولہ بارود اور منشیات بر آمد: پولیس

اوڑی میں ایل او سی پر اسلحہ و گولہ بارود اور منشیات بر آمد: پولیس

پلوامہ میں تیندے کے حملے میں کمسن سمیت تین زخمی

پلوامہ میں تیندے کے حملے میں کمسن سمیت تین زخمی

سابق امریکی صدر بل کلنٹن کورونا کا شکار، سب کو ویکسین لینے کا مشورہ

سابق امریکی صدر بل کلنٹن کورونا کا شکار، سب کو ویکسین لینے کا مشورہ

دہلی ایم سی ڈی انتخابات: تشہیر کے آخری دن تمام پارٹیوں نے جھونکی طاقت، 4 دسمبر کو ہوگی ووٹنگ

دہلی ایم سی ڈی انتخابات: تشہیر کے آخری دن تمام پارٹیوں نے جھونکی طاقت، 4 دسمبر کو ہوگی ووٹنگ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »