امت نیوز ڈیسک //
سرینگر // سرینگر میں مقیم فوج کے 15 ویں کور کے سابق فوجی کمانڈر لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) کنول جیت سنگھ ڈھلون نے انکشاف کیا ہے کہ وزیرداخلہ امیت شاہ کا جون 2019 کو سرینگر کا دورہ دفعہ 370 کی منسوخی سےپہلے حتمی شکل دینے کیلئے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکام کو انٹرنیٹ بند کرنا پڑا کیونکہ سرحد پار سے جھوٹ کا پروپیگنڈہ کیا جارہا تھا، اس کے علاوہ اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ جان ومال کا کوئی نقصان نہ ہو۔ سابق فوجی کمانڈر لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) کے جے ایس ڈھلون نے لیتہ پورہ حملے سے متعلق اپنی ایک کتاب "کتنے غازی آئے کتنے غازی گئے "لکھی ہے جس میں انہوں نے دعوی کیا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کا26 جون 2019 کو سری نگر کا دورہ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کے حکومت کے عزم کو حتمی شکل دینا تھا۔ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ” 26 جون 2019 کو امیت شاہ کے دورے کو پہلے ہی ڈرامائی اعلان کا پیش خیمہ قرار دیا جار ہا تھا اور مجھے صبح 2 بجے ایک فون آیا، جس میں مجھے وزیر داخلہ سے صبح 7 بجے ملاقات کی اطلاع دی گئی ” ۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت میں ہاتھ بریکنگ ڈیکلریشن ” پر پاکستان کے رد عمل کو سمجھنا شامل تھا جس پر اب عمل ہونا یقینی تھا۔ ریٹائر ڈلیفٹیننٹ جنرل نے لکھا ” مجھے بالکل معروضیت اور زبر دست پیشہ ورانہ ان پٹ کے ساتھ بتانا چاہیے کہ وزیر داخلہ مکمل کنٹرول میں تھے اورایجنڈے سے پوری طرح واقف تھے اور انہوں نے واضح طور پر وسیع تحقیق اور ہوم ورک کیا تھا”۔
ریٹائر ڈلیفٹینٹ جنرل نے مزید لکھا ” حکام کو انٹرنیٹ بند کرنا پڑا کیونکہ سرحد پار سے جھوٹ کا پرو پیگنڈہ کیا جارہا تھا، اس کے علاوہ اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ جان و مال کا کوئی نقصان نہ ہو ”۔ اور اس کے اختتام پر ، میں اپنےپورے فخر کے ساتھ یہ کہوں گا کہ مقصد حاصل کر لیا گیا۔









