امت نیوز ڈیسک //
دہلی اور ممبئی میں بی بی سی کے دفاتر میں آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں کے ذریعہ کئے گئے سروے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے، جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی فاروق عبد اللہ نے منگل کو کہا کہ یہ انجام دینے کا ” صحیح وقت نہیں ہے "۔ اس طرح کی کارروائیاں وزیر اعظم نریندر مودی پر دستاویزی فلم نشر ہونے سے پہلے کی جاسکتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اس وقت ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ لوگ سوچیں گے کہ یہ بی بی سی کی دستاویزی فلم کے اثر کے بعد ہوا ہے۔ عبد اللہ نے کہا، "جب وہ عام طور پر دستاویزی فلم کو نشر کرنے سے پہلے یہ کام پہلے کر لیتے، تو ہمیں یقین ہو تاکہ بی بی سی کی طرف سے کچھ غلطی تھی۔ لیکن آج ہر شخص یہ سوچے گا کہ یہ دستاویزی فلم کے تناظر میں (بی بی سی) کو ہر اساں کرنے کی کوششیں ہیں”۔تاہم سروے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بہت بد قسمتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ” یہاں جمہوریت پہلے ہی خطرے میں ہے ، میڈیا کو دبایا جارہا ہے اور بی بی سی پر یہ چھا پہ اس میں مزید اضافہ ہے "۔









