امت نیوز ڈیسک //
سری نگر،28فروری(یو این آئی) جموں وکشمیر کی آبادی اس وقت زیر عتاب ہے اور یہاں کے عوام کیساتھ ہر روز ناانصافیوں کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔
ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے پارٹی کارکنوں سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیرکا ہر ایک طبقہ اس وقت مصائب اور مشکلات سے دوچار ہیں۔ بے روزگاری ، مہنگائی اور اقتصادی بحالی میں جموں و کشمیر پورے ملک میں فہرست ہے۔ ایک ایسی صورتحال میں جب حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ عوام کو راحت پہنچائی جائے لیکن یہاں اُلٹا عوام پر مزید دباﺅ ڈالا جارہا ہے۔
بجلی اور پانی کے فیس میں ہوشربا اضافہ سے لوگوں کو مزید مشکلات میں ڈال دیا گیا ہے جبکہ پراپرٹی ٹیکس کے اطلاق نے لوگوں کو ذہنی کوفت میں مبتلا کردیاہے۔
کمال نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام کیساتھ ناانصافیوں ، امتیازی سلوک اور انتقام گیری کی حد یہ ہے کہ یہاں 90فیصد سے زیادہ افسران باہری ریاستوں سے لاکر مسلط کئے گئے ہیں، جو یہاں انتظامی انتشار اور خلفشار کا سبب بن رہا ہے اور لوگوں کو انتظامیہ سے کسی بھی قسم کی راحت نہیں مل رہی ہے۔
جموں و کشمیر کے غریب عوام کو افسرشاہی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ بلڈوز مہم، بجلی اور پینے کے پانی کے فیس میں بے تحاشہ اضافہ، راشن کے کوٹا میں کمی اور پراپرٹی ٹیکس کا اطلاق انتظامیہ کی نااہلی اور عوام کش پالیسیاں عیاں کرکے رکھ دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ راشن، کھانڈ، بجلی، پانی اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی عدم فراہمی سے لوگ پریشانِ حال ہیں جبکہ اور ان مشکلات کا سدباب کرانے کیلئے سرکاری مشینری سے کوئی بھی کام نہیں ہوپارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو راحت پہنچانا اور عوامی مشکلات کو جنگی بنیادوں پر حل کرنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہونی چاہئے لیکن انتظامیہ صرف تشہیر بازی میں مصروف ہے اور عوامی مشکلات کے تئیں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔
کمال نے پارٹی سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ خود کو خدمت خلق میں وقف رکھیں۔ عوامی مسائل و مشکلات کا ازالہ کرانے اور اپنے علاقے کے لوگوں کی راحت رسانی اور اُن کی آواز ہر سطح پر اُجاگر کرنے کیلئے ہر حال میں کام کرتے رہیں ۔










