(روم) اٹلی میں ایک ایسا شہر بھی ہے جو ہر سال مجرموں کو پنجرے میں ڈال کر سزا کے طور پر دریا میں ڈبو دیتا ہے۔ اگرچہ یہ تھوڑی سی تفریح کے لیے صرف کچھ دیر تک فوری نوعیت کاغوطہ ہوتا ہے۔ تاہم یہ غلطی کرنے والے کو باہر رکھنے کی جگہ ایک متبادل سزا کی نمائندگی ہوتی ہے۔
تیز پانی میں ڈبونے کی اس تقریب کو ’’Tonca ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ رسم ویجیلین تہواروں کا ایک حصہ ہے ۔ یہ رسم اطالوی شہر ٹرینٹو میں ہر سال جون کے دوسرے نصف میں منعقد کی جاتی ہے۔ ان تقریبات کا مقصد ان مشہور شخصیات کا ٹرائل کرنا ہے جنہوں نے سال بھر غلطیاں کی ہوتی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ معصوم لوگوں کو اس سزا کے لیے منتخب کرلیا جائے اور آخر وقت میں غوطہ سے بچا لیا جائے۔ جہاں تک سیاست دانوں کا تعلق ہےوہ سب سے اہم کیٹگری ہے۔ ان رسومات کا زیادہ تر مقصد ان کی غلطیوں کا کفارہ ادا کرنا بھی ہوتا ہے۔
’’ٹونکا‘‘ شہر کا ایک روایتی پروگرام ہے جو ہر سال 26 جون سے پہلے آخری اتوار کو انجام دیا جاتا ہے۔ گزشتہ برس ’’ٹونکا‘‘ کی رسم 19 جون کو منقعد کی گئی تھی ۔ اس میں 6 افراد کو پنجرے میں ڈال کر دریا کے پانی میں ڈوبنے کے لیے چھوڑا گیا تھا۔ ان میں سے پانچ کو دریائے اڈیج میں غوطہ دئیے جانے سے بچا لیا گیا تھا۔
یاد رہے لوگوں کو پنجرے میں دریا میں ڈبونا ایک تاریخی سزا کی پیروڈی ہے جو ماضی کے زیادہ تر صدیوں میں غلط کام کے مرتکب پائے جانے والوں کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔










