امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ نے جمعہ کے روز ایک بار پھر ان کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کی نکتہ چینی کی۔واضح رہے کہ بدھ کے روز محبوبہ مفتی سرحدی ضلع پونچھ میں ایک مندر میں گئی تھی اور مندر میں شیولنگ پر پانی چڑھاکر پوجا کی، جس کے بعد محبوبہ مفتی لگاتار تنقید کا نشانہ بن گئی ہیں۔
آج سماجی رابطہ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "گوڈی میڈیا کو پونچھ کے ایک مندر میں میرے جانے پر پریم ٹائم صرف کرتے ہوئے دیکھ کر خوش ہوں، لیکن حیران نہیں ہوں ۔ انہوں نے ٹیوٹ میںمزید لکھا کہ میں انہیں یاد دلانا چاہوں گی کہ یہ اب بھی جواہر لال نہرو اور گاندھی کا بھارت ہے نہ کہ بی جے پی راشٹر۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا بھارت ہے جہاں مسلمان کاریگر ہندوؤں کی پوجا کی جانے والی مورتیوں کو تراشتے ہیں۔”
اس حوالے سے بی جے پی کا کہنا ہے کہ محبوبہ مفتی کا مندر جانا محض ایک سیاسی چال ہے جبکہ بعض مولانا حضرات نے محبوبہ کے اس قدم کو اسلام کے خلاف بھی قرار دیا ہے جس کے بعد محبوبہ مفتی نے جموں پہنچ کر پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور جب کوئی مندر جاتا ہے تو وہاں ہنگامہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ گنگا جمنی ثقافت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یشپال شرما نے مندر بنوایا تھا میں اندر سے مندر کو دیکھنا چاہتی تھی جب وہاں کسی نے پیار سے میرے ہاتھ میں لوٹا تھما دیا۔ اب کسی نے اسے اتنی عقیدت سے لوٹا تھمادیا تو میں نے پانی پیش کیا۔ یہ میرا ذاتی معاملہ ہے نہ کہ میرے مذہب کا۔ اس میں زیادہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔







