امت نیوز ڈیسک //
سری نگر،17 مارچ (یو این آئی) جموں وکشمیر پولیس نے گجرات سے تعلق رکھنے والے مبینہ طور خود کو وزیر اعظم دفتر دلی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کے طور ظاہر کرنے والے کرن بھائی پٹیل کیس کی تحقیقات کرنے کے لئے تین رکنی ٹیم تشکیل دی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص کی تحویل سے 10 جعلی وزینٹنگ کارڈ اور دو موبائل فون ضبط کئے گئے اور اس کیس کے سلسلے میں کئی متعلقہ افراد سے بھی پوچھ تاچھ کی گئی۔
ایک پولیس ترجمان نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر پولیس کی سی آئی ڈی ونگ نے 2 مارچ 2023 کو ایک بہروپیا کے کشمیر وارد ہونے کے متعلق اطلاع دی۔
انہوں نے کہا: ‘ایس ایس پی سری نگر نے فوری طور ایس پی (مشرق) کی قیادت میں ایک ٹیم للت ہوٹل بھیج دی اس شخص کی تفصیلات کرن بھائی پٹیل ولد جدش بھائی پٹیل ساکن احمد آباد گجرات کے طور پر پائی گئی جوخود کو ایڈیشنل ڈائریکٹر (حکمت عملی و مہمات) وزیر اعظم دفتر دلی کے بطور ظاہر کرتا تھا’۔
بیان میں کہا گیا: ‘جیسا کہ اس کے بیانات مشکوک پائے گئے جس کے بعد اس کو پولیس اسٹیشن نشاط پہنچایا گیا جہاں اس نے اپنے جرم کا اعتراف کیا’۔
پولیس بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ شخص کی تحویل سے 10 جعلی وزینٹنگ کارڈ اور دو موبائل فون ضبط کئے گئے۔
بیان کے مطابق اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن نشاط میں 2 مارچ 2023 کو ایک کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی گئیں۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ اس کیس کے تحقیقات کی قیادت ایس پی (مشرق)، ایس ڈی پی او نہرو پارک اور ایس ایچ او نشاط کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملزم کو 3 مارچ 2023 کو گرفتار کیا گیا اور وہ 17 مارچ یعنی جمعہ تک پولیس ریمانڈ میں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کیس کے سلسلے میں کئی متعلقہ افراد سے پوچھ تاچھ کی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ ‘دھوکے باز’ کے خلاف گجرات کے مختلف پولیس تھانوں میں تین کیس درج ہیں۔
دریں اثنا گرفتار شدہ کے وکیل نے میڈیا کو بتایا: ‘جہاں تک ملزم اور اس کے اہلخانہ کا تعلق ہے تو میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں’۔
انہوں نے کہا: ‘ملزم کرن بھائی پٹیل کا تعلق گجرات سے ہے پولیس کا الزام ہے کہ وہ اپنے آپ کو حکومت کا ایک اعلیٰ عہدیدار ظاہر کرتا تھا’۔
موصوف وکیل نے کہا کہ میری ملزم اور اس کے اہلخانہ کے ساتھ بات ہوئی۔
انہوں نے کہا: ‘بات چیت کے دوران انہوں نے مجھے کہا کہ یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں’۔
ان کا کہنا تھا: ‘اہلخانہ نے یہ بھی کہا کہ یہ گجرات میں ایک سیاسی رسہ کشی کے اثرات ہیں؛۔
قابل ذکر ہے کہ پٹیل نے ٹویٹر پر اپنے سرکاری دورہ کشمیر کے ویڈیوز اور تصویریں شئیر کی ہیں۔
یہاں تک کہ بتایا جاتا ہے کہ موصوف نے اس سے قبل سری نگر کے دو دوروں کے دوران یہاں عہدیداروں کے ساتھ سلسلہ وار میٹنگیں بھی کیں اور اوڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کا دورہ بھی کیا۔







