اب جبکہ سرما کی طویل تعطیلات کے بعد اسکولوں میں درس و تدریس کا کام حسب روایت پھر سے شروع ہوچکا ہے تو نہ صرف اسکولوں میں بلکہ شہر و دیہات کی سڑکوں اور گلیوں میں بھی رونق لوٹ آئی ہے۔ واقعی یہ خوشی کی بات ہے کہ طلباء و طالبات تین مہینے کے بعد خوشی اور دلچسپی کے ساتھ حصول تعلیم کی جانب رواں دواں ہیں۔ رنگ برنگے مختلف اسکولی وردیوں میں ملبوس، دبلے پتلے معصوم اور خوبصورت چہروں کو دیکھ کر انسانی دلوں کو ایک لطیف راحت محسوس ہوتی ہے۔ آخر کیوں نہ ہوں! ہماری آج کی یہ معصوم ہی تو ہمارا کل ہے، ہمارا مستقبل ہے۔ مگر بات پھر وہیں پر آکر اٹک جاتی ہے کہ کیا واقعی اسکولوں کے کھلنے کے بعد علم کے دروازے بھی کھل گئے ہیں یا نہیں۔ ظاہر ہے ہمارے یہاں ناموافق تعلیم کا رجحان عام ہے۔ اس کے تحت تو اسناد حاصل کرنے کو ہی تعلیم کا نام دیا گیا ہے اور اول پوزیشن حاصل کرنے کو ہی کل تعلیم کا اصل مقصد قرار دیا گیا ہے۔ سو فیصد نمبرات حاصل کرنے کے لئے طلباء کو اگر خدانخواستہ سولی پر بھی چڑھنا پڑے، تو اس میں کوئی عار کی بات محسوس نہیں کی جاتی۔ بس! نمبرات کی کثرت درکار ہوتی ہے۔ اس تعلیمی رجحان سے ایسی نوجوان تعلیم یافتہ نسل پیدا ہورہی ہے جو در حقیقت اپنے آپ سے بھی نا آشنا ہوتی ہے اور زندگی کے نشیب و فراز کے ساتھ ساتھ کئی دیگر دوسرے دنیوی، دینوی معاملات سے بھی ناواقف ہوتی ہے۔
تعلیمی ادارے کام کاج میں مصروف ہوگئے ہیں، مدارس بچوں سے بھرے پڑے ہیں اور ان میں زیر تعلیم طلباء اور طالبات تواتر کے ساتھ روایتی طرز و طریقے پر ہی علم حاصل کر رہے ہیں اور اپنی تعلیم مکمل کر کے پھر ایک بار بے روزگاروں کی لسٹ لو لمبی بناتے رہیں گے۔ گرچہ یہ سلسلہ ایک لمبے عرصے سے چلا آرہا ہے ، پھر بھی یہ سلسلہ جاری و ساری رہ کر آگے بڑھتا جائے گا، جبکہ زمینی سطح پر کوئی بھی نمایاں تبدیلی آنے کے آثار نہیں آرہے ہیں جس کے باعث یہی کہا جاسکتا ہے اب یہ تعلیمی ادارے منتظمین کے لئے محض پیسے کمانے کے ذرائع کے سوا کوئی معنی نہیں رکھتے ہیں! معمولی جائزہ لیجیے تو کشمیر میں ہر جگہ تعلیمی اداروں کی بھرمار نظر آرہی ہے مگر’’تعلیم ‘‘کہی بھی نظر نہیں آرہی ہے۔ ان تدریسی اداروں میں کام کرنے والے اور ان اداروں میں علم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات تعلیم کے اذہان میں یکساں طور پر ایک ہی بات ہوتی ہے کہ کسی بھی طرح اور کہیں بھی کوئی اچھی نوکری حاصل کر کے پیسے کمائے جائیں۔ اب تو یہ دعوے بالکل جھوٹے ثابت ہورہے ہیں کہ علم کا مقصد انسان کے لئے اپنے آپ کو جاننے، دنیا کو پہچاننے اور انسانیت کے کام آنے ہوتا ہے، یہ صرف کہنے کی باتیں رہ گئی ہیں، جبکہ پیٹ پالنے کی خاطر بہانے بنانے کے لئے یہ باتیں کی جاتی ہیں، گویا یہ تعلیم ایک نشہ کی شکل اختیار کرچکی ہے جس میں لوگ مست ہوتے ہیں اور حقیقی تعلیم میں خست و پست رہ جاتے ہیں۔
تعلیمی اداروں میں معصوم اذہان کو لالچ اور ڈرا دھمکا کر ایک مخصوص راستے پر چلنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔ اگر میں اپنی بات کروں تو مجھ پر یہ حقیقت بارویں جماعت کے بعد عیاں ہوئی جب میں نے بچشم جودیکھا اور محسوس بھی کیا کہ پڑھائی کا مقصد محض پیسے کا حصول ہے۔ یعنی پڑھائی کے الگ الگ مقاصد بالآخر پیسوں پر ہی آکر ٹھرتے ہیں۔ جو بھی فرد پڑھتا ہے اور جو فرد پڑھاتا ہے، دونوں کا بنیادی مقصد دولت کا حصول ہوتا ہے؛ تو اس طرح اب پھر سے اسکولوں کا کھلنا بھی اس بڑی سی زنجیر کی ایک اور کڑی ہے۔ فیس جمع کرنا اور طلباء کا امتحان میں شریک ہونا، وہی لکیر کے فقیر کی مانند ہے۔ یہ وہ راہیں ہیں جن پر چل کر ریوڈوں کے پیروں میں تو چھالے پڑیں اور ایک دو کا بیڑا پار ہوجاوے، جو کوئی نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہوں یا پھر کوئی اپنا تدریسی ادارہ کھولنے میں کامیاب ہوجائے، باقی دربہ در بھٹک کر رہ جائیں۔
خیر ان اسکولوں کے کھلنے کا اصل مقصد تب ہی پورا ہوجاتا ہے جب ان تعلیمی مراکز سے تعلیم مکمل کرنے والے طلباء و طالبات اس پوزیشن میں ہوں کہ وہ خود اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی اگر انہیں دربہ در کی ٹھوکریں کھانی پڑھے، تو یہ تعلیم نہیں، کچھ اور ہی ہے۔ بلا شبہ زندگی جدوجہد کا ہی نام ہے۔ تعلیم انسان کو زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھانی ہے۔ زندگی میں آنے والے اتار و چڑھاؤ کے ہر موڑ پر تعلیم واقعی ایک ستون کا کام کرتی ہے۔حالات کا مقابلہ کرنے اور معمولات کو سمجھنے کی قوت تعلیم سے ملتی ہے۔ ظاہری چیزوں سے اوپر اٹھ کر دیکھنے کی طاقت کو بھی تعلیم کہتے ہیں۔ اپنے اندر جھانکنے کو علم کہتے ہیں، ذرے میں دنیا دیکھنا علم کہلاتا ہے۔ ہر چیز کے دونوں پہلوؤں کو پہچاننا علم کہلاتا ہے، خاص کر اپنی غلطی تسلیم کرنا اور پھر غلطی کو سدھارنے کی کوشش کو علم کہا جاتا ہے۔ یہ ساری خصوصیات اگر ایک طالب علم میں نہیں آتی ہے، تو سب کچھ بے کار ہے۔
وقت کی ضرورت ہے تعلیمی ادارے حقیقی تعلیمی ادارے بنیں۔ ایسا مال تیار ہو جو آنے والے کل کے لئے سودمند ثابت ہو۔ ایسے لوگ بنے جو ہر لحاظ سے اونچے معیار کے ہوں۔ جن کا جینا، حقیقی زندگی ہو۔ جو خود بھی زندگی جینے کی راہیں سکھانے کے قابل ہوں۔ اس میں وقت درکار ہے مگر امید کا دامن ہاتھ سے چھوٹنا نہیں چاہیے ۔ حکومت، انتظامی امور اور تعلیمی اداروں کے منتظمین کے ساتھ ساتھ ذی حس اور با شعور انسانوں کو اس کام میں آگے آنا ہوگا۔ یہ بہت تھکا دینے والا کام ہے مگر اس کا پھل بہت میٹھا ہے۔ تو آئیے اس کارخیر کے کام میں دوسروں کے معاونین بن کر تعلیم کو وہ درجہ واپس دینے کی کوشش کریں جس کا یہ مستحق ہے۔









