ماہ رمضان کے مقدس مہینے میں وادی کشمیر میں آئے روز شرمناک واقعات سامنے آرہے ہیں۔ایسے ہی کچھ واقعات رواں ماہ سرینگر میں پیش آئے جنہوں نے پورے کشمیر کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔دراصل رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں گرمائی دارالحکومت سرینگر کے باغ مہتاب علاقے سے شرمناک خبر سامنے آئی۔جہاں پولیس نے جسم فروشی کے اڈے کا پردہ فاش کیا اور جسم فروشی کے کاروبار میں ملوث چھ افراد کو گرفتار کیا۔ پولیس نے بیان میں کہاکہ انہیں ایک مصدقہ اطلاع ملی تھی کہ باغ مہتاب علاقے کے ایک مکان میں کچھ افراد جسم فروشی کا کاروبار چلا رہے ہیں۔ پولیس نے معقول وقت پر اس مکان پر چھاپہ مارا اور وہاں چھ افراد کو رنگے ہاتھوں پکڑا اور ان پر مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کیا۔ پولیس نے گرفتار شدگان کی شناخت ارشاد احمد بٹ ولد شعبان بٹ ساکن کدل بل پانپور اور محمد شفیع حجام ولد عبدالقیوم حجام ساکن کریم آباد پلوامہ کو گرفتار کیا ہے۔پولیس نے مزید بتایا کہ چھاپے کے دوران چار خواتین (سیکس ورکرز اور دو افراد جو سرینگر کے رہنے والے ہیں) کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حجام اور بٹ جسم فروشی کا کاروبار چلا رہے تھے اور خواتین کو پیسوں کے عوض جسم فروشی میں دھکیل رہے تھے۔ پولیس کے مطابق ملزمین نے باغ مہتاب میں چھانہ پورہ کے باشندے الطاف آفاقی ولد اسد اللہ آفاقی کا گھر کرایہ پر لیا تھا اور اسی میں یہ فحش دھندہ چلا رہے تھے۔ وہیں پولیس نے کچھ روز بعد جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ چھانہ پورہ جسم فروشی کے دھندے میں ملوث دو مرکزی ملزمان پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا ہے۔ جبکہ پولیس نے اسی دوران مکان مالک پر بھی مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کیا۔سرینگر پولیس نے اپنے ٹویٹر ہینڈل سے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ، غیر اخلاقی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے والے مکان مالک الطاف حسین آفاقی ولد اسد اللہ آفاقی ساکن چھانہ پورہ کو غیر اخلاقی اسمگلنگ پروٹیکشن ایکٹ 1956 کی دفعہ 3 کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ آئی ٹی پی اے کے سیکشن 18 کے مطابق مکان کو سیل کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ وہیں مکان مالک نے ان پر لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کی۔یاد رہے کہ مکان مالک الطاف حسین آفاقی پر جسم فروشوں کو بغیر تصدیق کیے اپنا مکان کرائے پر دینے کا الزام ہے۔ باغ مہتاب علاقے والے مکان سے متعلق الطاف حسین نے کہا کہ یہ مکان میری اہلیہ کی ملکیت ہے۔ جو دو الگ الگ پارٹی کو کرایہ پر دیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس کرایہ داروں کی تصدیق کے کاغذات بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کرایہ دار پارٹی نے دو ہفتے قبل ہی گراؤنڈ فلور کرائے پر لیا تھا اور اس وقت انہوں نے پی ایس چھانہ پورہ سے کرایہ دار کی تصدیق کا فارم حاصل کرنے میں بہت جلدی کی تھی۔
اس گھنونے دھندے کا پردہ فاش ہونے کے ایک ہفتے بعد ہی سرینگر کے نوگام علاقے میں پولیس نے اسی طرح کے دوسرے جسم فروشی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا۔پولیس نے بتایا کہ باغ مہتاب علاقے میں گزشتہ ہفتے جسم فروشوں کے دھندے کی تحقیقات کے دوران نوگام علاقے میں جسم فروشی ریکٹ کو بے نقاب کیا۔ اس گروہ میں چھ افراد گرفتار کئے گئے اور اس کاروبار کو میاں بیوی اپنے گھر میں چلا رہے تھے۔پولیس نے بتایاکہ نوگام کے شبیر احمد میر اور انکی اہلیہ شازیہ میر جسم فروشی کا یہ دھندہ چلا رہے تھے جن کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انکے ساتھی عادل گلزار کے علاوہ مزید تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں ایک خاتون سیکس ورکر شامل ہے۔ اس سے قبل جولائی 2021 ءمیں بھی سرینگر کے ٹینگ پورہ علاقے میں ایک جسم فروشی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا گیا تھا جس میں چھاپے کے دوران کرائے کے مکان سے پانچ خواتین کو گرفتار کیا گیا تھا۔لیکن اب عوامی حلقے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان جسم فروشی کے اڈوں کی جڑ تک پہنچا جائے اور انہیں سخت سزا دی جائے کیوں کہ عوامی حلقوں کے مطابق 2006 میں وادی کشمیر میں ایک بڑے سیکس ریکیٹ کا پردہ فاش ہوا تھا لیکن بعد میں اسے سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔2006 سیکس سکینڈل سامنے آنے کے بعد اس میں کئی بڑے وزراء، سیاسی لیڈران، پولیس افسران، بیوروکریٹ اور کاروباری افراد سمیت لگ بھگ 56 افراد کے نام سامنے آئے تھے۔یہ جسم فروشی کا اڈہ حبہ کدل علاقے میں شبینہ نامی خاتون اور اسکا شوہر عبدالحمید بلا چلا رہے تھے جن کی موت 2016ءاور 2017ء ہوگئی تھی۔دونوں اپنے گھر سے ہی کم عمر لڑکیوں کو نوکری کاجھانسہ دے کر انہیں اس دھندے میں دھکیل رہےتھے۔
جموں و کشمیر حکومت کی جانب سےاس کیس کو بعد میں سی بی آئی کے حوالے کیا گیا ۔کیس کے ابتدائی ماہ میں سی بی آئی نے 14 ملزمین کے خلاف چارج شیٹ پیش کیا اور وہیں سپریم کورٹ نے کیس کو چندی گڑھ منتقل کیا۔تاہم ہر گزرتے سال شواہد کے ناکافی ہونے یا گواہوں کے مکر جانے سے ایک ایک ملزم رہا ہوتا گیا۔2012اور 2013کے درمیان ضمنی چالان میں چھ ہائی پروفائل افراد کو رہا کیا گیا جن میں دوسابق وزراء غلام احمد میر اور رمن مٹو، سابق چیف سیکرٹری اقبال کھانڈے، پولیس اہلکار ابصار احمد ڈاراورہلال احمد شاہ شامل تھے۔اسکے بعد 2018ءمیں عدالت نے جموں و کشمیر کے سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل انیل سیٹھی اور ایک اور ملزم معراج الدین ملک کو بری کر دیا تھا۔ جبکہ شبینہ اور اسکے شوہر عبدالحمید بُلا کی کیس کے ٹرائل کے دوران موت ہوگئی تھی۔اسکے بعد مئی 2018ء میں کورٹ نے سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس محمد اشرف میر، جنہیں سب سے پہلے گرفتار کیا گیا، سابق ڈی آئی جی، بی ایس ایف، کے سی۔ پادھی اور تین دیگر — مقصود احمد، شبیر احمد لانگو اور شبیر احمد لاوے کو قصور وار ٹھہراکرسبھی کو دس، دس سال جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔تاہم اگست 2020 میں کورٹ نے سابق ڈی آئی جی کے سی پادھی کی سزا ختم کرتے ہوئے انہی رہا کر دیا۔اور باقی چار کی سزا کو برقرار رکھا گیا۔وہیں 2009 میں اس کیس کے سلسلے میں ایک دلچسپ معاملہ سامنے آیا جب جموں و کشمیر کے تب کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جولائی 2009 میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جب ان کا نام تحقیقات کے دوران سامنے آیا تھا۔ سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے تاہم بعد میں انہیں الزامات سے بری کر دیا۔وہیں تب کے گورنر این این ووہرا نے انکا استعفیٰ مسترد کر دیا تھا۔لیکن اب دیکھنا ہوگا کہ کیا آج کے بے نقاب ہوئے جسم فروشی کے اڈوں میں ملوث افراد کو انکے انجام تک پہنچایا جائے گا یا پھر جو نتیجہ 2006 کے سیکنڈل کا نکلا وہی ان کا بھی نکلے گا!







