امت نیوز ڈیسک//
سری نگر، 15 اپریل، جموں کشمیر اور لداخ کی ہائی کورٹ نے پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت آگرہ جیل میں بند بانڈی پورہ کے ایک نوجوان کی نظربندی کو منسوخ کر دیا ہے۔
حراست میں لیا گیا عاشق حسین تیلی ولد غلام نبی ساکن وترینا بانڈی پورہ جو کہ اس وقت خوشحال کالونی تلیبل سوپور میں مقیم ہے جو کہ ’باورچی‘ ہے، اس وقت بھارتی شمالی ریاست اتر پردیش کی سینٹرل جیل آگرہ میں بند ہے۔
اسے پولیس نے جنوری 2022 میں بانڈی پورہ سے گرفتار کیا تھا جہاں وہ ایک مقامی ریسٹورنٹ میں بطور ’کک‘ کام کر رہا تھا۔
پولیس نے دعویٰ کیا کہ اسے پتھراؤ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ایڈووکیٹ بشیر احمد ٹاک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حراست میں لینے والی اتھارٹی نے زیر حراست شخص کے خلاف کوئی خاص الزام نہیں لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ زیر حراست شخص کو پرانے مقدمات میں اور ‘فرضی’ پتھراؤ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
جسٹس سنجے دھر کی عدالت نے اس کے مطابق ان کی نظربندی کو منسوخ کرتے ہوئے آگرہ جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا۔







