امت نیوز ڈیسک //
پریاگ راج : گینگسٹر سے سیاستدان بنے عتیق احمد اور اس کے بھائی اشرف احمد کا ہفتے کے روز پریاگ راج میں میڈیکل کیلئے لے جانے کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا ۔ یہ واقعہ مقامی میڈیکل کالج کے قریب اس وقت پیش آیا جب دونوں ملزم بھائیوں کو پولیس یہاں طبی معائنے لے کر لائی تھی۔ دونوں کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ عتیق اور اشرف کے قتل معاملہ پولیس نے اب تک تین حملہ آوروں کو گرفتار کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ تینوں میڈیا والوں کے ہجوم میں شامل تھے اور موقع ملتے ہی انہوں نے عتیق اور اشرف پر گولی چلا دیں۔ اس پورے واقعہ کا ویڈیوز بھی منظر عام پر آگیا ہے ۔
دراصل دونوں ملزمان کو میڈیکل کے لئے لایا گیا تھا اور اس دوران وہ وہاں موجود میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک ایک شخص آیا اور اس نے پہلے عتیق کے سر میں گولی ماری اور پھر اشرف پر بھی فائرنگ کردی ۔ بتایا جا رہا ہے کہ کل 10 راؤنڈ فائرنگ کی گئی ہے۔
ادھر عتیق اور اس کے بھائی اشرف احمد کے قتل معاملہ میں بڑا فیصلہ لیتے ہوئے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے تین رکنی انکوائری کمیشن بنانے کا حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس واقعے میں عتیق کی سیکورٹی میں تعینات 17 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔
نیز وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ڈی جی پی کو پریاگ راج جانے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ پرنسپل سکریٹری ہوم سنجے پرساد اور ڈی جی ایل او پرشانت کمار بھی پریاگ راج جا سکتے ہیں۔ پولیس کمشنر اور ڈی ایم سی ایم او سے رابطے میں ہیں۔ عتیق اور اشرف احمد کے پوسٹ مارٹم کے لئے جلد ڈاکٹروں کا پینل تشکیل دیا جائے گا۔









