امت نیوز ڈیسک //
سرینگر:پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے کہا کہ نیشل کانفرنس اور بھارتیہ جنتا پارٹی آپس میں مذاکرات کررہی ہیں اور یہ عین ممکن ہے کہ دونوں جماعتیں جموں وکشمیر میں اگلی حکومت بنائیں گی۔ ان باتوں کا اظہار سجاد غنی لون نے دیی وائر پر شائع صحافی کرن تھاپر کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا۔
انہوں نے دعوی کیا کہ نیشنل کانفرنس اور بی جے پی گذشتہ ایک برس سے ایک دوسرے کے رابطے میں ہیں اور یہ دونوں مذاکرات کر رہی ہیں۔ سجاد غنی لون نے اس حوالے سے ایک مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ این سی کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ سرینگر میں راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا میں شامل ہوئے تھے، تاہم راہل گاندھی کو بحثیت رکن پارلیمان کے طور نااہل قرار دیے جانے کے بعد سے نہ تو عمر عبداللہ اور نہ ہی این سی کی جانب سے ان کی حمایت میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
سجاد غنی لون نے کہا کہ این سی اور بی جے پی مخالف کے طور آئندہ اسمبلی انتخابات لڑیں گی، جب کہ یہاں کی چھوٹی جماعتوں پر بی جے پی کی اتحاد ہونے کا الزم عائد کریں گی۔ لیکن بعد میں اپنی مرضی اور طے شدہ ایجنڈے کے تحت حکومت تشکیل دیں گی۔ انہوں نے فاروق عبداللہ اور 1987 کے اسمبلی انتخابات سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ اس انتخابات میں دھاندلیاں ہوئیں، جس کے نتیجے میں کشمیر میں عدم اعتماد اور عسکریت پسندی کی شروعات ہوئی۔
انہوں نے سابق گورنر ستیہ پال ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی پر دیے گئے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نہ صرف صورتحال کی تفصیلات سے بخوبی واقف تھے، بلکہ ایس ایس پیز سے لے کر افسران کے ناموں سے بھی بخوبی واقف تھے۔ سجاد لون نے مزید کہا کہ ستیہ پال ملک نے سرینگر میں اسملبی کو تحلیل کرنے سے قبل انہیں لندن سے فون کر کے التجا کی کہ وہ اس بنیاد پر ایسا نہ کریں، کیونکہ ایک مرتبہ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد نئی اسمبلی کم از کم 10 برس تک دوبار بحال نہیں ہو پائے گی۔











