امت نیوز ڈیسک //
راجوری:سرحدی ضلع راجوری کے جنگلی علاقے میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین جاری تصادم کے بیچ پولیس ، فوج اور پیرا ملٹری فورسز کے سینئر افسران جائے موقع پر پہنچے۔معلوم ہوا ہے کہ گھنے جنگلوں میں موجود ملیٹینٹوں کو مار گرانے کی خاطر فضائیہ کی خدمات حاصل کی گئی ۔
اطلاعات کے مطابق راجوری کے جنگلی علاقے سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پولیس سربراہ دلباغ سنگھ اور شمالی کمان کے سربراہ ہنگامی طور پر راجوری پہنچے جہاں پر وہ آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ جنگلی علاقے میں محصور عسکریت پسندوں کو مار گرانے کی خاطر ہیلی کاپٹروں کی خدمات حاصل کی گئی ۔ذرائع کے مطابق پیرا کمانڈوز نے جنگلی علاقے کو پوری طرح سے سیل کرکے فرار ہونے کے سبھی راستوں پر پہرے بٹھا دئے ہیں۔دفاعی ذرائع نے بتایا کہ عسکریت پسندوں ایک گھپا میں چھپے بیٹھے ہیں جنہیں مار گرانے کی خاطر ہیلی کاپٹروں کی خدمات حاصل کی گئی۔
واضح رہے کہ راجوری کے کنڈی بلٹ میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جاری تصادم میں 5 فوجی جوان از جان جبکہ ایک زخمی آفیسر کی بھی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔ ایک دفاعی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ راجوری کے بھاٹا دوریاں میں فوجی گاڑی پر حملہ کرنے میں ملوث عسکریت پسندوں کی تلاش کے لئے تلاشی آپریشن شروع کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ‘راجوری کے کنڈی جنگل میں جنگجوئوں کے چھپنے کے متعلق مخصوص اطلاع ملنے پر تین مئی کو مشترکہ آپریشن شروع کیا گیا اور پانچ مئی کی صبح قریب ساڑھے سات بجے ایک غار میں چھپے عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان آمنا سامنا ہوا’
انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایک آئی ای ڈی سے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں دو فوجی جوان از جان جبکہ ایک افسر سمیت چار دیگر زخمی ہوگئے’۔بیان کے مطابق زخمی جوانوں کو کمانڈ ہسپتال اودھم پور منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں پانچ فوجی اہلکاروں کو مردہ قرار دیا جبکہ ایک آفیسر کی حالت بھی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ جائے موقع کی طرف فوج کی اضافی ٹیموں کو روانہ کر دیا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ محاصرے میں دو سے تین عسکریت پسند پھنسے ہوئے ہیں جو راجوری کے بھاٹا دوریاں میں فوجی گاڑی پر حملہ کرنے میں ملوث ہیں۔( یو این آئی)









