امت نیوز ڈیسک //
سرینگر:جموں کشمیر کے معروف ٹریڈ یونین لیڈر سمپت پرکاش کی موت پر یونین ٹریٹری کی سیاسی جماعتوں نے شدید غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے انتقال سے کشمیر میں انسانی حقوق کے ایک علمبردار کی آواز خاموش ہوگئی ہے۔ 85 برس کے سمپت پرکاش سرینگر کے ہارون علاقے میں رہتے تھے اور گزشتہ روز ان کی حرکت قلب بند ہونے سے موت ہوئی۔نیشنل کانفرنس نے اس معروف ٹریڈ یونین لیڈر کے انتقال پر کہا کہ سپمت پرکاش نہ صرف ایک ٹریڈ یونین لیڈر تھے بلکہ سچ اور حقیقت کے علمبرداد تھے۔ نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلٰی تنویر صادق نے بتایا کہ سمپت پرکاش کشمیر کی تاریخ کے اہم باب کے گواہ تھے اور اس تاریخ کو نئی نسل کے سامنے بغیر کسی ملاوٹ کے بیان کررہے تھے۔ پی ڈی پی کے ترجمان موہت بھان نے سمپت پرکاش کی موت پر کہا کہ سمپت پرکاش کی موت سے ان کو ذاتی صدمہ ہوا ہے کیونکہ سمپت پرکاش جموں کشمیر کے پُر تناؤ ماحول میں ہندو مسلم بھائی چارے کی آواز تھے۔وہیں جموں کشمیر اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے ان کے موت پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سمپت پرکاش ایک دانا ٹریڈ یونین لیڈر تھے، جو حقیقی کشمیری اور سیکولر انسان تھے۔ سابق کانگرس لیڈر اور ڈیموکریٹک پراگریسیو آزاد پارٹی کے صدر غلام نبی آزاد نے اظہار غم کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ سمپت پرکاش کو وہ کالج کے دنوں سے جانتے تھے اور تب سے انہوں نے دیکھا ہے کہ سمپت پرکاش غریبوں اور سماج کے مظلوم طبقے کی آواز تھے۔
پیپلز کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر سجاد لون نے سمپت پرکاش کی موت پر انکے لواحقین کے ساتھ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمپت پرکاش کو اسکول کے دنوں سے جانتے تھے اور اس وقت سے انہوں عام لوگوں کی رہنمائی کی ہے اور انکی مسائل کے ترجمان تھے۔ سجاد لون نے کہا کہ سمپت پرکاش حقیقی معنوں میں سماجی کارکن تھے اور ایک سیکولر لیڈر تھے۔کمنسٹ لیڈر اور سابق قانون ساز محمد یوسف تاریگامی نے بتایا کہ سمپت پرکاش کی موت ان کا ذاتی نقصان ہے کیونکہ وہ گزستہ چالیس برسوں سے سمپت کے پرکاش کے ساتھ ٹریڈ یونین سے منسلک تھے۔ انہوں نے کہا کہ سمپت پرکاش کشمیر میں عام لوگوں اور ہزاروں ملازمین کی آواز تھے، جنہوں نے سچ کی ترجمانی کی اور وہ غریب و مظلوم لوگوں کے لئے انصاف کی ایک آواز تھے۔










