اگست 2019 میں جموں و کشمیر کے خصوصی درجہ کو ختم کرنے کے مودی حکومت کے فیصلے کی قانونی حیثیت پر جاری غیریقینی صورتحال کو دور کرنے والے ایک قدم کے طور پرسپریم کورٹ آف انڈیاکی پانچ ججوں کی آئینی بنچ آخرکار اس کو چیلنج دینے والی 23 عرضیوں کے ایک بیچ پر سماعت کرنے کے لیے تیار ہے۔واضح رہےاس سے پہلے آخری سماعت مارچ 2020 میں ہوئی تھی۔
عدالت نے سوموار(10 جولائی) کو کہا کہ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی پانچ ججوں کی بنچ 11 جولائی کو’’گائیڈ لائن طے کرنے‘‘کے لیے بیٹھک کرے گی ۔یعنی 5-6 اگست، 2019 کے صدارتی احکامات اور جموں و کشمیر تشکیلِ نو ایکٹ،2019 کو چیلنج کے حوالے سے سماعت کا شیڈول طے کیا جائےگا۔
یاد رہےعام طور پر، جب ایک آئینی بنچ تشکیل دی جاتی ہے، تو وہ پہلے اس بات کا جائزہ لینے کے بعد ہدایات جاری کرتی ہے کہ اس معاملے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے اور کتنے وکیلوں کو سننے کی ضرورت ہے۔ جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس سوریہ کانت اس آئینی بنچ کا حصہ ہوں گے۔ چونکہ جسٹس کول دسمبر کے آخر میں ریٹائر ہونے والے ہیں، اس لیے بنچ کو اس سے پہلے اپنا فیصلہ سنانا ہوگا۔
دریں اثنا مودی سرکار نے5اگست 2019کے فیصلے کادفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں معمول کی زندگی اب بحال ہوگئی ہے،اب پتھراؤاورنہ ہڑتالیںہو رہی ہیں،تعلیمی ادارے کھلے ہیں اور خطے میںامن، خوشحالی اور استحکام آگیا ہے۔ سپریم کورٹ کے سامنے اپنے تازہ حلف نامہ میں مودی سرکار نے آرٹیکل370 کو منسوخ کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے خطے کے عام آدمی پر اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا ہے جو اب کافی آمدنی کے ساتھ امن، خوشحالی اور استحکام کا عادی ہو رہا ہے۔وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد 3 دہائیوں کے انتشار کے بعد وہاں کی زندگی معمول پر آ گئی ہے۔اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں پچھلے تین سالوں کے دوران بغیر کسی ہڑتال کے کام کر رہی ہیں۔سپریم کورٹ کے سامنے دائر حلف نامہ میںوفاقی حکومت نے کہاہےکہ مئی 2023 میں سرینگر میں G20 ٹورازم ورکنگ گروپ کی میٹنگ کی میزبانی وادی کی سیاحت کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ تھا اور اس ملک نے دنیا کے سامنے اپنے پختہ عزم کا”فخر سے مظاہرہ“کیا کہ علیحدگی پسند/دہشت گرد خطے کو ایک ایسے خطے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جہاں یہاں تک کہ بین الاقوامی معززین کو بھی مدعو کیا جا سکتا ہے اور عالمی تقریبات منعقد کی جا سکتی ہیں ۔واضح رہےمرکزی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے اپنے 2019 کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے پیر(10 جولائی) کو سپریم کورٹ کے سامنے ایک تازہ حلف نامہ داخل کیا، جس نے جموں و کشمیر (جے اینڈ کے) کو خصوصی درجہ دیا تھا۔یہ حلف نامہ اس سے ایک دن پہلے داخل کیا گیا تھا جب سپریم کورٹ کی ایک آئینی بنچ تین سال سے زیادہ کے بعد اس معاملے پر سماعت کرنے والی تھی۔اپنے حلف نامہ میں، مرکزی وزارت داخلہ نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد، جموں و کشمیر میں بے مثال استحکام اور ترقی دیکھنے میں آئی ہے، پتھر بازی ماضی کی بات بن گئی ہے۔تین دہائیوں کے ہنگاموں کے بعد خطے میں زندگی معمول پر آ گئی ہے۔ پچھلے تین سالوں میں سکول، کالج اور دیگر سرکاری ادارے موثر طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ ہڑتالوں، پتھراؤ اور بندوں کا پہلے رواج اب ماضی کی بات ہے۔حلف نامے میں زور دیا گیا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے پتھراو ٔ کا کوئی واقعہ نہیں ہوا ہے۔اس کے علاوہ، مرکزی قوانین جیسے تعلیم کا حق ایکٹ اور وہ جو درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے لیے ریزرویشن فراہم کرتے ہیں اب جموں و کشمیر میں لاگو ہیں۔مرکز نے جوابی حلف نامہ میں سپریم کورٹ کوبتایاکہ آرٹیکل370 کی منسوخی سے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کیا گیا ہے، اور تین درجے پنچایتی راج نظام متعارف کرایا گیا ہے جس کے ساتھ ساتھ ضلع ترقیاتی کونسلوں کے بھی ہموار انتخابات ہوں گے۔مزید برآں، دفعہ370منسوخی کے بعد، مقامی زبانوں جیسے کشمیری، ڈوگری، اردو اور ہندی کو بھی سرکاری زبانوں کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جو لوگوں کے مطالبے کو پورا کرتے ہوئے، حلف نامے میں روشنی ڈالی گئی ہے۔یاد رہے کہ یہ حلف نامہ سپریم کورٹ کے سامنے زیر التوا20 درخواستوں کے جواب میں داخل کیا گیا تھا جس میں مرکزی حکومت کے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کیا گیا تھا۔سابقہ ریاست کو بعد میں دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔جب مارچ 2020 میں درخواستوں کو آخری بار سماعت کے لیے درج کیا گیا تھا، سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل آئینی بنچ نے فیصلہ کیا کہ درخواستوں کے بیچ کو سات ججوں کے آئینی بنچ کے پاس نہ بھیج دیا جائے، باوجود اس کے کہ کچھ درخواست گزاروں نے ریفرنس کا مطالبہ کیا تھا۔درخواست گزاروں نے استدلال کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے 2فیصلے” پریم ناتھ کول بنام ریاست جموں و کشمیر اور سمپت پرکاش بنام ریاست جموں و کشمیر“جو کہ پانچ ججوں کی بنچوں نے سنائے تھے اور آرٹیکل 370 کی تشریح سے نمٹا تھا۔ تاہم، پانچ ججوں کی بنچ جو اس کیس کی سماعت کر رہی تھی، نے اس معاملے کو بڑے بنچ کو بھیجنے سے انکار کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ دونوں فیصلوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 5 اگست 2019 کو مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک قرارداد پیش کرکے دفعہ 370 کی زیادہ تر شقوں کو ختم کر دیا تھا۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر (تشکیل نو) ایکٹ 2019 اثر میں آیا اور اس کے نتیجے میں ریاست جموں و کشمیر کو دو یونین ٹریٹری جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ حکومت کے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں کم از کم 23 عرضیاں دائر کی گئی ہیں۔
عرضی گزاروں کا کہنا ہے کہ ہندوستانی حکومت کا یہ قدم’’یکطرفہ‘‘ تھا، اور س میں جموں و کشمیر کے لوگوں کی رضامندی شامل نہیں تھی۔ جب کیس کی آخری سماعت ہوئی تو عدالت عظمیٰ نے درخواست گزاروں کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا کہ معاملے کو بڑی بنچ کے پاس بھیج دیا جائے۔
سابق چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی کے وقت سےسپریم کورٹ نے ایک سے زیادہ مواقع پر کہاہے کہ وہ ان عرضیوں کو’جلدی ‘ لسٹ کرنے کو یقینی بنائے گی۔ تاہم آرٹیکل 370 کی منسوخی کے تقریباً چار سال بعد بھی یہ معاملہ زیر التوا ہی ہے۔
پچھلے سال 25 اپریل اور 25 ستمبر کو اس وقت کے چیف جسٹس این وی رمنا نے اس معاملے کو’جلدی‘ سماعت کے لیےلسٹ کرنے پر اتفاق کیا تھا، لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
اس معاملے کا ذکر اس سال فروری میںموجودہ چیف جسٹس چندرچوڑ کے سامنے بھی کیا گیا تھا، جب انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس کو لسٹ کیے جانے کے حوالے سے’فیصلہ‘کریں گے ۔
خیال رہےمودی حکومت کہتی رہی ہے کہ اس نے یہ قدم جموں و کشمیر کو بقیہ ہندوستان کے ساتھ ’مکمل طور پر ضم کرنے‘ کے لیے اٹھایا ہے، لیکن جموں و کشمیر ملک کا واحد خطہ ہے جس کو منتخب نمائندوں کے ذریعے نہیں بلکہ مرکزی وزارت داخلہ کو جوابدہ انتظامیہ کے ذریعےچلایا جا رہا ہے۔ پچھلے پانچ سال سے یہی صورتحال ہے۔ جون 2018 میں اس وقت کی اسمبلی تحلیل کر دی گئی تھی اور گورنر راج نافذ کر دیا گیا تھا۔
نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی سمیت کئی جماعتوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کے پانچ اگست 2019 کے فیصلے کے خلاف پٹیشن میں اعتراض اٹھایا ہے کہ غیرآئینی اور غیرقانونی اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ اس میں مقامی قانون ساز اسمبلی کی نہ تو مرضی شامل ہے اور نہ عوام کو اس بارے میں اعتماد میں لیا گیا ہے۔
اب سپریم کورٹ جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے مرکز کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر آئندہ 2 اگست سے پیر اور جمعہ کو چھوڑ کر(جو کہ متفرق معاملات کی سماعت کے دن ہیں) تمام کام کے دنوں پر سماعت کرے گی۔چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس سنجے کشن کول، سنجیو کھنہ، جسٹس بی آر گووئی اور جسٹس سوریہ کانت پر مشتمل ایک آئینی بنچ نے منگل (11 جولائی)کو یہ حکم سنایا۔آئینی بنچ 2 اگست کو صبح 10:30بجے سے سماعت شروع کرے گی۔ اس سے قبل بنچ میں تمام فریقین کو 27 جولائی تک تمام دستاویزات داخل کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔پانچ ججوں کی بنچ نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے نوٹیفکیشن کے بعد جموں و کشمیر میں موجودہ حالات کے حوالے سے پیر (10جولائی)کو دائر کردہ مرکز کے حلف نامہ کا پانچ ججوں کی بنچ کے ذریعہ فیصلہ سنائے جانے والے آئینی مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔سینئر ایڈوکیٹ راجو رام چندرن، جو آرٹیکل 370 کی منسوخی کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والے عرضی گزاروں کی قیادت کر رہے ہیں، نے کہا کہ دو درخواست گزاروں آئی اے ایس افسر شاہ فیصل اور شہلا رشید شورا نے درخواست گزاروں کی فہرست سے اپنے نام نکالنے کے لیے درخواست دائر کی ہے۔سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے مرکز کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی درخواست گزاروں کی فہرست سے اپنا نام نکالنا چاہے تو انہیں کوئی مشکل نہیں ہے۔اس کے بعد بنچ نے شاہ اور شورہ کو درخواست گزاروں کی فہرست سے اپنے نام حذف کرنے کی اجازت دی۔سماعت کے اختتام پر، سینئر ایڈوکیٹ گوپال شنکرارائنن، درخواست گزاروں میں سے ایک کی طرف سے پیش ہوئے، کہا کہ درخواست گزاروں کی فہرست سے شاہ فیصل کا نام ہٹانا ایک مسئلہ پیدا کرے گا جہاں تک کیس کے عنوان کا تعلق ہے کیونکہ وہ سرکردہ درخواست گزار تھے۔ایڈوکیٹ منوہر لال شرما، جنہوں نے منسوخی کے خلاف ایک عرضی بھی دائر کی ہے، کہا کہ ان کا پہلا مقدمہ تھا، جو عدالت کے سامنے آیا اور اس پر نوٹس جاری کیا گیا، لیکن کاز لسٹ میں ان کا نام دیگر درخواست گزاروں کی طرف سے دائر مقدمات کے درمیان دکھایا گیا ہے۔اس کے بعد بنچ نے کہا کہ موجودہ کیس کے لیے یہ مناسب ہوگا کہ اس کا عنوان ‘آئین کے آرٹیکل 370 میں دوبارہ رکھا جائے اور اس سے معاملے کے کسی بھی فریق کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔مختلف گروپوں کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے بنچ کی طرف سے دی گئی تجویز کو قبول کر لیا۔
وہیںتجزیہ کار اس بات پر حیران ہیں کہ تین سال تک التوا میں رکھنے کے بعد آخر کار سپریم کورٹ اس کیس کی سماعت پر کیونکر راضی ہوگیا۔بعض مبصروں کی رائے ہے کہ ایسا تب ہی ہوتا ہے جب حکومت اپنے حق میں کوئی فیصلہ چاہتی ہو! اب 2 اگست سے شروع سماعت کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ کیا سپریم کورٹ کا یہ پانچ رکنی بینچ جموں و کشمیر کے عوام سے ماضی میں کیا گیا سیاسی عہد و پیماں کا مان رکھے گا یا پھر بی جے پی کا بیانیہ لے کر اس شق کی منسوخی پر ہمیشہ کے لیے مہر ثبت کرے گا۔









