امت نیوز ڈیسک //
سرینگر (نیوز ڈیسک) :’’دفعہ 370پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کو ہم با دل نخواستہ قبول کرتے ہیں۔ گزشتہ 75برسوں کے دوران یہ حقیقت ہم سے مخفی رکھی گئی کہ دفعہ 370مستقل نہیں بلکہ عارضی ہے۔ کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بتایا کہ وہ مستقل نہیں بلکہ عارضی تھا۔ اور کورٹ کا فیصلہ ہے قبول تو کرنا ہی پڑے گا۔‘‘
الطاف بخاری نے مزید کہا ہے کہ دفعہ 370ایک سیاسی مسئلہ تھا جس پر سیاسی طور ہی بات چیت کرنی تھی، جسے سیاسی انداز میں ہی حل کرنا چاہئے تھے۔ اس (دفعہ 370) کو کورٹ میں لے جانے کا فیصلہ ہی غلط تھا۔ شاید انہوں نے کورٹ کے فیصلہ پر سیاسی صورتحال کے بارے میں سوچا نہیں تھا۔ تاہم الطاف بخاری نے اپنی نئی پارٹی کی بنیاد رکھے جانے کو اس سبھی معاملے ساتھ جوڑتے ہوئے کہا: ’’ہم نے 2020میں اپنی پارٹی کی بنیاد رکھی، اور وہ فیصلہ صحیح ثابت ہو رہا ہے کیونکہ ہم یہاں نوکریوں اور زمین کا تحفظ چاہتے ہیں۔‘‘
کورٹ کی جانب سے ریاستی درجہ کی بحالی اور اسمبلی الیکشن کے انعقاد کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے بخاری نے کہا: ’’ریاستی درجہ آج نہیں تو کل بحال ہونا ہی ہے اور الیکشن کے لیے ستمبر تک انتظار کرنے کی ضرورت نہیں فروری مارچ میں بھی الیکشن کا انعقاد عمل میں لایا جا سکتا ہے۔‘‘(ای ٹی وی بھارت)








