امت نیوز ڈیسک //
سرینگر (جموں وکشمیر) : نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے والد اور پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کے اس بیان پر صفائی دی جس میں فاروق عبداللہ نے کہا تھا کہ ’’نیشنل کانفرنس اپنے بل بوتے پر جموں کشمیر کی پانچوں پارلیمانی نشستوں پر انتخابات لڑے گی۔‘‘ اس بیان سے فاروق عبد اللہ نے ’انڈیا الائنس‘ کو الوداع کیا تھا۔
عمر عبد اللہ نے کہا کہ ’’نیشنل کانفرنس انڈیا الائنس کا حصہ ہے بلکہ اس الائنس کا دامن تھامے رہے گی۔‘‘ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انڈیا الائنس میں وہ کانگریس کے ساتھ جموں کی دو اور لداخ کی ایک پارلیمانی نشست پر اتحاد پر گفتگو کریں گے۔ یہ تینوں سیٹیں، جن پر عمر عبداللہ کانگریس کے ساتھ مل کر انتخابات لڑنے کی بات کر رہے ہیں، سنہ 2019 میں بی جے پی نے جیت لی تھی۔
سابق وزیر اعلیٰ نے صاف الفاظ میں کہا کہ ’’کشمیر کی تین سیٹوں پر نیشنل کانفرنس سمجھوتہ نہیں کرے گی کیونکہ یہ تینوں سیٹیں نیشنل کانفرنس نے سنہ 2019 کے انتخابات میں جیتی ہیں۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ یہ تینوں سیٹیں انڈیا الائنس کے پاس ہی ہے اور ان پر اتحاد کرنے کی کیوں ضرورت ہے؟ عمر عبداللہ سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ پی ڈی پی کے ساتھ بھی انڈیا الائنس میں بات کریں گے تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ ’’اگر کانگریس لیڈران پی ڈی پی کے ساتھ جموں، ادھمپور اور لداخ نشست پر گفتگو کریں گے تو نیشنل کانفرنس کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘‘
غور طلب ہے کہ جموں کشمیر کی پانچ نشستوں پر کانگریس اور پی ڈی پی نیشنل کانفرنس کے ساتھ مل کر متحدہ پارلیمانی انتخابات لڑنا چاہتے ہیں اور سیٹ شئیرنگ پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ پی ڈی پی اننت ناگ – راجوری نشست پر انتخابات لڑنا چاہتی ہے اور کانگریس جموں، ادھمپور اور اننت ناگ – راجوری سیٹ پر انتخابات لڑنا چاہتی ہے جبکہ نیشنل کانفرنس سرینگر، کپوارہ اور اننت ناگ – راجوری سیٹ پر انتخابات لڑنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ لیکن ابھی تک ان پارٹیز کے مابین اس ارینجمنٹ پر کوئی مفاہمت نہیں ہوئی ہے۔ تاہم یہ بات فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ نے دہرائی ہے کہ تین سیٹوں – سرینگر، بارہمولہ اور اننت ناگ راجوری سیٹ – پر وہ کوئی سمجھوتہ یا گفتگو نہیں کریں گے۔










