امت نیوز ڈیسک //
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے این ڈی اے حکومت سے تین نئے فوجداری قوانین کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا: ’’ہمیں امید تھی کہ لوک سبھا انتخابات کے بعد ان قوانین کا جائزہ لینے کے لیے نئی حکومت بنے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ یہ صرف بی جے پی کی حکومت نہیں بلکہ یہ این ڈی اے کی حکومت ہے۔ ہمیں امید ہے کہ این ڈی اے کے حلقے ان قوانین پر دوبارہ غور کریں گے۔
"عمر عبداللہ نے پارٹی ہیڈکوارٹر، سرینگر، میں نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا: ’’ہم نے شروع سے ہی ان قوانین کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ کوئی قانون بذات خود برا نہیں ہوتا، لیکن مسئلہ اس میں یہ ہے کہ ان کا استعمال کیسے کیا جاتا ہے؟ نئے قوانین میں پہلے کے مقابلے میں غلط استعمال کیے جانے کی زیادہ گنجائش ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ ان قوانین کو پہلے جموں و کشمیر میں نافذ کیا جائے گا اور پھر باقی ملک اس کے اثرات محسوس کرے گا۔
عمر نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی کو خدشہ ہے کہ ان قوانین کو پہلے جموں و کشمیر کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا: ’’ان تمام قوانین کو پہلے جموں و کشمیر کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے اور پھر باقی ملک اس کے اثرات کو محسوس کرتا ہے۔ ہمیں اس کے نتائج برداشت کرنے ہوں گے۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کرائے جائیں گے۔ ایک نئی حکومت بنائی جائے گی اور پھر ہم معلوم کریں گے کہ ان قوانین کو کہاں نافذ کیا جاتا ہے!‘‘
یاد رہے کہ بھارتیہ نیاے سنہیتا (بی این ایس) بھارتیہ ناگریک سرکشا سنہیتا (بی این ایس ایس) اور بھارتیہ سکشیا ادھینیم (بی ایس اے) نے بالترتیب برطانوی دور کے انڈین پینل کوڈ، کوڈ آف کرمنل پروسیجر اور انڈین ایویڈنس ایکٹ کی جگہ لے لی ہے۔ یہ نئے قوانین موجودہ سماجی حقائق اور جدید دور کے جرائم سے نمٹتے ہیں۔








