امت نیوز ڈیسک //
جموں و کشمیر میں سال رواں کے دوران بیک ٹو بیک الیکشن کی وجہ سے ترقی کچھ حد تک متاثر ہوئی ہے لیکن اب افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ باقی مالی سال کے ساڑھے تین ماہ میں کاموں کو تیز کریں کی بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ زمینی سطح پر ترقیاتی کاموں کو موثر انداز میں انجام دینے کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ کاموں کو تسلی بخش طریقے سے مکمل کرنے کی بھی کوشش ہونی چاہیے۔سی این آئی کے مطابق جموں کے سانبہ ضلع میں جائزہ میٹنگ کی صدارت کرنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے مختصر بات چیت میں وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ اس سال دو انتخابات کی وجہ سے ترقیاتی کاموں کو تھوڑا سا نقصان پہنچا جس کیلئے ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ نافذ کرنا پڑا۔انہوں نے کہا”اب ہم نے افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس مہینے کے نصف اور اگلے مالی سال کے تین مہینوں میں ترقی کو تیز کریں“۔انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ زمینی سطح پر ترقیاتی کاموں کو موثر انداز میں انجام دینے کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ کاموں کو تسلی بخش طریقے سے مکمل کرنے کی بھی کوشش ہونی چاہیے۔لیفٹیننٹ گورنر کے دوران حکومت کے کام کرنے اور ان کی سربراہی میں موجودہ حکومت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ ایک بڑا سوال ہے اور اس کا جواب یہاں نہیں دیا جا سکتا۔عمر نے طبلہ ساز ذاکر حسین کو خراج عقیدت پیش کیا جو گزشتہ رات امریکہ کے سان فرانسسکو ہسپتال میں انتقال کر گئے تھے اور کہا کہ ان کی موت سے ثقافتی خلا پیدا ہو گیا ہے جسے پر کرنا مشکل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ذاکر گریمی اور تمام پدم ایوارڈز کے فاتح تھے اور انہوں نے بلندیوں کو چھو لیا ہے۔عمر نے 2018 کے بعد ممبر اسمبلی کی واپسی کے اثرات کو نوٹ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی واپسی سے عوامی توقعات اور دباو¿ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کے لیے لوگوں کے مطالبات کو مو¿ثر طریقے سے حل کرنے کے لیے ایک مربوط کوشش کی ضرورت ہے۔منشیات کی لت کو پچھلی دہائی کے دوران بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے اس کے اثرات کو روکنے کے لیے مربوط کوششوں پر زور دیا۔بین الاقوامی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے باوجود دیگر علاقوں سے آنے والی آمد کی وجہ سے مسئلہ برقرار ہے۔ اس مسئلے کو اس کے منبع پر حل کرنا جموں و کشمیر کیلئے اہم ہے۔









