• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
ہفتہ, جنوری ۳۱, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
میرواعظ کی قیادت میں پارلیمانی کمیٹی کے سامنے مجوزہ وقف  سے متعلق یاداشت پیش

میرواعظ کی قیادت میں پارلیمانی کمیٹی کے سامنے مجوزہ وقف سے متعلق یاداشت پیش

by امت ڈیسک
24/01/2025
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

سرینگر : میرواعظ محمد عمر فاروق کی قیادت میں چئیرمین پارلیمانی کمیٹی کے سامنے مجوزہ وقف( ترمیمی بل) 2024 سے متعلق خدشات اور اعتراضات یاداشت کی صورت میں پیش کی گئی۔ نئی دلی میں جمعہ کو پیش کی گئی یاداشت میں لکھا گیا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ترامیم مسلم کمیونٹی کے مفادات کے خلاف ہیں اور تمام تسلیم شدہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ وقف کی جائیدادیں مسلمانوں کی ذاتی ملکیت ہوتی ہیں جو اللہ کے نام پر اپنے معاشرے کی بہتری اور محروم طبقے کی مدد کے لیے وقف کی جاتی ہیں۔ ایسے مذہبی سماجی اداروں کو ریاست کی کم سے کم مداخلت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم حکومت کی طرف سے مجوزہ ترامیم اس ادارے کی خودمختاری اور فعالیت کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔

مجوزہ ترامیم کے حوالے سے خدشات

1. وقف جائیدادوں پر حکومت کی زیادتی اور کنٹرول ہمارا پہلا اعتراض حکومت کی طرف سے کلکٹر کے ذریعے وقف پر قبضے کی تجویز پر ہے۔ کلکٹر کو وقف جائیدادوں کو "سرکاری جائیدادوں” میں تبدیل کرنے کا مکمل اختیار دیا گیا ہے۔ وہ صرف احکامات جاری کرکے اور ریونیو ریکارڈ میں اندراجات کو تبدیل کرکے ایسا کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ، کلکٹر کو متنازعہ اور غیر متنازعہ وقف جائیدادوں کے حوالے سے جو من مانے اختیارات دیے گئے ہیں، وہ ان پر بے حد کنٹرول فراہم کرتے ہیں۔ یہ اقدام وقف ایکٹ کے اصل مقصد کو کمزور کرتا ہے، جو کہ مسلم کمیونٹی کے افراد کی جانب سے مذہبی اور خیراتی مقاصد کے لیے وقف جائیدادوں کا تحفظ اور نگہداشت کرنا ہے۔

2. مسلم نمائندگی میں کمی
دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مرکزی وقف کونسل میں غیر مسلم اراکین کی تعداد کو 13 اور ریاستی وقف بورڈز میں 7 تک بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ پہلے تمام اراکین (سوائے ایک کے) مسلمان ہوتے تھے اور وہ منتخب کیے جاتے تھے۔یہاں تک کہ وقف بورڈ کے سی ای او کے مسلمان ہونے کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔ یہ مجوزہ تبدیلیاں مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں کیونکہ یہ ریاست کی نامزد کردہ غیر مسلم اراکین کی براہ راست مداخلت کے ذریعے وقف بورڈ کی آزادانہ کارکردگی کو بری طرح متاثر کریں گی۔

3. "وقف بائے یوزر” کی شق کا خاتمہ
ایک اور سنگین مسئلہ "وقف بائے یوزر” کی شق کا خاتمہ ہے، جو یہ تسلیم کرتی تھی کہ کسی پراپرٹی کو طویل عرصے سے مذہبی اور خیراتی مقاصد کے لیے وقف کے طور پر استعمال کرنا اسے وقف کے طور پر مقرر کرتا ہے۔ "وقف بائے یوزر” کا خاتمہ نہ صرف وقف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ مساجد اور دیگر اوقاف جیسے مدارس، درگاہوں، آستانوں اور قبرستانوں پر کمیونل دعووں کو بڑھا دے گا جو صدیوں سے موجود ہیں لیکن ریونیو ریکارڈ میں اس طرح درج نہیں ہیں، اور یہ ریاستی حکام کے ذریعے غیر قانونی قبضے کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ صورتحال کمیونٹی کے لیے بہت پریشان کن ہے۔

4. جائیداد کی ضبطی کے خطرات میں اضافہ مزید یہ کہ مجوزہ ترامیم حکومت کو وقف جائیدادوں کو محفوظ جائیدادوں کی فہرست سے نکالنے کا اختیار دیتی ہیں۔ اس سے حکومت کو قیمتی وقف جائیدادوں پر قبضہ یا فروخت کرنے کا موقع ملے گا، جس سے مسلم کمیونٹی اپنی مذہبی اور خیراتی سرگرمیوں کی حمایت کے لیے وسائل سے محروم ہو جائے گی۔

5. مسلم پرسنل لاء اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی مجوزہ ترامیم مسلم پرسنل لاءکی خلاف ورزی ہیں، جو کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت محفوظ ہے۔
ان ترامیم سے مسلم کمیونٹی کے اندر عدم تحفظ اور بے اعتمادی میں مزید اضافہ ہوگا، جو پہلے ہی دباو محسوس کر رہی ہے کہ ان کی مذہبی جائیدادیں سرکاری مداخلت سے محفوظ نہیں رہیں گی۔

6. جموں و کشمیر کے لیے علاقائی اثرات
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مسلم اکثریتی علاقہ جموں و کشمیر ان ترامیم کو اپنی مذہبی آزادی اور اداروں کی خودمختاری کو کمزور کرنے کی ایک اور کوشش کے طور پر دیکھتا ہے لہٰذا ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ ان مجوزہ ترامیم پر نظرثانی کریں اور انہیں مسترد کریں، اور مسلم کمیونٹی کے ساتھ تعمیری بات چیت کریں تاکہ ان خدشات کو دور کیا جا سکے اور ان سے تجاویز لی جا سکیں کہ وہ وقف ایکٹ میں کس قسم کی تبدیلیاں چاہتے ہیں، اگر کوئی ہوں، تاکہ یہ ان کے فائدے کے لیے زیادہ مو ¿ثر بنایا جا سکے اور ان پر یہ امتیازی ترامیم زبردستی نہ تھوپی جائیں۔

اس یاداشت میں چند درخواستیں بھی پیش کی گئیں

1) مجوزہ ترامیم کو فوری طور پر مسترد کیا جائے۔
2) متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورت کی جائے۔
3) مذہبی خودمختاری کے لیے تحفظات فراہم کیے جائیں۔
4) وقف جائیدادوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے وغیرہ شامل ہیں۔

واضح رہے کہ متحدہ مجلس علما جموں وکشمیر کے تمام بڑے علما، اسلامی اور تعلیمی اداروں کی ایک نمائندہ تنظیم ہے۔ جن میں انجمن اوقاف جامع مسجدسرینگر، دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ، مسلم پرسنل لاء بورڈ کشمیر، انجمن شرعی شیعان، جمعیت اہلحدیث، جماعت اسلامی ،کاروان اسلامی، اتحاد المسلمین، جامعہ سبیل الھدیٰ بمنہ سرینگر کشمیر، انجمن حمایت الاسلام، انجمن تبلیغ الاسلام، جمعیت ہمدانیہ، انجمن علمائے احناف،دارالعلوم قاسمیہ،دارالعلوم بلالیہ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔اور نمائندہ جماعت کی سربراہی میرواعظ محمدعمر فاروق کر رہے ہیں۔

بتا دیں کہ مولوی محمد عمر فاروق میرواعظ کشمیر ہیں جبکہ یہ کُل جماعتی حریت کانفرنس کے چئیرمین بھی ہیں۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

یوم جمہوریہ کی تقریبات میں بڑھ چڑھ کر شرکت کریں:صوبائی کمشنر کشمیر کی لوگوں سے اپیل

Next Post

کشمیر میں یوم تقریبات کی جگہوں پر کثیر سطحی حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں: آئی جی پی کشمیر

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

ایران کا آبنائے ہرمز میں دو روزہ لائیو فائر بحری مشقوں کا اعلان، امریکی جنگی جہازوں کے قریب سرگرمیاں

ایران کا آبنائے ہرمز میں دو روزہ لائیو فائر بحری مشقوں کا اعلان، امریکی جنگی جہازوں کے قریب سرگرمیاں

31/01/2026
کشمیر میں 10 فروری تک بھاری برف باری کا کوئی امکان نہیں

کشمیر میں 10 فروری تک بھاری برف باری کا کوئی امکان نہیں

31/01/2026
ادھمپور میں سیکیورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوکے درمیان تصادم شروع

کشتواڑ میں سیکیورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے درمیان جھڑپ

31/01/2026
اسپیکر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے آل پارٹی، بزنس ایڈوائزری کمیٹی اجلاس کی صدارت کی

اسپیکر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے آل پارٹی، بزنس ایڈوائزری کمیٹی اجلاس کی صدارت کی

30/01/2026
میرواعظ عمر فاروق نے ایکس اکاؤنٹ سے حریت چیئرمین کا عہدہ ہٹانے کی وضاحت کر دی

کشمیر یوں پر حملے بند کیے جائیں: میرواعظ عمر فاروق

30/01/2026
صرف سرکاری ویب سائٹ پر ہی ٹریفک چالان کی تصدیق کریں: ایس ایس پی ٹریفک سرینگر

صرف سرکاری ویب سائٹ پر ہی ٹریفک چالان کی تصدیق کریں: ایس ایس پی ٹریفک سرینگر

30/01/2026
Next Post
کشمیر میں یوم تقریبات کی جگہوں پر کثیر سطحی حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں: آئی جی پی کشمیر

کشمیر میں یوم تقریبات کی جگہوں پر کثیر سطحی حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں: آئی جی پی کشمیر

یوم اساتذہ : ایل جی کا اساتذہ کا احترام و تشکر

جموں و کشمیر کے نوجوان ملک میں اعلیٰ درجے کے کاروباری افراد کے طور پر ابھریں ، اس کیلئے ہم پُر عزم: منوج سنہا

نائب وزیر اعلیٰ نے درگاہ حضرت بل کا دورہ کیا، شب معراج کے انتظامات کا لیا جائزہ

نائب وزیر اعلیٰ نے درگاہ حضرت بل کا دورہ کیا، شب معراج کے انتظامات کا لیا جائزہ

جموں وکشمیر میں سخت حفاظتی حصار میں یوم جمہوریہ کی فل ڈریس ریہرسل

جموں وکشمیر میں سخت حفاظتی حصار میں یوم جمہوریہ کی فل ڈریس ریہرسل

مژھل کپوارہ میں مسلح جھڑپ جاری: پولیس

کٹھوعہ میں ملی ٹینٹوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »