امت نیوز ڈیسک //
جموں کشمیر حکومت 200 یونٹ مفت بجلی دینے کیلئے پرعزم ہے کی بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت کا مقصد اگلے دو سالوں میں بجلی کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کرنا ہے۔ سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت کا مقصد اگلے دو سالوں میں بجلی کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کرنا اور بجلی کی قابل اعتماد فراہمی کو یقینی بنانا ہے،اور یہ کہ حکومت 200 یونٹ مفت بجلی کی پیشکش کرنے کیلئے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹوں کی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار میں خود کفیل ہو اور صارفین کو بلاتعطل بجلی فراہم کی جا سکے۔
نیشنل کانفرنس ممبر اسمبلی شمیمہ فردوس کے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ جو بجلی کا چارج بھی رکھتے ہیںنے ایک تحریری جواب میں کہا کہ این ایچ پی سی کے ساتھ مل کرجے کے ایس پی ڈی سی نے جموں و کشمیر میں مختلف پروجیکٹوں کو نافذ کرنے کیلئے سی وی پی پی ایل اور آر ایچ پی سی ایل جیسے مشترکہ منصوبے بنائے ہیں۔انہوں نے کہا ” ان منصوبوں میں 1,000 میگاواٹ کے پاکل ڈل ایچ ای پی، 624 میگاواٹ کیرو ایچ ای پی، 540 میگاواٹ کوار ایچ ای پی، اور 850 میگاواٹ کے رتلے ایچ ای پی شامل ہیں، یہ سب کشتواڑ میں دریائے چناب پر واقع ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا ”جے کے ایس پی پی ڈی سی راجوری اور کپواڑہ اضلاع میں بالترتیب 37.5 میگاواٹ پرنائی ایچ ای پی اور 12 میگاواٹ کرناہ ایچ ای پی کو لاگو کر رہا ہے“۔انہوں نے کہا ”اس سے سال 2027-28تک مجموعی صلاحیت 3063 میگاواٹ ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ کشتواڑ میں 48 میگاواٹ کے لوئر کالانی ایچ ای پی اور گاندربل میں میگاواٹ کے نئے گاندربل ایچ ای پی کو پہلے ہی ٹینڈر کیا جا چکا ہے۔ “ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اگرچہ ان منصوبوں کی تکمیل سے بجلی کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا تاہم ہائیڈرو پاور پلانٹس سردیوں میں کم بجلی پیدا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا ” خود انحصاری حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ توانائی کے وسائل بشمول تھرمل اور نیوکلیئر پاور کا متوازن امتزاج ہو۔ “
اس کے علاوہ انہوںنے ایوان کو بتایا گیا کہ حکومت قابل عمل وسیلہ کے طور پر قابل تجدید توانائی کو بھی ترجیح دے رہی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے اور ماحولیاتی تبدیلی کے بین الاقوامی وعدوں کو پورا کیا جا سکے۔اس کے علاوہ قانون ساز کو بتایا گیا کہ جموں و کشمیر حکومت ہند کے ساتھ مشاورت کر رہا ہے اور اس نے بجلی کی پیداوار میں خود انحصاری حاصل کرنے کی سمت ایک اہم قدم کے طور پر 20235 تک وسائل کی مناسبیت کا منصوبہ تیار کیا ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت صارفین کو 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرتی ہے اور اس سلسلے میں کیا اقدامات کیے گئے ہیں، تو حکومت نے مثبت جواب دیتے ہوئے کہا”اس شعبے کے لیے گرانٹ کے مطالبے کے دوران ضروری اقدامات کا خاکہ پیش کیا جائے گا“۔











