امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) سے تہاڑ جیل میں قید جموں و کشمیر کے رکن پارلیمان عبد الرشید شیخ عرف انجینئر رشید کی اس درخواست پر اپنا مؤقف پیش کرے، جس میں انہوں نے جاری پارلیمانی اجلاس میں شرکت کی اجازت مانگی ہے۔
رشید پر انسداد دہشت گردی قانون یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج ہے۔ جسٹس پرتھیبا ایم سنگھ اور جسٹس رجنیش کمار گپتا پر مشتمل بینچ نے انجینئر رشید کی اس اپیل پر این آئی اے کو نوٹس جاری کیا، جس میں انہوں نے ٹرائل کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا، جس نے انہیں حفاظتی پیرول یا عبوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
عدالت نے کہا: ’’نوٹس جاری کریں۔ اگر کوئی اعتراضات ہیں تو انہیں پیر کے روز عدالت میں پیش کیا جائے۔‘‘ کیس کی اگلی سماعت 18 مارچ کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔
رشید کے وکیل، سینئر ایڈوکیٹ این ہری ہرن نے عدالت کو بتایا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس 4 اپریل تک جاری رہے گا اور ان کی پارلیمانی حلقے (بارہمولہ) کی نمائندگی نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’میں اس پارلیمانی حلقے کی نمائندگی کرتا ہوں، جس میں جموں و کشمیر کی کل آبادی کا 45 فیصد شامل ہے۔ مجھے حفاظتی تحویل میں اجلاس میں بھیج دیا جائے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل بھی عدالت نے انہیں دو دن کے لیے حفاظتی پیرول دی تھی۔
حفاظتی پیرول کے تحت قیدی کو مسلح پولیس کی نگرانی میں مخصوص مقام پر لے جایا جاتا ہے۔
این آئی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انجینئر رشید کی مستقل ضمانت کی درخواست پر ٹرائل کورٹ 19 مارچ کو فیصلہ کر سکتی ہے۔
بارہمولہ سے منتخب ہونے والے ایم پی انجینئر رشید، جنہوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو شکست دی تھی، دہشت گردی کی مالی معاونت کے ایک کیس کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندوں اور دہشت گرد گروہوں کو مالی امداد فراہم کی۔
ہائی کورٹ نے انہیں 10 فروری کو عبوری ریلیف دیتے ہوئے 11 اور 13 فروری کو پارلیمنٹ اجلاس میں شرکت کے لیے دو دن کی حفاظتی پیرول دی تھی۔
رشید 2019 سے تہاڑ جیل میں قید ہے، جب این آئی اے نے انہیں 2017 کے دہشت گردی کی فنڈنگ کیس میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا تھا۔










