امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ اگر حکومتِ ہند نے علیحدگی پسند رہنما میرواعظ عمر فاروق کو زیڈ پلس سیکیورٹی فراہم کی ہے تو ان کی جماعت ملک دشمن کیسے ہو سکتی ہے؟
مرکزی وزارت داخلہ نے گزشتہ روز روز غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) 1967 کے تحت میرواعظ کشمیر مولوی عمر فاروق کی قیادت والی عوامی ایکشن کمیٹی (اے اے سی) اور مسرور عباس انصاری کی جماعت اتحاد المسلمین پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کر دی۔
محبوبہ مفتی نے سرینگر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’میرواعظ خود ایک متاثرہ فرد ہے۔ ان کے والد (مرحوم میرواعظ مولوی فاروق) کو شہید کیا گیا۔ ایک طرف حکومت ہند انہیں زیڈ پلس سیکورٹی فراہم کر رہی ہے اور دوسری جابن ان کی جماعت پر پابندی عائد کرتی ہے۔ اگر وہ ملک دشمن ہوتے تو حکومت انہیں سیکورٹی کیوں دیتی؟ آخر یہ طاقت کی پالیسی کب تک چلے گی؟‘‘
پی ڈی پی صدر نے مزید کہا کہ دونوں جماعتیں سماجی و سیاسی تنظیمیں ہیں اور یہاں کے عوام کو مرہم رکھنے والی پالیسی کی ضرورت ہے۔ ’’ایسے فیصلے عوام میں مزید ناراضگی پیدا کرتے ہیں۔ ان تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کی وجہ ہمیں سمجھ نہیں آئی۔‘‘
محبوبہ مفتی نے نیشنل کانفرنس (این سی) حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام نے حکومت کو اس امید کے ساتھ منتخب کیا تھا کہ انہیں حکومتِ ہند کی سخت پالیسیوں سے نجات ملے گی۔ محبوبہ کے مطابق ’’منتخب حکومت کے باوجود عوام کو کوئی راحت محسوس نہیں ہو رہی اور نہ ہی ان کی مشکلات کم ہو رہی ہیں۔ حکمران جماعت کی خاموشی یہاں معمول کے حالات کا تاثر دینے کی کوشش ہے۔‘‘
ادھر، علیحدگی پسند رہنما اور انجمنِ شرعی شیعان کے صدر آغا سید حسن موسوی نے کہا کہ ’’حکومتِ ہند نے عوامی ایکشن کمیٹی اور اتحاد المسلمین پر پابندی عائر کر غیر قانونی اور غیر جمہوری فیصلہ کیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’ایسے فیصلے عدالتوں پر چھوڑ دینے چاہئیں۔ حکومت کو ان غیر جمہوری فیصلوں سے باز آنا چاہیے تاکہ خطے میں امن اور بہتر تعلقات قائم رہ سکیں۔‘‘
نیشنل کانفرنس کے سرینگر سے ایم ایل اے سلمان ساگر نے مرکزی حکومت سے عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا: ’’میرواعظ عمر فاروق ایک مذہبی اور سماجی رہنما کے طور پر عوام میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور اس اثر کو مثبت تبدیلی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ پابندی کوئی اچھا قدم نہیں اور اس پر نظرثانی ہونی چاہیے۔‘‘
واضح رہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو 1964 میں سابق میرواعظ کشمیر مولوی محمد فاروق (مرحوم) نے قائم کیا تھا۔ کمیٹی کا دفتر سرینگر کے راجوری کدل علاقے میں واقع ’’میرواعظ منزل‘‘ میں ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے پابندی عائد کیے جانے کے بعد حکام نے آج تنظیم کے دفتر سے ’’عوامی ایکشن کمیٹی‘‘ کا سائن بورڈ ہٹا دیا۔










