امت نیوز ڈیسک //
میانمار میں تباہ کن زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ اسی کے ساتھ اموات کی تعداد بھی مسلسل بڑھتی جا رہے ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اب 1700 سے زیادہ لوگوں کے مرنے کی تصدیق کی جا چکی ہے، جب کہ 3,400 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ وہیں اب تک 300 لوگوں کے لاپتہ ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ میانمار میں ہر طرف کافی بڑے پیمانے پر عمارتوں کے ملبے بکھرے پڑے ہیں۔
یونائیٹڈ سٹیٹس جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے اندازہ لگایا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 10,000 تک پہنچ سکتی ہے۔ زلزلے کا مرکز تاریخی شہر منڈالے کے قریب میانمار کے وسطی ساگانگ علاقے میں واقع تھا۔ اس خطے میں 1.5 ملین سے زیادہ لوگ رہتے ہیں اور یہ علاقہ بری طرح متاثر ہوا ہے، بہت سی عمارتیں، پل اور مندر تباہ ہو گئے ہیں۔
وہیں بینکاک میں زلزلے سے اب تک 18 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ درجنوں افراد منہدم ہونے والی اونچی عمارت کے ملبے تلے دب گئے ہیں۔ زلزلے کے دوران ایک زیر تعمیر عمارت چند ہی منٹوں میں منہدم ہو گئی جس سے 11 افراد ہلاک ہو گئے۔
دارالحکومت میں دیگر مقامات پر مزید سات اموات کی اطلاع ملی ہے کیونکہ حکام اس آفت سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جنگی بنیادوں پر جاری ہے۔ تقریباً 80 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد کے اہل خانہ منہدم ہونے والی عمارت کے مقام پر جمع ہیں، اپنے پیاروں کی خبر کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔
میانمار کے حالات بدترین
میانمار میں آنے والا زلزلہ ایک صدی سے زائد عرصے کے دوران ملک میں آنے والا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔ اس کی شدت 7.7 تھی۔ اس کے بعد زلزلوں کا ایک سلسلہ چلا، جس میں 6.7 شدت کا زلزلہ بھی شامل ہے جس نے ہفتے کے آخر میں علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہیں ملبے تلے دبے لوگوں تک پہنچنے کے لیے ریسکیو ٹیموں کا وقت ختم ہو رہا ہے۔
دریں اثنا میانمار کی فوجی حکومت نے دیگر ممالک سے مدد کی اپیل جاری کی جس کے بعد غیر ملکی امداد اور بین الاقوامی امدادی ٹیمیں میانمار پہنچنا شروع ہو گئیں۔ واضح رہے کہ میانمار روہنگیا بحران کے بعد 2021 سے جاری خانہ جنگی سے نبرد آزما ہے۔ اس زلزلے سے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ لاکھوں لوگوں کو خوراک نہیں مل رہی۔ لوگوں کی بڑی تعداد بے گھر ہوگئی۔









