امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 31 مارچ: میر واعظ عمر فاروق نے سری نگر کی تاریخی عیدگاہ اور جامع مسجد میں ایک بار پھر نماز عید ادا نہ کرنے کی اجازت پر حکام کی شدید مذمت کی ہے۔
انہوں نے پابندیوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گھر میں نظربند بھی کر دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بات کرتے ہوئے میرواعظ عمر فاروق نے روشنی ڈالی کہ 1990 کی دہائی میں عسکریت پسندی کے عروج کے وقت بھی عید کی نماز عیدگاہ میں ادا کی جاتی تھی۔
اب جب حکام کی جانب سے روز بروز ’معمولی صورتحال‘ کے دعوے کیے جاتے ہیں تو مسلمانوں کو ان کے مذہبی مقامات اور عبادات سے کیوں دور رکھا جا رہا ہے؟ کیا ایجنڈا ہے؟ کیا کشمیری مسلمانوں کی اجتماعی شناخت حکمرانوں کے لیے خطرہ ہے؟ اس نے سوال کیا۔
انہوں نے مزید زور دے کر کہا کہ عیدگاہ اور جامع مسجد لوگوں کی ملکیت ہے اور انہیں ان مقدس مقامات پر خاص طور پر عید کے موقع پر نماز ادا کرنے سے روکنا کشمیر میں رائج "جابرانہ اور آمرانہ طرز عمل” کی عکاسی کرتا ہے۔ وادی میں مذہبی پابندیوں نے اکثر سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کی تنقید کو جنم دیا ہے، بہت سے لوگ عبادت گاہوں سے متعلق حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔ (کے این ایس)










