امت نیوز ڈیسک //
سری نگر: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں یہاں گپکار میں واقع نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری کی رہائش گاہ پر جمعہ کے روز منعقدہ اتحادی جماعتوں کے ایک ہنگامی اجلاس میں وقف (ترمیمی) بل اور لیفٹیننٹ گورنر کے حالیہ انتظامی فیصلوں کی مخالفت میں دو اہم قراردادیں منظور کی گئیں۔
نیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس کے بعد نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ اور رکن اسمبلی تنویر صادق نے میڈیا کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا: ‘میٹنگ میں کئی اہم امور پر تفصیلی بحث ہوئی ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘میٹنگ کے دوران دو اہم قرار دادیں پاس کی گئیں ایک قرار داد گذشتہ روز راجیہ سبھا میں پاس کی جانے والی وقف (ترمیمی) بل کے متعلق تھی جس کی الائنس کے تمام شراکت داروں نے مذمت کی ہے’۔ان کا کہنا تھا: ‘ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بل مسلمانوں کے خلاف ہے’۔
موصوف رکن اسمبلی نے کہا: ‘دوسری قرار داد جو پاس ہوئی وہ یہ ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگوں نے جو اسمبلی الیکشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اس الیکشن اور منڈیٹ کا احترام کرنے کی سخت ضرورت ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘جو بھی اس کی عزت نہیں کرتا ہے وہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے منڈیٹ کی توہین کرتا ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘جو ہماری دلی سرکار اور ایل جی انتظامیہ کے ساتھ کوآرڈی نیشن ہے اس کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، ہماری مرکزی حکومت اور ایل جی انتظامیہ سے آخری اپیل ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری مرکزی سرکار اور یہاں ایل جی انتظامیہ کے ساتھ کوآرڈی نیشن ہونی چاہئے لیکن ہماری خاموشی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے’۔انہوں نے کہا کہ ہم محبت اور پیار سے اس حکومت کو چلانا چاہتے ہیں۔
اس موقع پر کانفریس لیڈر نظام الدین بٹ نے بتایا: ‘وزیر اعلیٰ کی دعوت پر طلب کی گئی اس میٹنگ کے دوران سیاسی معاملات اور آئینی و انتظامی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی’۔
انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس کے سینئر لیڈر طارق قرہ اور غلام احمد میر دلی میں کانگریس کی ایک میٹنگ میں شرکت کرنے کی وجہ سے اس میٹنگ میں شرکت نہ کرسکے۔
ان کا کہنا تھا: ‘جتنے بھی الائنس ممبر ہیں وہ سب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ساتھ کھڑے ہیں’۔
موصوف لیڈر نے کہا: ‘جتنے بھی حساس نوعیت کے معاملے ہیں جیسے وقف (ترمیمی) بل، پاپولر گورنمنٹ کا منڈیٹ، لوگوں کی خواہشات وغیرہ، اس کے بارے میں اتفاق ہوا ہے کہ دلی کے ساتھ بھی اور راج بھون کے ساتھ بھی معاملات حل کئے جائیں گے’۔











