• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
پیر, فروری ۲, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
دلت کی باتیں جھوٹ کا بلندہ: ڈاکٹر فاروق

دلت کی باتیں جھوٹ کا بلندہ: ڈاکٹر فاروق

by امت ڈیسک
16/04/2025
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے بدھ کو سراغ رساں ادارے ’را‘ کے سابق سربراہ اے ایس دُلت کے ان دعووں پرشدید ردعمل ظاہر کیا کہ انہوں نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کی ’’درپردہ طور پر حمایت‘‘ کی تھی۔ فاروق عبداللہ نے دلت پر انکی منظر عام پر آنے والی کتاب کی فروخت بڑھانے کے لیے ’’اوچھے ہتھکنڈے‘‘ استعمال کرنےکا الزام عائد کیا ہے۔

فاروق عبداللہ نے دُلت کے ان دعووں کو مسترد کیا کہ انکی جماعت نیشنل کانفرنس نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کی تجویز کو پاس کرنے میں ’’مدد‘‘ کی ہوتی اگر اسے اعتماد میں لیا جاتا، پارٹی کے 87 سالہ صدر نے کہا کہ یہ مصنف کی ’’تخیلاتی کہانی‘‘ ہے۔ دُلت کی کتاب ’’دی چیف منسٹر اینڈ دی اسپائی‘‘ 18 اپریل کو ریلیز ہونے والی ہے۔

عبداللہ نے کہا کہ وہ اور ان کے بیٹے عمر عبداللہ دونوں کو 5 اگست 2019 کو دفعہ 370 کی منسوخی کے وقت کئی مہینوں تک حراست میں رکھا گیا تھا۔ ’’ہمیں اس لیے حراست میں لیا گیا تھا کہ خصوصی درجہ کی منسوخی کے خلاف ہمارا موقف واضح تھا۔‘‘ انہوں نے پی ٹی آئی کو بتایا۔

فاروق عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے جموں و کشمیر میں تمام بڑی سیاسی قوتوں کو اکٹھا کرنے کی پہل کی ہے اور ریاست کی خصوصی حیثیت کے دفاع کے لیے سیاسی جماعتوں کا اتحاد پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (پی اے جی ڈی)تشکیل دیا ہے۔

عبداللہ نے دلت کے اس دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ جموں و کشمیر اسمبلی میں دفعہ 370 کی منسوخی کے لیے ایک قرارداد منظور کی گئی ہوتی۔ فاروق عبداللہ کے مطابق کتاب میں یہ دعویٰ کہ نیشنل کانفرنس خصوصی حیثیت کی منسوخی پر قرارداد منظور کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، محض اس مصنف کے تخیل کی عکاسی ہے جس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ میرا دوست ہے۔

دلت کے استدلال میں خامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے، انہوں نے کہا:ـ ’’مصنف کو نام نہاد یادداشتیں لکھتے وقت عقل کا ایک معیار اپنانا چاہیے تھا۔ اسے یاد رکھنا چاہیے تھا کہ 2018 میں کوئی اسمبلی ایسی نہیں تھی جسے تحلیل کیا جا سکتا ہو۔‘‘

عبداللہ نے اصرار کیا کہ اگر اسمبلی کا اجلاس جاری ہوتا تو بھی وہ ایسی قرارداد پاس کرنے پر غور نہ کرتے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا انہیں کتاب کا جائزہ لینے کا موقع ملا، این سی کے صدر نے کہا کہ یہ کتاب غلط بیانیوں اور غیر واضح کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔ انکے مطابق کچھ دیر پڑھنے کے بعد انہوں نے سوچا کہ وہ ایک افسانہ پڑھ رہے ہیں اور اسے پڑھنا چھوڑ دیا۔

سابق وزیر اعلیٰ نے ایک مخصوص غلطی کا بھی حوالہ دیا جہاں دلت نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے فاروق عبداللہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ چھوٹی کابینہ کے ساتھ حلف اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے 25 وزراء کے ساتھ حلف اٹھایا تھا اور یہ کوئی چھوٹی تعداد نہیں ہے۔ عبداللہ نے ان کے تعلقات کے بارے میں دلت کے دعووں کو مسترد کر دیا، خاص طور پر یہ دعویٰ کہ وہ اکثر دلت کے مشورے پر دھیان دیتے ہیں۔

مصنف کا دعویٰ ہے کہ عبداللہ ہمیشہ ان کے مشوروں کو سنتا تھا، جو کہ مجھے کم تر ثابت کرنے کی ایک اور مثال ہے۔ میں اپنے ذہن کا آدمی ہوں، اور میں صرف فیصلہ کرتا ہوں۔ میں کسی کا کٹھ پتلی نہیں ہوں، فاروق عبداللہ نے کہا۔

دلت کے اس دعوے کے بارے میں کہ این سی بی جے پی کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتی ہے، عبداللہ نے اس کی سختی سے تردید کی۔ ’’دلت کا یہ دعویٰ کہ نیشنل کانفرنس بی جے پی کے قریب جانا چاہتی ہے سراسر جھوٹ ہے کیونکہ میں وہ نہیں ہوں جو کسی ایسی پارٹی کے ساتھ گٹھ جوڑ کروں جو میری پارٹی کو تباہ کرنے کے لیے کمر بستہ ہے۔‘‘

عبداللہ نے دلت کی حرکتوں پر مایوسی کا اظہار کیا۔ ’’سب سے بری بات یہ ہے کہ وہ میرا دوست ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اور جیسا کہ کہا گیا ہے، جسم پر کوئی وار کرتا ہے تو یہ ٹھیک ہو جاتا ہے، لیکن دل کو چوٹ لگتی ہے، اور زخم زندگی بھر رہتا ہے، اور میرا اندازہ ہے کہ اس کی غیر واضح کہانوں کی تکلیف اور وہ بھی صرف سستی تشہیر کے لیے، اب زندگی بھر رہے گی۔‘‘

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

سپریم کورٹ نے وقف ترمیمی ایکٹ چیلنج پر عبوری حکم پاس کرنے کی تجویز پیش کی

Next Post

مستقبل میں معروف فنکار بننے کی متنظر سبرینا فردوس ایک منفرد مجسمہ ساز سے ملیں

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کھیلے گا، مگر بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرے گا

پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کھیلے گا، مگر بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرے گا

01/02/2026
چابہار پورٹ پروجیکٹ کے لیے فنڈز نہیں مختص، امریکہ کی نئی پابندیوں کے تناظر میں بھارت کی حکمت عملی

چابہار پورٹ پروجیکٹ کے لیے فنڈز نہیں مختص، امریکہ کی نئی پابندیوں کے تناظر میں بھارت کی حکمت عملی

01/02/2026
یونین بجٹ 2026–27: جموں و کشمیر کے لیے 43,290 کروڑ روپے مختص

خواتین کو فائدہ، شراب اور سگریٹ پر ضرب، جانیں کیا سستا ہوا اور کیا مہنگا

01/02/2026
بڈگام پولیس نے ہٹ اینڈ رن کیس کو حل کیا، ڈرائیور سمیت تین گرفتار: پولیس

راجستھان کے کوٹا میں مشکوک چندہ جمع کرنے کے الزام میں جموں و کشمیر کے پانچ افراد حراست میں کوٹا، یکم فروری (کے این ٹی): راجستھان کے ضلع کوٹا میں پولیس نے مشکوک سرگرمیوں کے تحت چندہ جمع کرنے کے الزام میں جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو گرفتار جبکہ تین دیگر کو حراست میں لے لیا ہے، حکام نے اتوار کو بتایا۔ پولیس کے مطابق پونچھ ضلع کے رہائشی تین افراد کو ہفتہ کے روز بھیم گنج منڈی پولیس نے اس وقت حراست میں لیا جب وہ مبینہ طور پر مدارس کے لیے چندہ جمع کر رہے تھے۔ یہ تینوں ایک گیسٹ ہاؤس میں مقیم تھے، جہاں سے انہیں پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں لیا گیا۔ بھیم گنج منڈی تھانہ انچارج رام کرشن گودارا نے بتایا کہ زیر حراست افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے اور تاحال کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس راجستھان آمد کے مقصد اور چندہ جمع کرنے سے متعلق دعوؤں کی تصدیق کر رہی ہے، جس کے لیے جموں و کشمیر کے حکام سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی ہے جب چند روز قبل، 24 جنوری کو، پونچھ ضلع سے تعلق رکھنے والے دو دیگر افراد کو کوٹا پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ حکام کے مطابق یہ دونوں بھی اسی گیسٹ ہاؤس میں مقیم تھے اور بعد ازاں انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ اسٹیشن افسر لائق احمد نے بتایا کہ گرفتار افراد پر غیر قانونی طور پر چندہ جمع کرنے اور امن و امان میں خلل ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں افراد سے مشترکہ تفتیشی کمیٹی (جے آئی سی) نے بھی پوچھ گچھ کی ہے۔ پولیس کے مطابق دستاویزات کی جانچ سے معلوم ہوا کہ گرفتار افراد میں سے ایک کو صرف مدھیہ پردیش میں چندہ جمع کرنے کی اجازت حاصل تھی، مگر وہ کوٹا، راجستھان میں سرگرم تھا۔ جبکہ دوسرے فرد کے معاملے میں دستاویزات سے پتہ چلا کہ جس مدرسے کے لیے چندہ جمع کیا جا رہا تھا، وہ 2025 میں بند ہو چکا ہے۔ دونوں گرفتار افراد کی شناخت فاروق کے نام سے ہوئی ہے اور وہ سورنکوٹ، ضلع پونچھ کے رہائشی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید جانچ جاری ہے اور تفتیش کے نتائج کی بنیاد پر مناسب قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی

01/02/2026
یونین بجٹ 2026–27: جموں و کشمیر کے لیے 43,290 کروڑ روپے مختص

یونین بجٹ 2026–27: جموں و کشمیر کے لیے 43,290 کروڑ روپے مختص

01/02/2026
نرملا سیتا رمن کا بڑا اعلان: ہر ضلع میں گرلز ہاسٹل بنایا جائے گا

نرملا سیتا رمن کا بڑا اعلان: ہر ضلع میں گرلز ہاسٹل بنایا جائے گا

01/02/2026
Next Post
مستقبل میں معروف فنکار بننے کی متنظر  سبرینا فردوس ایک منفرد مجسمہ ساز سے ملیں

مستقبل میں معروف فنکار بننے کی متنظر سبرینا فردوس ایک منفرد مجسمہ ساز سے ملیں

سائبر پولیس نے سری نگر، گاندربل میں متعدد مقامات پر چھاپے مارے

سائبر پولیس نے سری نگر، گاندربل میں متعدد مقامات پر چھاپے مارے

کشمیر کے متعدد علاقوں میں بجلی سپلائی متاثر، کے پی ڈی سی ایل کاشٹ ڈاؤن شیڈول جاری

کشمیر کے متعدد علاقوں میں بجلی سپلائی متاثر، کے پی ڈی سی ایل کاشٹ ڈاؤن شیڈول جاری

سپریم کورٹ میں وقف قانون پر سماعت، فی الحال کوئی تقرری یا پراپرٹی کا اسٹیٹس تبدیل نہیں ہوگا، مرکز کا وعدہ

سپریم کورٹ میں وقف قانون پر سماعت، فی الحال کوئی تقرری یا پراپرٹی کا اسٹیٹس تبدیل نہیں ہوگا، مرکز کا وعدہ

ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ کشمیری پنڈتوں جیسا سلوک نہ کریں، وقف ایکٹ پر محبوبہ کا رد عمل

ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ کشمیری پنڈتوں جیسا سلوک نہ کریں، وقف ایکٹ پر محبوبہ کا رد عمل

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »