امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے آج حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر زور دیا کہ وہ ’’ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ وہ سلوک بند کرے جس طرح عسکریت پسندوں نے کشمیری پنڈتوں کے ساتھ کیا۔‘‘
محبوبہ نے سرینگر میں وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف پی ڈی پی کے ایک اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی اس مشکل وقت میں ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
محبوبہ نے 1990 کی دہائی میں وادی کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "میں بی جے پی کو بتانا چاہتی ہوں کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ وہ سلوک بند کرے جس طرح کشمیر میں عسکریت پسند نے کشمیری پنڈتوں کے ساتھ کیا۔”
محبوبہ نے کہا کہ بی جے پی حکومت کو احساس برتری اور تکبر سے باہر نکلنا چاہیے اور جموں و کشمیر میں یو اے پی اے، پی ایس اے، لوگوں پر چھاپے، این آئی اے، پاسپورٹ سے انکار، اور ملازمین کی برطرفی کا سلسلہ روکنا چاہیے۔
"آپ کو کشمیریوں کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے کیونکہ آپ کے اپنے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے۔ پاکستان کی باری (بات چیت کے لیے) بعد میں آسکتی ہے۔ آپ کو یہاں کے لوگوں کے دل جیتنے ہوں گے۔ جموں و کشمیر ملک کا تاج ہے، اسے تاج کے طور پر رہنے دیا جائے۔” انہوں نے کہا۔
سرینگر میں وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف پی ڈی پی کا اجتماع
سرینگر میں وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف پی ڈی پی کا اجتماع (ETV Bharat)
پی ڈی پی نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کی مخالفت کے لیے سرینگر میں ایک اجتماع کا اہتمام کیا، جسے حال ہی میں پارلیمنٹ نے منظور کیا گیا گیا۔ سینکڑوں پارٹی کارکن اس اجتماع میں شریک ہوئے۔ احتجاجی کارکنان نے "ہم وقف ایکٹ کو مسترد کرتے ہیں” جیسی تحریروں والے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔
یوٹی کی عمر حکومت کے موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے محبوبہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ اس مشکل وقت میں ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود کہ این سی حکومت نے انہیں چھوڑ دیا ہے اور ان کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی۔
جموں و کشمیر حکومت نے نئے وقف قانون کے خلاف اسمبلی میں کوئی قرارداد پاس نہیں کی کیونکہ اسپیکر نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ این سی کے قانون سازوں نے بحث کے لیے زور دیا تھا، جب کہ اپوزیشن پی ڈی پی چاہتی تھی کہ مقننہ ایکٹ کی مخالفت میں قرارداد پاس کرے۔
وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ کے مشاہدات پر پی ڈی پی لیڈر نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ "وقف (ترمیمی) ایکٹ کے خلاف فیصلے سنائے گا۔”
جموں و کشمیر کی موجودہ صورت حال پر انہوں نے کہا کہ حالات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پی ڈی پی کو وقف ترمیمی ایکٹ اور فلسطین کے خلاف احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
"ہم وقف ایکٹ کے خلاف اور فلسطین کے لوگوں کے لیے احتجاج کرنا چاہتے تھے، لیکن اجازت نہیں دی گئی۔ اس لیے اگر ایک چھوٹا سا احتجاج جموں و کشمیر کا امن خراب کر سکتا ہے، تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ صورت حال کیسی ہے”۔
را کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دولت کی نئی کتاب ‘دی چیف منسٹر اینڈ دی اسپائی’ میں کیے گئے دعووں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے محبوبہ نے کہا کہ یہ انکشافات نئے نہیں ہیں کیونکہ عبداللہ خاندان کے بی جے پی کے ساتھ تعلقات پرانے ہیں۔










