امت نیوز ڈیسک //
سرینگر : میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے ایک ماہ کی مسلسل نظر بندی کے بعد پہلی بار مرکزی جامع مسجدسرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مجھے بار بار جمعة المبارک کے دن جامع مسجد میں اپنی منصبی ذمہ داریاں نبھانے اور نماز ادا کرنے سے روکنا نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ یہ عمل میرے لیے اور ان تمام لوگوں کے لیے بھی نہایت تکلیف دہ ہے جو یہاں آ کر قال اللہ وقال الرسول ﷺ سے فیضیاب ہوتے ہیں۔ انہوں نے شدید افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی انتظامیہ کا یہ طرز عمل وادی کے تمام مسلمانوں کے لئے نہایت ہی اذیت ناک ہے۔ انہوں کہا کہ ’میں ایک بار پھر حکام سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ان پابندیوں کے سلسلے کو بند کریں‘۔
میرواعظ نے پہلگام حملہ پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کشمیر کے سیاحتی مرکز پہلگام میں ایک نہایت ہی دل دہلا دینے والا سانحہ پیش آیا، جس نے ہمارے دل زخمی کر دیئے ہیں۔ لوگوں کی شناخت کے بعد اور ان کے اہل خانہ کے سامنے جس انداز سے نہتے افراد کا قتل عام کیا گیا، وہ ناقابل بیان اور ناقابل یقین ہے۔ ہم اس ہولناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جن قوموں نے خود دہائیوں سے اس طرح کے غم سہے ہوں وہی اس درد کو بہتر جان سکتی ہیں کہ اس دکھ کا کیا مطلب ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ اس وقت جب میں آپ سے مخاطب ہوں تو آپ کو وہ المناک سانحہ یاد ہوگا کیونکہ اسلامی کلینڈر کے مطابق یہ میرے والد شہید ملت میرواعظ مولوی محمد فاروق صاحبؒ اور اُن کے ساتھ شہید ہونے والے ستر سے زائد افراد کی شہادت کی 36ویں برسی بھی ہے۔
عمر فاروق نے پہلگام میں ہوئے خونین سانحہ میں ہلاک ہونے والوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا گو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کشمیری عوام ہمیشہ سے باہر سے آنے والوں خصوصاً سیاحوں کے لیے اپنے دل اور گھر کے دروازے کھولتے آئے ہیں۔ مہمان نوازی ہماری پہچان ہے اور کشمیری عوام نے اس المناک موقع پر ایک بار پھر انسانیت، ایثار اور مدد کے جذبے کو زندہ کیا۔ جب کوئی مدد موجود نہ تھی، مقامی لوگوں نے خود جان کا خطرہ مول لے کر زخمیوں اور متاثرین کی مدد کی۔ ان ہی میں سے ایک نوجوان کشمیری گھوڑا بان عادل حسین نے دوسروں کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی۔ ہم اس بہادر نوجوان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جبکہ دیگر لوگوں نے زخمیوں کو اپنی پیٹھ پر اٹھا کر میلوں پیدل چل کر ہسپتالوں تک پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے ہر ممکن انداز میں سیاحوں کی مدد کی، جیسا کہ وہ ویڈیوز ظاہر کرتی ہیں جن میں سیاح شکریہ ادا کر رہے ہیں کہ کیسے لوگوں نے ان کے لئے اپنے گھر کھول دیے، انہیں کھانا فراہم کیا، ایئرپورٹس تک مفت پہنچایا اور جذباتی سہارا دیا۔ میرواعظ نے کہا کہ کشمیری عوام نے اس انسانی سانحہ کیخلاف اپنی بھر پور ناراضگی کا اظہار کرنے کیلئے ایک دن کی مکمل ہڑتال کی، خاموش احتجاج اور شمع بردار اجتماعات منعقد کیے، اور ان ہلاکتوں کی یاد میں یکجہتی کا مظاہرہ کرکے پوری دنیا کو ایک واضح پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ ملک کے ذرائع ابلاغ کا ایک بڑاطبقہ اس سانحے کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر کشمیریوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ پھیلا رہا ہے، جس کے باعث بھارت بھر میں کشمیری، خاص طور پر طلباء، شدید عدم تحفظ کا شکار ہو گئے ہیں اور انہیں شہروں اور قصبوں سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑا ہے جس سے ان کے اہلِ خانہ اور ہم سب کو شدید پریشانی لاحق ہے۔
میرواعظ نے ملک کی مختلف ریاستوں کی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ کشمیری طلباءاور دیگر شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنائیں۔ میرواعظ نے حکام سے مطالبہ کیا کہ انہیں پہلگام سانحہ میں زخمیوں کی عیادت کے لیے ہسپتال جانے اور شہید عادل حسین کے گھر جا کر ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرنے کی اجازت دی جائے۔ نماز جمعہ سے قبل پہلگام سانحہ میں ہلاک ہوئے افراد کے اہل خانہ کے تئیں اظہارِ یکجہتی کے طور پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئیں۔










