امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے روح افزا سے متعلق متنازعہ بیان دینے پر بابا رام دیو کی سرزنش کی ہے۔ جسٹس امیت بنسل کی بنچ نے کہا کہ بابا رام دیو کسی کے کنٹرول میں نہیں ہیں اور وہ اپنی دنیا میں مگن ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اب ہم بابا رام دیو کے خلاف توہین عداتل کا نوٹس جاری کریں گے اور انہیں عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔
دہلی ہائی کورٹ کی پھٹکار کے بعد بابا رام دیو نے روح افزا معاملے پر اپنا متنازعہ ویڈیو ہٹانے کی یقین دہانی کرائی۔ بابا رام دیو کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ وہ متنازعہ ویڈیو کو ہٹا دیں گے۔ اس کے بعد جسٹس امیت بنسل کی بنچ نے اس کیس کی سماعت 2 مئی تک ملتوی کرنے کا حکم دیا۔
جمعرات کی صبح جب عدالت کو بتایا گیا کہ کور کی وارننگ کے باوجود بابا رام دیو نے روح افزا سے متعلق ایک نیا ویڈیو جاری کیا ہے تو عدالت نے بابا رام دیو کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کو کہا۔ عدالت نے کہا کہ بابا رام دیو کسی کے کنٹرول میں نہیں ہیں اور اپنی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ اب ہم بابا رام دیو کے خلاف توہین کا نوٹس جاری کریں گے، انہیں عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔ اس کے بعد جب دوپہر کو دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو بابا رام دیو کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل راجیو نیر نے کہا کہ متنازعہ ویڈیو کو 24 گھنٹے کے اندر ہٹا دیا جائے گا۔
دراصل روح افزا پر بیان نہ دینے کے ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود بابا رام دیو نے قابل اعتراض بیان دیتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کیا۔ عدالت نے کہا کہ یہ توہین عدالت کا کیس ہے۔ قبل ازیں 22 اپریل کو عدالت نے کہا تھا کہ بابا رام دیو کے بیان نے عدالت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے اور یہ ناقابل معافی ہے۔
آپ کو بتا دیں کہ ہمدرد نیشنل فاؤنڈیشن انڈیا نے پتانجلی کے خلاف عرضی دائر کی ہے۔ کمپنی کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل مکل روہتگی نے کہا تھا کہ بابا رام دیو نے کمپنی کے خلاف متنازعہ بیانات دیئے اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔ بابا رام دیو کا بیان مذہبی تقسیم پیدا کرتا ہے اور نفرت انگیز تقریر کے دائرہ میں آتا ہے۔ بیان ہتک عزت کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ وکیل نے ععدالت سے مزید گذارش کی تھی کہ ’بابا رام دیو کے جاری کردہ ویڈیوز کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ ان کے ساتھ سختی سے نمٹنے کی ضرورت ہے‘۔











