امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر کے مذہبی رہنما میرواعظ مولوی عمر فاروق نے جمعہ کو کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی جنگ میں تبدیل نہیں ہوگی، اور انہوں نے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ ملک بدری کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔میرواعظ مولوی عمر فاروق نے جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے امن کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ خطے نے طویل عرصے سے تنازعات کا سامنا کیا ہے۔ انہوں نے نئی دہلی میں حکام سے کہا کہ وہ پاکستانی شہریت رکھنے والے لوگوں کی ملک بدری کے فیصلے کو ازسر نو غور کریں، جو ان کے خیال میں علاقے میں بات چیت اور مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپوں سے کشمیر کے لوگوں میں خوف پیدا ہوا ہے، اور انہوں نے زور دیا کہ بات چیت ہی تنازعات کو حل کرنے کا واحد راستہ ہے۔ میرواعظ مولوی عمرفاروق نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی امنگوں کو سنا جانا چاہیے اور انہیں سیاسی عمل کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے پہلگام حملے کے بعدملک کے کچھ حلقوں میں کشمیریوں کو نشانہ بنانے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔22 اپریل کو پہلگام حملے کے بعد یہ لگاتار دوسرا جمعہ تھا جب وادی کے چیف عالم میر واعظ کو جامع مسجد میں اپنا روایتی خطبہ دینے کی اجازت دی گئی۔2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد چار سال کی نظر بندی جھیلنے والے میر واعظ نے خطبہ جمعہ میں کہا کہ پہلگام کے ہولناک واقعے کے بعد رونما ہونے والے واقعات نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا ہے کہ جب بھی ایسی چیزیں ہوتی ہیں، یہ کشمیر کے لوگ ہی ہوتے ہیں جو ان کے ظلم و ستم کو برداشت کرتے ہیں اور کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں۔









