امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: یورپی یونین نے نئی دہلی اور اسلام آباد سے "تحمل” کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بات چیت کا راستہ اختیار کریں تاکہ خطے میں پیدا ہوئی کشیدگی ختم ہو جائے۔
یہ مطالبہ گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر کے پہلگام میں ہوئے حملے کے پس منظر میں کیا گیا ہے جس کے بعد خدشات ظاہر کئے جارہے کہ ہندوستان کی حکومت پاکستان کے خلاف ممکنہ جوابی کارروائی کرے گی۔
خارجہ امور کے وزیر ایس جے شنکر اور پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے ساتھ الگ الگ فون پر بات چیت کے بعد یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے برائے خارجہ امور کاجا کالس نے کہا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی "خطرناک” ہے اور صورت حال کے بڑھنے سے کسی کو مدد نہیں ملتی۔
انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی تشویشناک ہے۔ میں دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بات چیت کو آگے بڑھانے کی درخواست کرتی ہوں۔انہوں نے اسحاق ڈار اور جے شنکر کے ایکس ہینڈلز کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے یہ باتیں ان دونوں رہنماؤں کے ساتھ کی ہیں وزیر کارجہ ہند جے شنکر نے یورپی یونین کی دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہروں کی "سخت مذمت” کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اپنے جوابی پیغام میں لکھا کہ یورپی یونین کی کاجا کالس کے ساتھ بات کرکے اچھا محسوس ہوا۔جے شنکر نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا ہم نے پہلگام دہشت گردانہ حملے پر تبادلہ خیال کیا۔ تمام شکلوں اور مظاہر میں دہشت گردی کی یورپی یونین کی سخت مذمت کا خیر مقدم کرتے ہیں، ۔یورپی یونین کی طرف سے ہندوستان اور پاکستان کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے ایسے ہی مطالبے کے دو دن بعد سامنے آیا۔ روبیو نے بدھ کو پہلگام دہشت گردانہ حملے پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے دونوں ممالک پر مل کر کام کرنے کی اپیل کی۔
روبیو نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور جے شنکر سے بات کی تھی اور دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے حملے، جس میں 26 افراد، زیادہ تر سیاح، ہلاک مسئلے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان صبر و تحمل برتنے کا مشورہ دیا تھا۔ بھارت نے اس حملے میں ملوث افراد کو سخت سزا دینے کا وعدہ کیا ہے۔









