امت نیوز ڈیسک //
جموں : پاکستانی خاتون سے شادی چھپانے کے الزام میں برطرفی کے بعد، سی آر پی ایف کے اہلکار منیر احمد نے ہفتے کے روز جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی شادی فورس کے ہیڈکوارٹر سے اجازت ملنے کے تقریباً ایک ماہ بعد کی تھی۔
منیر احمد، جو جموں کے گھروٹہ علاقے کے رہائشی ہیں اور اپریل 2017 میں سی آر پی ایف میں شامل ہوئے تھے، نے کہا کہ وہ اپنی برطرفی کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ، مجھے انصاف ملنے کا یقین ہے۔ سی آر پی ایف نے احمد کو پاکستانی خاتون مینل خان سے شادی چھپانے اور اس کی ویزا مدت ختم ہونے کے بعد بھی اسے اپنے پاس رکھنے کے الزام میں برطرف کیا، اور کہا کہ ان کا یہ عمل قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔
پریس کانفرنس میں منیر احمد نے کہا، مجھے اپنی برطرفی کی خبر سب سے پہلے میڈیا رپورٹس سے ملی۔ تھوڑی دیر بعد مجھے سی آر پی ایف کی جانب سے برطرفی کا باضابطہ خط موصول ہوا جو میرے اور میرے خاندان کے لیے ایک صدمہ تھا، کیونکہ میں نے پاکستانی خاتون سے شادی کے لیے باقاعدہ اجازت لی تھی۔ احمد اور مینل کی شادی اس وقت منظر عام پر آئی جب پہلگام حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد بھارت نے پاکستانی شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت دی۔
مینل خان 28 فروری کو واہگہ-اٹاری بارڈر کے ذریعے بھارت میں داخل ہوئیں اور ان کا قلیل مدتی ویزا 22 مارچ کو ختم ہو گیا۔ تاہم، ان کی ملک بدری کو عدالت عالیہ نے روک دیا اور وہ اس وقت منیر احمد کے جموں والے گھر میں مقیم ہیں۔
منیر احمد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے 31 دسمبر 2022 کو پہلی بار اپنی شادی کی خواہش سے متعلق اطلاع دی تھی اور مجھے ضروری دستاویزات جیسے پاسپورٹ، نکاح کارڈ اور حلف نامے جمع کرانے کے لیے کہا گیا۔ میں نے والدین، سرپنچ اور ڈی ڈی سی ممبر کے حلف ناموں کے ساتھ تمام دستاویزات مکمل طور پر جمع کروائیں اور 30 اپریل 2024 کو ہیڈکوارٹر سے اجازت حاصل کی۔
منیر احمد نے بتایا کہ انہوں نے این او سی کے لیے بھی درخواست دی تھی لیکن انہیں بتایا گیا کہ ایسی کوئی شق موجود نہیں، کیونکہ انہوں نے تمام مطلوبہ کارروائی مکمل کر لی تھی۔ انھوں نے کہا، ہم نے 24 مئی 2024 کو آن لائن نکاح کیا اور بعد میں میں نے نکاح کی تصاویر، نکاح نامہ اور سرٹیفکیٹ اپنی 72 بٹالین میں جمع کروا دیے۔
مینل جب پہلی بار 28 فروری کو پندرہ دن کے ویزے پر آئیں، تو ہم نے مارچ میں طویل مدتی ویزا کے لیے درخواست دی اور انٹرویو سمیت تمام کارروائیاں مکمل کیں۔
عدالت عالیہ نے آخری لمحے میں ان کی اہلیہ کی ملک بدری پر روک لگائی، جس سے انہیں بڑی راحت ملی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ چھٹی ختم ہونے کے بعد اپنی ڈیوٹی پر واپس آ گئے تھے اور 25 مارچ کو انہیں سنیدربنی ہیڈکوارٹر میں رپورٹ کرنے کو کہا گیا۔ لیکن 27 مارچ کو اچانک ان کا تبادلہ کر کے بھوپال کی 41ویں بٹالین میں تعینات کر دیا گیا، مجھے حکم کی کاپی دے کر فوراً روانہ کیا گیا اور میں 29 مارچ کو بھوپال پہنچا، جہاں میں نے کمانڈنگ آفیسر اور ان کے نائب کو انٹرویو دیا اور اپنی دستاویزات مکمل کیں، جس میں میں نے پاکستانی خاتون سے اپنی شادی واضح طور پر درج کی۔ میں نے بٹالین کے ڈیٹا ریکارڈ میں بھی یہ اندراج کیا۔
منیر احمد نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وہ چند دنوں میں عدالت سے رجوع کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ، مجھے یقین ہے کہ عدالت سے انصاف ملے گا








